دوست احباب ’کرائے‘ پر دستیاب ہیں

ہفتہ 27 جون 2026
author image

شبیر سومرو

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

’میں نے گزشتہ گیارہ ماہ میں 104 افراد کو بطور ’رینٹل فرینڈ‘ اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ ان میں اکثر مرد تھے لیکن خواتین کی تعداد بھی کم نہیں تھی۔ اس کام سے مجھے اتنی کمائی ہوئی ہے، جتنی کارپوریٹ سیکٹر میں کسی درمیانے درجے کے سی ای او کو ہوتی ہے۔ کسی کا دوست بن کر اسے کمپنی دینا، اس کی تنہائی دور کرنا، اس کی باتیں سننا اوراپنی سنانا ہمیشہ ایک اچھا تجربہ ہوتا ہے۔ اور اگر اس کے عوض، فی گھنٹہ اچھا معاوضہ بھی مل رہا ہو تواور کیا چاہیے؟ اس کام میں طرح طرح کے افراد سے ملنے، ان کے ساتھ رہنے، کھانے پینے، سفرکرنے اور ان کی مشغولیات میں ساتھ دینے کا موقع ملتا ہے۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سب عیاشیاں انہی کے خرچے پر ہوتی ہیں۔ اس لیے میں بہت خوش ہوں کہ میرے اندر ایسی صلاحیتیں ہیں کہ میں کسی کا بھی دوست بن سکتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح کی ویب سائٹس نے مجھے اپنی لسٹ میں ٹاپ 20 رینٹل فرینڈز میں رکھا ہوا ہے۔‘

البرٹ لازرس کنیکٹی کٹ کے ایک قصبے میں رہتے تھے۔ مگر ان کے بہ قول اس چھوٹے سے ٹاؤن کا آسمان، ان کی پرواز کے لیے ناکافی تھا۔ اُن کے خیالات، ان کے ہم جلیسوں سے بہت الگ تھے۔  وہ چاہتے تھے کہ ایسی اچھی ملازمت ملے، جس میں بہت ساری دولت کمانے کے مواقع ہوں۔ جب کہ البرٹ ملازمت یا نوکری کرنے کے خلاف بلکہ وہ تو کسی بھی قسم کا کام کرنے ہی کے خلاف تھے اور چاہتے تھے کہ کچھ ایسا انتظام ہوجائے کہ بیٹھے بٹھائے انہیں گزارے لائق پیسے مل جایا کریں۔  اور قدرت نے ان کی سن لی۔ 3 سال پہلے نیٹ سرچنگ کے دوران البرٹ کو ایک سائٹ کا اشتہار نظر آیا۔

 کرائے کے دوست

’اگر آپ کے اندر دوستی کرنے، دوستوں کو وقت دینے، ان کی باتیں سننے اور اپنی کہنے کی صلاحیت ہے تو آپ اس سائٹ کے ممبر بن جائیں اور اپنی اس صلاحیت کو پیسے کمانے کے لیے استعمال کریں۔‘

اور البرٹ نے سائٹ پر جاکر، تمام تر تفصیلات پڑھ کر وہاں کی رکنیت لینے کے لیے اپنا پروفائل بناکر اپ لوڈ کردیا، اس کے بعد ان کی زندگی کا نیا دور شروع ہوگیا۔ وہ ’کرائے کے دوست‘ بن گئے جو تنہائی کا شکار افراد کو اپنی خدمات بطور دوست فراہم کرنے لگے اور اس کے بدلے میں انھیں اچھے خاصے پیسے ملنے لگے۔

آج کی دنیا میں جیسے جیسے انسان تنہا ہوتا جاتا ہے، ویسے ویسے کمرشل کمپنیاں ہماری ان کیفیات وضروریات کا  فائدہ اٹھاتے ہوے، کمانے کے لیے نئی نئی اختراعات سامنے لارہی ہیں۔ اب آن لائن کمپنیاں اور ویب سائٹس ہماری تنہائی دور کرنے کے لیے کرائے کے دوست احباب مہیا کرنے لگی ہیں۔ ان میں سب سے مشہور ویب سائٹ Rent-A-Friend ہے، جس کے رجسٹرڈ پروفیشنل ممبران کی تعداد 6 لاکھ سے زائد ہے۔ ان میں سے ہر ’فرینڈ‘ صرف ایک فون کال کی دوری پر ہے۔ اگر کسی بھی وجہ سے کسی شخص کے دوست نہیں ہیں یا وہ کسی کو دوست بنانے کی صلاحیت سے محروم ہے تو وہ ایسی کسی سائٹ یا کمپنی کو اس کی مقررہ ادائیگی کر کے، اپنی پسند کے فرد کو بطور ’دوست‘ مخصوس مدّت کے لیے بلا سکتا ہے۔ یہ بات ہمارے معاشرے میں عجیب سے زیادہ قابل رحم لگتی ہے، جہاں ایک ایک بندے کے سیکڑوں دوست ہوتے ہیں اور ان میں سے کئی ایک ہر وقت رضاکارانہ طور پر اس کی جان عذاب میں ڈالے رہتے ہیں اور وہ اس میں خوش بھی ہوتا ہے!

مگر مغرب میں ہر فرد اپنے کام سے کام رکھتا ہے۔ باہمی تعلق کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو، ایک دوسرے کی ’پرائیویسی‘ یا خلوت کا خیال رکھا جاتا ہے۔ خواہ مخواہ دوستوں کی زندگی، گھر، کام، فیملی اور مشغولیات میں مداخلت نہیں کی جاتی۔ ایسے ماحول میں جہاں میاں بیوی تک ایک دوسرے کی ’پرائیویسی‘ کا احترام کرتے ہوں، بچوں اور بچیوں کے کمرے میں بھی بغیر اجازت لیے یا دستک دیے نہ جاتے ہوں، وہاں فرد کی تنہائی، اس کی ذاتی زندگی کو جہنم سے بدتر بنا دیتی ہے۔ تب وہ ایسے عارضی رشتے جوڑنے لگتا ہے، جن کو کسی بھی وقت بغیر جذباتی ہوئے ترک کیا جاسکے۔

ایسا ایک اور کرائے کا دوست ہنری ہے، جسے اس کی ’آجر‘ ویب سائٹ کی جانب سے یہ کہہ کر ایک ستر سالہ بابے کے گھر بھیجا گیا کہ اسے ایک مہربان اور ہر بات صبر سے سننے اورماننے والے دوست کی ضرورت ہے۔

ہنری بتاتے ہیں کہ انہوں نے اپنی گاڑی گھر پر چھوڑی ، اسٹیشن جا کر سب وے ٹرین پکڑی اور فراہم کردہ ایڈریس پر پہنچ گئے۔ ڈور بیل بجانے پر دروازہ کھولنے والے شخص نے دیکھتے ہی پوچھا۔

ہنری؟

جی سر!

یہ ’سر‘ کیا ہوتا ہے؟ آپ میرے دوست بن کر آئے ہیں تو میرا نام لیجیے نا۔

جی جی، مسٹر ایرک!

نہیں، صرف ایرک!

اوکے ایرک! مجھے اندر آنے دیں گے آپ…یا

ارے آؤ نا، دروازے پر کیوں کھڑے ہو؟… بلکہ ایسا کرو، مجھے ایک منٹ دو تو میں اندر سے اپنا سیل فون اور والیٹ لے آؤں تو چلتے ہیں۔

جی ٹھیک ہے۔ مگر جانا کہاں ہے؟

اوہ، آپ کو میں نے بتایا نہیں…اصل میں میرا دل کر رہا تھا گولا گنڈا کھانے کو، آؤ، چلتے ہیں۔

یہ میرے لیے حیرت کی بات تھی کہ 70 سالہ شخص گولا گنڈا کھانا چاہتا ہے اور کرائے پر کسی بندے کو بطور ’دوست‘ بلوا کر اسے بھی لے جانا چاہتا ہے۔ بہرحال میں باہر ہی سے اس کے ساتھ ہولیا اور ہم ایک قریبی آؤٹ لیٹ پر جاکر بیٹھ گئے۔ اس دوران وہ مسلسل بولتا رہا۔ اپنی زندگی، والدین، بھائی، بہن، ملازمت،دوست اور کامیابیوں سے متعلق بتاتا رہا۔ جی ہاں، وہ اپنی ناکامیوں یا محرومیوں پر بات نہیں کر رہا تھا۔ بار بار یہ جتانے کی کوشش کرتا رہا کہ وہ اپنے دوستوں میں کس قدر مقبول رہا ہے۔ اس پرمیں اس سے پوچھنا چاہتا تھا کہ اگر یہ حقیقت تھی تو پھر اب اسے کرائے پر دوست بلانے کی ضرورت کیوں پڑ رہی ہے؟ مگر ظاہر ہے کہ ایسا سوال نہیں کیا جاسکتا تھا، جس سے اس کی انا کو ٹھیس لگے اور وہ سمجھے کہ اسے جھوٹا قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ ہمارے کام کی پیشہ ورانہ اخلاقیات کے خلاف تھا۔ اس نے ایک آؤٹ لیٹ پر لے جاکر گولا گنڈا کھایا اور مجھے بھی کھلایا جو کہ بہت عجیب اور کسی قدر شرم ساری کی بات لگ رہی تھی کیوں کہ مجھے یہ بچکانہ کام کیے، کم از کم بھی 35 سال گزر چکے تھے۔ وہاں فیملیز کے ساتھ بچے بھی موجود تھے جو ہمیں دیکھ کر ہنس رہے تھے۔

ایرک نے فارغ ہو کر، ہاتھ کی پشت سے ہونٹ صاف کیے، جن پر شربت کی گیلاہٹ اور رنگ لگے تھے۔ اس کے بعد کہنے لگا:

آؤ، اب یہاں کی پلے پلیس چلتے ہیں۔ وہاں مجھے ربڑ فورٹ پر چھلانگیں لگانا بہت اچھا لگتا ہے۔

یہ تو ایک طرح سے میرے صبر کی آزمائش تھی مگر میری ڈیوٹی تھی کہ اپنے میزبان کی ہر بات کا مثبت جواب دوں۔ اس لیے اس کے ساتھ ساتھ چلاگیا اور پانچ چھ سال کے بچوں کے ساتھ ساتھ ہم بھی کودنے اور چھلانگیں لگانے لگے۔ ہماری مداخلتِ بیجا پر کچھ بچے سہم کر اور بیشتر منہ بسور کر وہاں سے چلے گئے۔ چند چھلانگیں لگا کر ہی ایرک ہانپنے لگاتھا مگر اس کے شغل ابھی پورے نہیں ہوے تھے۔ کہنے لگا:

’اب ہم پِٹ بال کھیلیں گے اور ہزاروں گیندوں میں خود کو دفن کردیں گے۔ مزہ آئے گا۔‘

جب ہم وہاں جا کر ننھے بچوں کے ساتھ شامل ہوئے تو وہ بھی ڈر کر وہاں سے چلے گئے اور ان کے والدین کی شکایت پر مینجر آگیا۔ اس نے ہمیں وہاں سے ’گیٹ آؤٹ‘ ہونے کا حکم دیا اور ہم گیٹ آؤٹ ہوگئے۔

 بہرحال، اس دن ایرک صاحب نے ننھے بچوں والی کئی حرکتیں کیں اور مجھے بھی ساتھ شامل رکھا۔ پھر میں ان کے ساتھ ان کے گھر لوٹ آیا۔ گھر آتے ہی ایرک نے جیسے بٹن دبا کر خود کو تبدیل کرلیا اور اپنی عمر کے مطابق ہی گفتگو اور برتاؤ کرنے لگا۔ میں نے فیس کا چیک لیا اور ایک طرح سے جان چھڑاکروہاں سے بھاگ لیا ۔

فرینڈ رینٹل سروس صرف گپ شپ یا اچھا وقت گزارنے کے لیے نہیں ہے بلکہ آپ ویب سائٹ کو اپنی ضرورت کے مطابق دوست مہیا کرنے کی فرمائش بھی نوٹ کرواسکتے ہیں۔ اگر آپ کوئی نیا ہنراور مشغلہ سیکھنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے بھی دوست مل سکتا ہے۔ اگر آپ کسی نئے شہر یا علاقے میں پہنچے ہیں اور وہاں گھومنا اور معلومات لینا چاہتے ہیں تو آپ کو ایسا مقامی دوست مل سکتا ہے جو بہ یک وقت گائیڈ اور ڈرائیور بن کر آپ کے ساتھ مقررہ وقت گزارے گا۔ تمام ویب سائٹس یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ ان کے مہیا کردہ دوست صرف ’افلاطونی‘ قسم کی دوستی ہی نبھا سکتے ہیں۔ ان کی خدمات میں کوئی بھی ناشائستہ تعلق قائم کرنا شامل نہیں۔ اگر کوئی اپنے طور پر بھی ایسا کرے گا تو اس پر ہمیشہ کے لیے پابندی لگادی جائے گی اور اس سے آئندہ کسی قسم کی خدمات نہیں لی جائیں گی۔ کیوںکہ فرینڈ رینٹل سائٹس، ڈیٹنگ ویب سائٹس نہیں ہیں۔ اس کام کے لیے افلاطونی دوستی کی لفظی ترکیب جاپان میں متعارف اور مروج ہوئی تھی۔ وہاں فیملی رومانس اور کلائنٹ پارٹنرز جیسی کمپنیاں اپنے کسٹمرز کو اُجرتی دوستوں کے ساتھ ساتھ کرائے پرمنگیتر، بھائی، بہن اور یہاں تک کہ کرائے پر ماں باپ بھی مہیا کرتی ہیں۔ جاپانی رینٹل کمپنیوں کے پاس ایسے اداکار بھی رجسٹر ہیں جو کسی بھی موقع پر کوئی بھی کردار نبھانے کے لیے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔

پاکستان میں رینٹ اے فرینڈ سروس

کرائے پر دوست مہیا کرنے والی معروف سائٹ کا پاکستانی چیپٹر بھی کام کر رہا ہے۔ اس میں درجنوں مرد اور چند لڑکیاں رجسٹرڈ ہیں۔ کراچی کے پیجز پر 62 فرینڈز کرائے پر دستیاب ہیں۔ ان میں 2 لڑکیاں شامل ہیں۔ لاہور سے 96 ممبرز ہیں، جن میں 3 لڑکیاں اور باقی مرد ہیں۔ لاہور کے 8 صفحات میں امرتسر کے ایڈریس والے 2 سردار صاحبان بھی گھسے ہوئے ہیں۔

رینٹل فرینڈز کے پروفائلز تک رسائی کے لیے کسٹمر کوتقریباً 25 ڈالر ماہانہ کی فیس دینا پڑتی ہے۔ اس فیس کی ادائیگی پر اس کو ویب سائٹ کے ڈیٹا بیس کو کھنگالنے اور اپنی ضرورت اور پسند کے مطابق کرائے کا دوست چھانٹنے کی سہولت مل جاتی ہے۔ اس ڈیٹا بیس میں پوری دنیا سے 6 لاکھ افراد کی تفصیلات موجود ہیں، جو کرائے کے دوست کے طور پر اپنے اپنے شہر یا قصبے میں دستیاب ہیں۔

 ممبرز، ڈیٹا بیس میں جا کر کرائے پر دستیاب مقامی افراد کی تصویریں، حلیے، ان کی زندگی کا احوال، ان کے مشاغل اور خصوصیات سے متعلق معلومات پڑھتے ہیں اور پھر ان میں سے اپنی پسند کا شخص یعنی مرد یا پھر خاتون منتخب کر کے، اس کی فیس جمع کراکے اسے بلوا لیتے ہیں۔ اگر کسٹمر کسی ممبر کو منتخب کرلیتا ہے تو پھر اسے ویب سائٹ کے اکاؤنٹ میں اس ’دوست‘ کا کرایہ گھنٹوں کے حساب سے جمع کرانا پڑتا ہے۔ یہ کرایہ آج کل کم از کم 25 امریکی ڈالر فی گھنٹہ سے شروع ہوتا ہے اور 55 ڈالر فی گھنٹہ تک جاتا ہے۔ آخرالذکر کرایہ جنوبی امریکا سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی کا ہے جو آج کل شکاگو میں رہتی ہے اور معروف ماڈل بھی ہے۔

کرائے پر دوست اور کرائے کے رشتہ دار مہیا کرنے کا سلسلہ، دو عشرے پہلے جاپان سے شروع ہوا تھا مگر اسے عروج امریکا میں نصیب ہوا ہے اور اب یہ ایک صنعت جیسا کام بنتا جارہا ہے۔

 امریکا میں اس طرح کی اوّلین سائٹ کا خالق اسکاٹ برونہم ہے جو نیو جرسی میں رہتا ہے۔ اسکاٹ کا کہنا ہے کہ ان کو یہ کام کرنے کی تحریک اس طرح ملی کہ نیٹ پر بیشتر ڈیٹنگ سائٹس ہی مل رہی تھیں۔ کوئی سائٹ ایسی نہیں تھی جو صاف ستھری دوستی، قابلِ احترام تعلق کی پیشکش کرتی ہو۔ رینٹل فرینڈز کی امریکی سائٹس کے مطابق روزانہ 3 تا 4 ہزار نئے لوگ سبسکرپشن حاصل کر رہے ہیں۔

