سوئس وزارت خارجہ نے پاکستان کے وفد جس میں وزیراعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شامل ہیں، کے سوئٹزرلینڈ پہنچنے کی تصدیق کرتے ہوئے شاندار انداز میں خوش آمدید کہا ہے۔
حالیہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ‘کے بعد اب برگنسٹاک ریزورٹ میں اگلے مرحلے کی بات چیت شروع ہونے جا رہی ہے جس کے لیے پاکستان اور قطر کے ثالثی وفود بھی پہنچ گئے ہیں اور دونوں ممالک ایران اور امریکا کا مذاکرات کار وفد بھی پہنچ چکا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس ‘ پر سوئس منسٹری آف فارن آفیئرز نے ایک پوسٹ جاری کی ہے جس میں خصوصی طور پر کہا گیا ہے کہ ’ہم سوئٹزرلینڈ میں پاکستانی وفد کی آمد کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
We welcome the arrival of the Pakistani delegation in #Switzerland.
As one of the mediators of the MoU signed between the #UnitedStates and #Iran, the Pakistani delegation is on its way to the Bürgenstock for the next phase of discussions. pic.twitter.com/BU7XoBmrnu
— Swiss MFA (@SwissMFA) June 21, 2026
سوئس فارن منسٹری نے پاکستانی وفد سے متعلق لکھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان دستخط شدہ ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے ایک ثالث کے طور پر، پاکستانی وفد اب بات چیت کے اگلے مرحلے کے لیے برگن سٹاک پہنچ چکا ہے۔
سفارتی رفتار میں اضافہ پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان ابتدائی مفاہمت میں اہم ثالثی کردار ادا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا، ایران امن مذاکرات مختصر تعطل کے بعد بحال، سوئٹزر لینڈ نے بھی تصدیق کردی
رپورٹس کے مطابق، وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت پاکستانی اعلیٰ حکام قطری ثالثوں کے ہمراہ سوئس بات چیت میں شریک ہیں۔
وسطی سوئٹزرلینڈ کے مشہور برگنسٹاک لگژری ریزورٹ میں یہ حساس تکنیکی سطح کی ملاقاتیں ہو رہی ہیں، جہاں امریکا اور ایران کے وفود بھی شرکت کریں گے۔
سوئٹزرلینڈ نے غیر جانبدار میزبان کے طور پر تمام فریقوں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھا ہے۔یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں سیز فائر مستحکم کرنے، اہم سمندری راستوں کی نیویگیشن اور علاقائی استحکام سے متعلق کوششوں کے تناظر میں ہو رہی ہے۔
پاکستانی حکام نے تعمیری مکالمے اور علاقائی امن کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے۔پس منظر اور اہمیت اسلام آباد میں طے پانے والی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ ایک اہم سفارتی کامیابی تھی، جس میں پاکستان اور قطر نے طویل مدتی حریفوں کے درمیان خلا کو پاٹنے میں مدد کی۔
مزید پڑھیں:امن کے لیے پاکستان کی کوششیں جاری، ایران امریکا حتمی مذاکرات کے کیا امکانات ہیں؟














