امریکا ایران اعلیٰ سطحی مذاکرات، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے

اتوار 21 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر امریکا اور ایران کے درمیان جاری اعلیٰ سطحی مذاکرات میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ (ایم او یو) پر عملدرآمد سے متعلق اہم اجلاسوں میں حصہ لیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:تعطل کے بعد ایران امریکا مذاکرات کا دوبارہ آغاز، پاکستان ثالثی میں متحرک

میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیراعظم آفس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ دونوں اعلیٰ شخصیات 21 جون کو ہونے والے اہم مذاکرات میں شریک ہوں گی، جو امریکا اور ایران کے درمیان پہلے سے طے شدہ معاہدے کے فالو اپ کے طور پر منعقد کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اس موقع پر ایک اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد کی قیادت بھی کر رہے ہیں۔

دفتر خارجہ نے بعد ازاں ایک بیان میں کہا ہے کہ ان مذاکرات میں ایران، قطر اور امریکا کے اعلیٰ سطحی وفود بھی شریک ہوں گے۔ ترجمان کے مطابق یہ اجلاس 17 جون کو طے پانے والے اسلام آباد میمورنڈم کے بعد پہلا باضابطہ سفارتی رابطہ ہے، جو خطے میں کشیدگی میں کمی کے لیے ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان ابتدا سے ہی امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اسلام آباد کی کوششیں ایک متوازن، اصولی اور تعمیری سفارتی حکمت عملی کی عکاس ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز پر ٹول تنازع، ’امریکا کے سوا کوئی فیس نہیں لگے گی‘،ٹرمپ کی سخت وارننگ 

مذاکرات کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کی ایران، قطر، سوئٹزرلینڈ اور امریکا کے وفود سے الگ الگ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں، جن میں خطے میں دیرپا امن اور مکالمے کے فروغ پر بات چیت کی جائے گی۔

یہ ملاقاتیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب امریکا اور ایران نے حال ہی میں “اسلام آباد میمورنڈم” پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا خاتمہ اور سفارتی عمل کو آگے بڑھانا ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس میں آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی اور ایرانی بندرگاہوں پر پابندیوں کے خاتمے جیسے نکات شامل ہیں۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے ہیں، جبکہ ایران کا وفد، جس کی قیادت پارلیمنٹ اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، زیورخ میں موجود ہے۔ ایرانی وفد کو ’میناب 168‘ کا نام دیا گیا ہے۔

ادھر خطے میں کشیدگی کے باعث اسرائیل کی جانب سے لبنان میں فضائی حملوں اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے اعلان نے مذاکراتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا تھا، تاہم سفارتی کوششیں جاری ہیں تاکہ امن عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp