ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا غیر معمولی دورہ اچانک طے پایا، اور طے پانے کے چند گھنٹے بعد یہ دورہ آغاز سے اختتام تک سارے مراحل سر بھی کر گیا۔ سو اس دورے کے اچانک پن میں ہی اس کا اصل راز پوشیدہ ہوسکتا ہے۔ عام طور پر سربراہ سطح کے دورے کم از کم بھی دو ہفتے قبل طے ہوتے ہیں اور میڈیا اس کی خبر کچھ یوں دیتا ہے ’اس ماہ کے آخر میں دورہ کریں گے‘ لیکن مسعود پزشکیان کا دورہ کھڑے کھلوتے والی کیفیت لیے رہا۔ سو یہ بات تو طے ہے کہ یہ غیر معمولی دورہ تھا، اور محض اظہار تشکر کے لیے نہ تھا۔
دو بڑے آزاد عالمی تجزیہ کار لیری جانسن اور پاپے اسکوبار سوئٹزر لینڈ والی بات چیت سے قبل یہ بتا چکے ہیں کہ پاکستان نے اسرائیل کو بالواسطہ ذریعے سے وارننگ بھیجی ہے کہ اگر ایرانی مذاکرات کاروں میں سے کسی کے خلاف بھی کوئی جارحانہ اقدام کیا تو اس کا مناسب جواب پاکستان خود دے گا، کیونکہ مصالحت کا یہ پورا عمل پاکستان کا پروجیکٹ ہے، جسے ڈی ریل کرنے کی کوشش کا مطلب پاکستان کے ساتھ چھیڑخانی ہوگا۔
اس خبر کی اہمیت یہ ہے کہ یہ اسرائیل کے ٹریک ریکارڈ سے مکمل مطابقت رکھتی ہے۔ پچھلے تین سالوں کے دوران مذاکرات کاروں کو نشانہ بنانا اسرائیل کی ایک باقاعدہ منظم حکمت عملی رہی ہے۔ پاکستانی وارننگ کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسرائیل نے تو سوئٹزرلینڈ والی بات چیت میں رخنہ نہیں ڈالا مگر صدر ٹرمپ نے مذاکرات کاروں کو قتل کی دھمکی دے ڈالی۔ وہ دھمکی جس نے وزیراعظم شہباز شریف کو اتنا پریشان کیاکہ وہ سوئٹزرلینڈ میں اس پریشانی کو کیمروں سے چھپا بھی نہ پائے۔ شاید یہی وہ موقع تھا جب پاکستان نے سفارتی انداز میں امریکا کو بھی واضح پیغام دینا ضروری سمجھا، اور یہ دورہ اسی کے لیےطے پایا۔
جب ایشو کی نوعیت اس درجے کی ہو کہ اس سے تینوں بڑی سپر طاقتوں کا مفاد ہی نہیں بلکہ عالمی معیشت کی بقا بھی جڑی ہو تو پھر پیغام پبلک بھی کیا جاتا ہے مگر اسلوب علامتی زبان کا اختیار کیا جاتا ہے۔ چنانچہ ہم سب نے دیکھا کہ مسعود پزشکیان کے دورے کے دوران وفود کی سطح پر ہونے والی بات چیت میں وزیراعظم شہباز شریف کی گفتگو کا ایک حصہ ویڈیو کی صورت فوری جاری کیا گیا۔ اس گفتگو کا ہر جملہ بہت غیر معمولی تھا۔ اس میں ایرانی رہبر اور صدر کے تدبر، اور ایرانی عوام کے صبر کو کھل کر سراہا گیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ اسلام آباد میمورینڈم آف انڈراسٹینڈنگ پر دستخط اور آگے کی بات چیت کو ایران کی کامیابی قرار دیا گیا۔ اگر آپ غور کیجیے تو یہ صدر ٹرمپ کے مؤقف کی واضح نفی تھی، مگر شہباز شریف کا سب سے اہم ترین جملہ یہ رہا:
’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم بھائیوں کی طرح ہمیشہ آپ کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور کبھی آپ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے‘
بات چیت کے بعد پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے صدر پزشکیان سے یہ بھی کہاکہ وہ اگلے ہفتے سابق ایرانی رہبر علی خامنہ ای کی تدفین میں شرکت کے لیے تہران آئیں گے۔
اس بات چیت کے ساتھ اگر آپ صدر پزشکیان کے دورے کے دوران ہونے والی گرمجوشی کو بھی ملا کر دیکھیں، مثلاً ان کے استقبال کے لیے صدر اور وزیراعظم دونوں کا ایئرپورٹ پر موجود ہونا، پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی الگ سے بھی ملاقات، صدر مسعود پزشکیان کو کالج آف فزیشن اینڈ سرجن پاکستان کا فیلو شپ دینا وغیرہ، تو اس پورے دورے کے ذریعے پاکستان نے کہا اور کیا تو سب ایرانی صدر کے لیے مگر پیغام ان کے لیے تھا جنہیں لگتا ہے مذاکرات کاروں کا قتل کوئی مذاق ہے جو جب جی کیا رچا لیا۔
یوں پاکستان نے واضح ترین شکل میں پوری دنیا پر عیاں کردیا کہ وہ غیرجانبدار نہیں۔ ایران پاکستان کا پڑوسی ہے، اس کے جغرافیے اور اور قیادت کی سلامتی اسے اتنی عزیز ہے کہ وزیراعظم پاکستان میڈیا ٹاک کے دوران ایرانی صدر سے برملا کہہ رہے ہیں:
