وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں امریکی اور ایرانی وفود سے ملاقاتیں کی ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پہلے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کی، جس میں امریکا ایران مذاکرات، علاقائی امن اور سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا، اور اس کے بعد ایرانی وفد سے ملاقات ہوئی۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سوئٹزرلینڈ میں جاری اہم سفارتی سرگرمیوں میں شریک ہیں، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ (ایم او یو) پر عملدرآمد کے لیے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ ملاقات میں امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی موجود تھے۔
"We love Pakistan"
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان کی امن کوششوں کے معترف ! pic.twitter.com/ip1GsQZrG3— WE News (@WENewsPk) June 21, 2026
میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر برگن اسٹاک میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں شریک ہو رہے ہیں، جو امریکا اور ایران کے درمیان 17 جون کو طے پانے والے معاہدے کے بعد پہلا اہم سفارتی مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ملاقات کے دوران پاکستان، امریکا اور دیگر فریقین کے درمیان خطے میں کشیدگی کم کرنے، مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے اور دیرپا امن کے لیے اقدامات پر گفتگو ہوئی۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی وفد سے ملاقات
دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایرانی وفد سے ملاقات کی۔
برگن اسٹاک میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی وفد سے ملاقات !
ایرانی وفد میں اسپیکر باقر قالیباف اور وزیرخارجہ عباس عراقچی شامل ہیں pic.twitter.com/MoDy7FjmUa— WE News (@WENewsPk) June 21, 2026
ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کی۔
یہ ملاقات امریکا ایران ٹیکنیکل لیول مذاکرات کے موقع پر ہوئی، جو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے فالو اَپ کے طور پر برگن اسٹاک سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز پر ٹول تنازع، ’امریکا کے سوا کوئی فیس نہیں لگے گی‘،ٹرمپ کی سخت وارننگ
دفتر خارجہ کے مطابق ان مذاکرات میں ایران، قطر اور امریکا کے اعلیٰ سطحی وفود بھی شریک ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے ابتدا سے ہی امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور سفارتی حل کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کا کردار ایک متوازن، اصولی اور تعمیری سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔
🔊PR No.1️⃣4️⃣9️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Curtain Raiser:High-Level Talks on the Implementation of Islamabad Memorandum of Understanding (Bürgenstock, Switzerland-21 June,2026)
🔗⬇️ pic.twitter.com/N7NoLYHXuv
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 21, 2026
وزیراعظم شہباز شریف دورے کے دوران ایران، قطر، امریکا اور سوئٹزرلینڈ کے وفود سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں باہمی تعاون اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
Zürich: 21 June 2026.
Prime Minister and Field Marshal to participate in the High-Level Talks on the implementation of the Islamabad Memorandum of Understanding being held in Burgenstock, Switzerland, on 21st of June 2026.
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif has arrived in… pic.twitter.com/PGEL9vIVsl
— Prime Minister's Office (@PakPMO) June 21, 2026
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ معاہدے کے بعد بھی خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ سفارتی کوششوں کا مقصد فریقین کے درمیان اعتماد سازی اور امن عمل کو مزید آگے بڑھانا ہے۔آبنائے ہرمز کی بندش کے اعلان نے مذاکراتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا تھا، تاہم سفارتی کوششیں جاری ہیں تاکہ امن عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس امریکا ایران مذاکرات میں پاکستانی کردار کے معترف
سوال کے جواب میں جے ڈی وینس نے کہا کہ پاکستان کے کردار کو خاص طور پر سراہا جاتا ہے، اور انہوں نے پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: ’ہم پاکستان کے مشکور ہیں، شکریہ‘۔













