وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے عوامی نمائندوں اور وزرا کے طرزِ عمل پر سخت تنقید کی اور سکیورٹی پروٹوکول میں استعمال ہونے والی گاڑیوں اور اندازِ سیاست پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔
پارلیمنٹ میں خطاب کے دوران خواجہ آصف نے کہا کہ عوامی نمائندوں کو اپنے رویے اور سکیورٹی کلچر میں سادگی اپنانی چاہیے، کیونکہ ان کے اقدامات عوام میں براہِ راست مثال بنتے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ بعض اوقات وزرا اور ارکانِ پارلیمنٹ کی نقل و حرکت کے لیے ’ویگو ڈالے‘ اور بھاری سکیورٹی قافلوں کا استعمال ایک غیر ضروری طاقت کے اظہار کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو عوام میں منفی تاثر پیدا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے ارکان کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ انہیں عزت اور اختیار عوام کی طرف سے دیا گیا ہے، اور ان کے طرزِ عمل کو لوگ دیکھتے اور اس کی تقلید کرتے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ جب کوئی شخص اقتدار میں ہوتا ہے تو پولیس آگے ہوتی ہے اور جب اقتدار میں نہیں ہوتا تو تو پولیس پیچھے ہوتی ہے، اس لیے رویوں میں توازن اور شائستگی ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر: تشدد کا راستہ اختیار کرنے والے جمہوری عمل نہیں چاہتے، خواجہ آصف
انہوں نے زور دیا کہ عوامی نمائندوں کو بہترین مثال قائم کرنی چاہیے اور غیر ضروری پروٹوکول سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق “ویگو ڈالے” جیسے کلچر کو محدود کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس سے عوام میں غلط تاثر جنم لیتا ہے۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کے ارکان کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے اور ایوان کی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے بہتر طرزِ عمل اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔













