آزاد کشمیر انتخابات: کون سے سابق وزرائے اعظم اس معرکے کا حصہ ہیں؟

ہفتہ 27 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی مدت 3 اگست 2026 کو مکمل ہونے جا رہی ہے، چیف الیکشن کمشنر نے اس سے قبل نئے انتخابات کے شیڈول کا اعلان کردیا ہے، جس کے مطابق 27 جولائی کو آزاد کشمیر میں عام انتخابات کے لیے پولنگ ہوگی۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا تھا کہ الیکشن شیڈول واپس لیا جائے، لیکن ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ آئینی طور پر نئے انتخابات ناگزیر ہیں۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر: انتخابات سے قبل سیاسی گہما گہمی، الیکشن کمیشن نے اپوزیشن کی شکایت پر حکومت سے جواب طلب کرلیا

الیکشن کمیشن کی جانب سے شیڈول جاری ہونے کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے، اور سیاسی جماعتوں نے انتخابی مہم کے لیے حکمت عملی طے کرلی ہے۔

آزاد کشمیر کے عام انتخابات میں کئی سینیئر سیاستدان بھی حصہ لے رہے ہیں، جن میں سابق صدر اور وزرائے اعظم بھی شامل ہیں۔

آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار عتیق، سابق وزیراعظم راجا فاروق حیدر، سابق صدر و وزیراعظم سردار یعقوب، سابق وزیراعظم عبدالقیوم نیازی، سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس اور سابق وزیراعظم چوہدری انوارالحق حالیہ عام انتخابات میں میدان میں ہوں گے۔

’سردار عتیق مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے میدان میں ہیں‘

سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں، راجا فاروق حیدر مسلم لیگ ن، سردار یعقوب اور سردار تنویر الیاس پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لیں گے، جبکہ چوہدری انوارالحق نے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا کہ وہ آزاد امیدوار الیکشن میں حصہ لیں گے یا کسی پارٹی کے پلیٹ فارم سے انتخابی میدان میں سامنے آئیں گے۔

ماضی میں سردار یعقوب اور راجا فاروق حیدر مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے وزیراعظم رہے۔ ’راجا فاروق حیدر ایک بار 2009 میں مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے وزیراعظم منتخب ہوئے، تاہم بعد ازاں وہ مسلم لیگ ن کا حصہ بن گئے اور 2016 میں ن لیگ کے پلیٹ فارم سے وزیراعظم بنے۔‘

سردار یعقوب 2008 میں مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے وزیراعظم بنے، انہوں نے سردار عتیق کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عہدے سے ہٹایا تھا، تاہم ایک سال بعد ہی راجا فاروق حیدر ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لے آئے اور وزیراعظم بن گئے۔

’سردار یعقوب آزاد کشمیر کے صدر اور وزیراعظم رہ چکے‘

سردار یعقوب نے وزارت عظمیٰ سے ہٹائے جانے کے بعد پارٹی چھوڑ دی، انہوں نے 2011 کا الیکشن پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے لڑا اور کامیابی حاصل کی۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے 2011 کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی تو پارٹی نے سردار یعقوب کو صدر ریاست کے لیے نامزد کردیا، جس کے بعد انہوں نے اپنی نشست سے اپنی صاحبزادی فرزانہ یعقوب کو الیکشن لڑایا جو کامیاب ہوئیں اور بعد ازاں کابینہ کا حصہ رہیں۔

سردار عتیق آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے سربراہ ہیں، 2006 کے انتخابات کے بعد وزیراعظم منتخب ہوئے، لیکن ان 5 سالوں میں آزاد کشمیر سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا، اور 4 وزرائے اعظم آئے۔

سردار عتیق کا دور 2006 سے 2008 تک رہا، جس کے بعد تحریک عدم اعتماد آگئی اور سردار یعقوب وزیراعظم بن گئے، ایک سال بعد راجا فاروق حیدر عدم اعتماد کے ذریعے وزیراعظم بن گئے، اور پھر 2010 میں سردار عتیق ایک بار پھر تحریک عدم اعتماد کے ذریعے راجا فاروق حیدر کو ہٹا کر وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوگئے۔

’2010 میں راجا فاروق حیدر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک نے مسلم کانفرنس کو تقسیم کیا‘

سردار عتیق کی جانب سے راجا فاروق حیدر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک نے مسلم کانفرنس کو تقسیم کردیا، جس کے بعد آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کا قیام عمل میں آگیا، اور اب مسلم کانفرنس صرف ایک نشست تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

2021 کے انتخابات کے بعد وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہونے والے سردار عبدالقیوم نیازی قانون ساز اسمبلی کے حلقہ ایل اے 18 سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

2021 میں اس وقت کے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے عبدالقیوم نیازی کو وزیراعظم نامزد کیا تھا، تاہم 2022 میں پی ٹی آئی نے اپنے ہی وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد پیش کرکے انہیں عہدے سے ہٹا دیا اور تنویر الیاس وزیراعظم منتخب ہوگئے۔

آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس جنہوں نے 2021 کا الیکشن پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر لڑا تھا، اب پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں اور 3 حلقوں سے میدان میں اترنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سابق وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق نے 2021 کا الیکشن پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر لڑا اور کامیابی حاصل کرنے کے بعد اسپیکر اسمبلی منتخب ہوگئے۔

بعد ازاں 2023 میں جب وزیراعظم سردار تنویر الیاس کو عدالت نے نااہل قرار دے دیا تو چوہدری انوارالحق پی ٹی آئی فارورڈ بلاک کی طرف سے وزیراعظم نامزد کردیے گئے، اور ریکارڈ 48 ووٹ لے کر قائد ایوان منتخب ہوگئے۔

سابق وزیراعظم چوہدری انوارالحق کس پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے؟

چوہدری انوارالحق ایک بار پھر بھمبر سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں تاہم انہوں نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وہ کسی پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیں گے یا آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں اتریں گے۔

ذرائع کے مطابق چوہدری انوارالحق استحکام پاکستان پارٹی کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ موجودہ وزیراعظم راجا فیصل ممتاز راٹھور جن کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے، وہ بھی حویلی کہوٹہ سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں، تاہم ان کا مسلم لیگ ن کے امیدوار محسن عزیز سے کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔

مزید پڑھیں: چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر نے پیپلز پارٹی کی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کردی

سردار یعقوب اور سردار عتیق کی اپنے اپنے حلقوں میں پوزیشن مستحکم ہے، تاہم راجا فاروق حیدر کو اس بار مزاحمت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، اور تجزیہ کاروں کے مطابق ان کے لیے مقابلہ اتنا آسان نہیں ہوگا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp