پاکستان کے معدنی ذخائر عالمی سرمایہ کاری کی توجہ کا مرکز، 6 کھرب ڈالر کے امکانات

اتوار 21 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے وسیع معدنی ذخائر بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا مرکز بن گئے ہیں، جہاں حالیہ سفارتی رابطوں اور سرمایہ کاری معاہدوں نے ملک کو اہم معدنی وسائل کی ترقی کے لیے ایک ابھرتی ہوئی منڈی کے طور پر اجاگر کیا ہے۔

پاکستان کی حکومت معیشت کو روایتی شعبوں سے آگے لے جانے کے لیے معدنیات اور کان کنی کے شعبے کو مستقبل کی معاشی ترقی کا اہم ستون قرار دے رہی ہے، جبکہ عالمی سطح پر اس شعبے میں سرمایہ کاری کے رجحان میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ (آئی پی آر آئی) کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں تقریباً 6 کھرب ڈالر مالیت کے معدنی ذخائر موجود ہیں، جن میں تانبا، سونا، کوئلہ، کرومائٹ اور نایاب زمینی عناصر سمیت دیگر اسٹریٹجک معدنیات شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر توانائی کی منتقلی اور جدید ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث ’کریٹیکل منرلز‘ کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے، جس نے پاکستان کے معدنی شعبے کو بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے مزید پرکشش بنا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا نایاب معدنیات کی پیداوار بڑھانے کے لیے انرجی فیولز کو 725 ملین ڈالر قرض دے گا

پاکستان اور امریکا کے درمیان اقتصادی تعاون کے بڑھتے ہوئے رجحان کے ساتھ معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ پاکستانی حکام نے متعدد بار امریکی کمپنیوں کو ملک کے غیر دریافت شدہ معدنی وسائل میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے۔

اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے مطابق گزشتہ سال ستمبر میں امریکی اسٹریٹیجک میٹلز (یو ایس ایس ایم) کے ایک وفد نے وزیراعظم ہاؤس کا دورہ کیا، جہاں پاکستان کی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے ساتھ مفاہمتی یادداشت  پر دستخط کیے گئے۔

سفارتخانے کے مطابق امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے اس معاہدے کو پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں اقتصادی تعاون کی مضبوط علامت قرار دیا، جبکہ امریکی پالیسی میں بھی کریٹیکل منرلز کو اہم ترجیح دی جا رہی ہے۔

دوسری جانب معدنی ماہرین کے مطابق خیبرپختونخوا سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں معدنی وسائل کی بڑی مقدار موجود ہے جو ابھی تک مکمل طور پر دریافت نہیں ہو سکی۔

ماہر ارضیات ذوہیب آفریدی کے مطابق خیبر ضلع میں فلورائٹ، بارائٹ، کوئلہ، سیسہ، زنک، ماربل اور چونے سمیت متعدد صنعتی معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں، جو اگر جدید طریقوں سے دریافت کیے جائیں تو ملکی معیشت میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:وسطی ایشیا میں نایاب معدنیات پر امریکی اور یورپی سرگرمیوں پر روس کو تشویش

انہوں نے کہا کہ اس وقت بیشتر کان کنی روایتی طریقوں سے کی جا رہی ہے، تاہم حکومتی معاونت کے ساتھ ان شعبوں کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکتا ہے، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ممکن ہے۔

رپورٹ کے مطابق معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے پاکستان اور امریکا کے درمیان اعلیٰ سطحی سفارتی روابط بھی جاری ہیں۔ حکومت پاکستان کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بتایا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ستمبر 2025 میں وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران اقتصادی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

مزید کہا گیا کہ پاکستان عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ایک مستحکم اور پرکشش مارکیٹ کے طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق حالیہ سفارتی سرگرمیاں ملک میں طویل المدتی سرمایہ کاری کے لیے مثبت اشارے دے رہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’ہم آپ کے شکر گزار ہیں ‘، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا پاکستان کے سفارتی کردار کا اعتراف

پاک امریکا تعلقات کو مضبوط بنانے کا عزم، امریکی چارج ڈی افیئرز نیٹالی بیکر کا اہم ویڈیو پیغام جاری

خواجہ آصف کا پارلیمنٹ میں سخت مؤقف، ’ویگو ڈالے‘ کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ

پاکستان بھر میں بارش، گرج چمک، تیز ہوائیں، این ڈی ایم اے کی ملک گیر وارننگ جاری

ڈومینیکن ریپبلک کے ہوٹل میں ہولناک آتشزدگی، خاتون ہلاک، 1700 سیاح محفوظ مقامات پر منتقل

ویڈیو

سوئٹزر لینڈ میں ایران امریکا مذاکرات: شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جے ڈی وینس سے ملاقات

پنجاب حکومت کا بڑا منصوبہ، پنجاب فلم سٹی نے پروڈکشن کے نئے دروازے کھول دیے

بلوچستان سے عالمی میدان تک، ثروت فاطمہ کا متاثر کن بیڈمنٹن سفر

کالم / تجزیہ

پاکستانی ’انا‘، ایک خاموش وبا

پاکستان: نام ہی کافی ہے

ایران امریکا معاہدے کے بعد دنیا کیسی ہوگی؟