’آپ کا غم میرا غم ہے‘
اگر خوابوں کی دنیا میں رہنے والوں کو لگتا ہے کہ پاکستان امریکا جیسی عظیم طاقت کو ایسا واضح پیغام نہیں دے سکتا تو انہیں عین اسی رات کا دبئی ایئرپورٹ کے ٹارمک کا وہ منظر دیکھ لینا چاہیے جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو جہاز سے اترے تو استقبال کے لیے فقط دو افراد ہی موجود تھے۔ ایک امریکی سفارتخانے کی ہی کوئی خاتون اہلکار، اور دوسرے کوئی عرب شیخ جو ممکنہ طور پر محمد بن زید کے شاہی اونٹوں کے نگہبان بھی ہوسکتے ہیں۔ شیخ کی باڈی لینگویج دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ وہ تب تک دونوں ہاتھ پیچھے باندھے کھڑے رہے جب تک مارکو روبیو مصافحے کے لیے ان کی جانب گھوم نہ گئے۔ اور پھر روبیو کو وہیں ٹارمک پر ڈیڑھ منٹ تک کھڑے رکھ کر گفتگو کرتے رہے۔ کوئی ریڈ یا پرپل کارپٹ بچھانا تو چھوڑیے ٹارمک پر شاید جھاڑو پوچے کا بھی تکلف نہ برتا گیا تھا۔ روبیو کو لینے کے لیے گاڑی بھی ٹارمک پر موجود نہ تھی۔
یہ سلوک اس امریکا کے وزیر خارجہ کے ساتھ کیا گیا جس کی اسسٹنٹ وزیر خارجہ تیسری دنیا کے کسی ملک میں پہنچتی تو صدور اور وزیراعظم کی سطح پر ڈیکٹیشن دیتی نظر آتی۔ اگر متحدہ عرب امارات بھی سمجھ چکا کہ امریکا اب ایک خالی برتن ہے، جو شور تو بہت مچا سکتا ہے مگر کر کچھ نہیں سکتا تو سوچیے یہ راز پاکستانی قیادت پر کس گہرائی اور گیرائی کے ساتھ عیاں نہ ہوگا؟
ساری دنیا کو معلوم ہے کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں اس بری طرح پھنس چکا کہ اب یہاں سے محفوظ نکلنا ہی اس کے پاس بچی واحد آپشن ہے۔ اس کے تیل ذخائر صرف چار ہفتوں کے باقی ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کا جو بحران باقی دنیا کو جنگ کے پہلے ہی دس دنوں میں بھگتنا پڑا تھا، وہ امریکا میں اگست میں جاکر سر اٹھانے کو ہے اور وہ بھی کئی گنا زیادہ شدت کے ساتھ۔ صرف یہی نہیں بلکہ عالمی معیشت کے ڈوبنے کا خطرہ بھی بدستور موجود ہے۔ جیفری سیکس جیسے بڑے امریکی معاشی تجزیہ کار کہہ رہے ہیں کہ اب مشرق وسطیٰ سے امریکا نکل بھی آئے تو آنے والا پیٹرولیم بحران اور امریکی معیشت پر اس کے اثرات ٹلیں گے نہیں، بس اس کی شدت نسبتاً کم ہوجائےگی۔
پاکستان تو ثالث ہے۔ کیا یہ سب ہمارے ارباب اختیار نہیں جانتے؟ وہ ثالث جو صرف ایران نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ کے ہر مسلم ملک کے مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم ہے۔ سو ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کے ذریعے ہماری قیادت واضح کرچکی کہ ہم خطے اور اس کے مفادات کے ساتھ ہیں۔ سعودی عرب، ایران اور قطر تینوں بیک وقت پاکستان سے خوش اور مطمئن کیوں ہیں؟ کیونکہ یہ سب جانتے ہیں کہ پاکستان ان کے مفادات یعنی پورے خطے کے مفاد کو بچانے کی سفارتی جنگ پوری دلیری سے لڑ رہا ہے۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب اسرائیل کے عبرانی میڈیا نے بھی کہنا شروع کردیا ہے کہ اسرائیل خطے کی بالادست طاقت نہیں رہا۔
یاد ہے جب یہی امریکا افغانستان میں پھنسا ہوا تھا تو آخری سالوں میں اس کا پاکستان سے سب سے بڑا تقاضا کیا تھا؟ یہی کہ ہمیں نکلنے کے لیے محفوظ راستہ دلوائیے! امریکا آج بھی بند کمروں میں پاکستان سے یہی تقاضا کر رہا ہے، اور اس کے محفوظ راستے کا سارا دارومدار پاکستان پر ہے۔ وہ پچھلی بار کی طرح اس بار بھی پاکستان کو ناراض کرنے کا رسک نہیں لے سکتا۔ اندھے کو بھی نظر آرہا ہے کہ جو رجیم چینج کرکے گریٹر اسرائیل بنوانے آئے تھے وہ محفوظ انخلا کے لیے اربوں ڈالر دینے پر مجبور ہیں۔ اور یہی دیکھ کر عالمی تجزیہ کار کہہ رہے کہ مشرق وسطیٰ پر امریکی اجارہ داری کا دور تمام ہوا۔ وہی اجارہ داری جس پر اسرائیل کا سارا انحصار تھا۔ فلم شعلے والے گبر سنگھ یاد آگئے۔
’تجھے کون بچائے گا کالیا؟‘
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













