پاکستان اور قطر کی مشترکہ ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے ٹیکنیکل سطح کے امن مذاکرات کے لیے نامزد ایرانی اور امریکی وفود کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد، جس کی قیادت وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں، آج رات سوئٹزرلینڈ کے لیے روانہ ہوگا۔ اس وفد میں ایران کی سیاسی، سیکیورٹی اور معاشی نظام کی طاقتور ترین شخصیات کو شامل کیا گیا ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ہائی پروفائل ایرانی وفد میں اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف، سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے بین الاقوامی امور کے نائب علی باقری کنی، گورنر مرکزی بینک آف ایرانعبدالناصر ہمتی، نائب وزرائے خارجہ کاظم غریب آبادی اور سعید خطیب زادہ اور نائب وزیرِ تیل اور نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے سربراہ حمید بورد شامل ہیں۔
ہم نے معاہدہ توڑنے کے لیے نہیں کیا، ایرانی وزارتِ خارجہ کا انتباہ
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے وفد کی روانگی کے موقع پر تہران کا مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ وفد سوئٹزرلینڈ میں بنیادی طور پر دوسرے فریق (امریکا) کی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کا باریک بینی سے جائزہ لے گا اور اس بات کی وضاحت طلب کرے گا کہ معاہدے پر کس حد تک عمل کیا جا رہا ہے’۔
انہوں نے کہا کہ ’اگر معاہدے کے کسی ایک حصے پر بھی عمل درآمد نہ ہوا تو پورا سمجھوتا متاثر ہو سکتا ہے۔ ہم نے معاہدہ اس لیے نہیں کیا کہ اس پر عمل نہ ہو، ہمارا واضح مؤقف ہے کہ ذمہ داری کے بدلے ذمہ داری پوری کی جائے۔
دوسری جانب پاکستان نے قطر کے ساتھ مل کر اس نازک سفارتی عمل کو آگے بڑھانے اور ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ‘ کے مکمل نفاذ کے لیے اپنی بھرپور سفارتی کوششیں جاری رکھنے کا عزم دہرایا ہے۔
جے ڈی وینس امریکی ٹیم کے ’چیف مذاکرات کار‘مقرر
اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اشارہ دیا تھا کہ اعلیٰ سطح کے مذاکرات اتوار تک شروع ہو سکتے ہیں، جو ایرانی، پاکستانی اور قطری وفود کی جنیوا آمد پر منحصر ہوں گے۔
اب تازہ ترین میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس خود بھی اس مذاکراتی ٹیم کا حصہ بننے جا رہے ہیں اور وہ سوئٹزرلینڈ کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی ثالثی سے امریکا اور ایران کے درمیان 110 روزہ تنازع ختم، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط
ایک روز قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جے ڈی وینس کے حوالے سے اہم اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’وہ ایران کے ساتھ ہونے والے ان اہم ترین مذاکرات میں امریکا کی طرف سے چیف مذاکرات کار کی ذمہ داری نبھائیں گے’۔
لاجسٹک مسائل اور لبنان کی سیکیورٹی صورتحال
یاد رہے کہ یہ امریکی پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب ایک روز قبل ہی وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ نائب صدر جے ڈی وینس فی الحال سوئٹزرلینڈ کا دورہ نہیں کریں گے۔ امریکی انتظامیہ کے مطابق وہ فیصلہ آئندہ مرحلے کے مذاکرات سے متعلق بعض لاجسٹک اور انتظامی مسائل کے باعث کیا گیا تھا، جسے اب تبدیل کر دیا گیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے امریکی ویب سائٹ ’ایکسیوس‘ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی سوئٹزرلینڈ جا رہے ہیں، جہاں گزشتہ دنوں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور شروع ہونا تھا، تاہم لبنان میں سیکیورٹی صورتحال میں پیدا ہونے والی اچانک کشیدگی کے باعث ان مذاکرات کا آغاز عارضی طور پر مؤخر کر دیا گیا تھا جو اب دوبارہ بحال ہو رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف کے علاوہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر جیرڈ کشنر پہلے ہی وہاں موجود ہیں، دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی بھی سوئٹزرلینڈ میں موجود ہیں تاکہ جوہری مذاکرات کے تکنیکی پہلوؤں میں مدد فراہم کر سکیں۔













