پاکستان کے وسیع معدنی ذخائر بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا مرکز بن گئے ہیں، جہاں حالیہ سفارتی رابطوں اور سرمایہ کاری معاہدوں نے ملک کو اہم معدنی وسائل کی ترقی کے لیے ایک ابھرتی ہوئی منڈی کے طور پر اجاگر کیا ہے۔
پاکستان کی حکومت معیشت کو روایتی شعبوں سے آگے لے جانے کے لیے معدنیات اور کان کنی کے شعبے کو مستقبل کی معاشی ترقی کا اہم ستون قرار دے رہی ہے، جبکہ عالمی سطح پر اس شعبے میں سرمایہ کاری کے رجحان میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
Pakistan possesses some of the world's most significant mineral deposits, including the fifth-largest copper and gold reserves, as well as high quantities of critical minerals in high global demand. pic.twitter.com/Igi23WKdsb
— CPEC 🇵🇰🇨🇳 (@CPEC_UPDATE) June 20, 2026
میڈیا رپورٹ کے مطابق اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ (آئی پی آر آئی) کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں تقریباً 6 کھرب ڈالر مالیت کے معدنی ذخائر موجود ہیں، جن میں تانبا، سونا، کوئلہ، کرومائٹ اور نایاب زمینی عناصر سمیت دیگر اسٹریٹجک معدنیات شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر توانائی کی منتقلی اور جدید ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث ’کریٹیکل منرلز‘ کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے، جس نے پاکستان کے معدنی شعبے کو بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے مزید پرکشش بنا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا نایاب معدنیات کی پیداوار بڑھانے کے لیے انرجی فیولز کو 725 ملین ڈالر قرض دے گا
پاکستان اور امریکا کے درمیان اقتصادی تعاون کے بڑھتے ہوئے رجحان کے ساتھ معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ پاکستانی حکام نے متعدد بار امریکی کمپنیوں کو ملک کے غیر دریافت شدہ معدنی وسائل میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے۔
اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے مطابق گزشتہ سال ستمبر میں امریکی اسٹریٹیجک میٹلز (یو ایس ایس ایم) کے ایک وفد نے وزیراعظم ہاؤس کا دورہ کیا، جہاں پاکستان کی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
سفارتخانے کے مطابق امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے اس معاہدے کو پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں اقتصادی تعاون کی مضبوط علامت قرار دیا، جبکہ امریکی پالیسی میں بھی کریٹیکل منرلز کو اہم ترجیح دی جا رہی ہے۔

دوسری جانب معدنی ماہرین کے مطابق خیبرپختونخوا سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں معدنی وسائل کی بڑی مقدار موجود ہے جو ابھی تک مکمل طور پر دریافت نہیں ہو سکی۔
ماہر ارضیات ذوہیب آفریدی کے مطابق خیبر ضلع میں فلورائٹ، بارائٹ، کوئلہ، سیسہ، زنک، ماربل اور چونے سمیت متعدد صنعتی معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں، جو اگر جدید طریقوں سے دریافت کیے جائیں تو ملکی معیشت میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:وسطی ایشیا میں نایاب معدنیات پر امریکی اور یورپی سرگرمیوں پر روس کو تشویش
انہوں نے کہا کہ اس وقت بیشتر کان کنی روایتی طریقوں سے کی جا رہی ہے، تاہم حکومتی معاونت کے ساتھ ان شعبوں کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکتا ہے، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ممکن ہے۔

رپورٹ کے مطابق معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے پاکستان اور امریکا کے درمیان اعلیٰ سطحی سفارتی روابط بھی جاری ہیں۔ حکومت پاکستان کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بتایا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ستمبر 2025 میں وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران اقتصادی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
مزید کہا گیا کہ پاکستان عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ایک مستحکم اور پرکشش مارکیٹ کے طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق حالیہ سفارتی سرگرمیاں ملک میں طویل المدتی سرمایہ کاری کے لیے مثبت اشارے دے رہی ہیں۔