کرائے کا دوست کسی تنہا فرد کے لیے نعمت سے کم نہیں، سمانتھا

سمانتھا بُل مغربی معاشرے کے رواج کے مطابق ایک اسپنسٹر ہیں یعنی پکی عمر کی ایسی خاتون جو شادی اور گھرداری کی دوڑ میں پیچھے رہ گئی ہو اور اب بقیہ زندگی تنہا گزاررہی ہو۔ وہ ہفتے میں دو تین گھنٹے کے لیے مختلف سائٹس سے کرائے پر دوست (مرد یا خاتون) بلواتی ہیں۔ ان کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرتی ہیں، انھیں اپنے پکائے ہوے کھانے کھلاتی ہیں، سینما یا لائبریری لے جاتی ہیں اور مقررہ وقت پورا ہوجانے پر چھوٹا موٹا تحفہ دے کر رخصت کرتی ہیں۔

اپنی تنہائی کو اس طرح بہلانے سے متعلق وہ کہتی ہیں: میں بہت تنہا عورت ہوں۔ کچھ رشتوں نے مجھے ترک کردیا اور کچھ کو میں نے ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا۔ اس لیے رینٹل فرینڈز کا سلسلہ میرے جیسے افراد کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں۔ مجھے جب بھی کسی کی دوسراہٹ کی طلب ہوتی ہے، کسی سے باتیں کرنے، گھومنے پھرنے کا دل کرتا ہے تو میں کسی اپنی عمر کی عورت یا مرد کو کرائے پر منگوا لیتی ہوں۔ میں بہت اچھی شیف ہوں، اس لیے ایسے کسی بھی دوست کو بلوانے سے پہلے اس کے لیے اچھے کھانے پکا کر رکھتی ہوں تا کہ اس کے آجانے کے بعد  مجھے اس کے ساتھ باتیں کرنے کے بجائے کچن میں مصروف نہ ہونا پڑے۔ مجھے آج تک کوئی ایسا کرائے کا ایسا دوست نہیں ملا، جس سے مل کر مجھے مایوسی ہوتی یا غصّہ آتا سوائے ایک خاتون کے۔ وہ کرائے کے دیگر دوستوں کے برعکس بہت نک چڑھی اور مغرور تھی۔ اس نے میرے ہاں کچھ بھی کھانے پینے سے انکار کردیا تھا۔ اس کے بعد اس نے سینما جانے سے بھی جواب دے دیا۔ جب میں نے اسے کہا کہ ٹھیک ہے تو پھر لائبریری چلتے ہیں، وہاں سے کوئی نئی کتاب ایشو کراتے ہیں۔ تم میرے ساتھ گھر واپس آکر مجھے اس میں سے کچھ پڑھ کر سنا دینا۔ اس پر اس نے جو جواب دیا، وہ میرے لیے حیران کن اور صدمے جیسا تھا۔

’میں نے زندگی بھر کوئی کتاب نہیں پڑھی سوائے اسکول، کالج کی نصابی کتابوں کے۔ اور مجھے مطالعے سے سخت نفرت ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ تم مجھے فارغ کردو…میں تمھارے مطلب کی دوست نہیں ہوں۔‘

ظاہر ہے کہ اس بات کے بعداس کو مزید روکنے یا اس سے بات کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہی تھی۔ میں نے اسی شام متعلقہ سائٹ پر اس کے ناشائستہ اور غیر پیشہ ورانہ روّیے کے خلاف شکایت کردی تھی۔

ایک دو ایسے دوست ہونا چاہییں، جن سے دل کی بات کی جائے، چارلس

چارلس جب ملازمت کے سلسلے میں اسکاٹ لینڈ سے لندن آئے تو یہاں ان کا کوئی دوست نہیں تھا۔ دفترکے اکثر ساتھی بھی خشک مزاج تھے جو صرف دفتر کی حد تک ایک دوسرے سے تعلق رکھتے تھے۔ اس لیے جب چارلس کی تنہائی نے اسے کھانا شروع کیا تو پھر اس نے پہلی بار کرائے پر ایک دوست بلایا۔  یہ اسمتھ تھا جو کہ آئی ٹی کے شعبے میں فری لانس کام کرتا تھا۔ اس کے بعد بھی اس کے پاس کافی وقت بچ جاتا تھا، جس کا مصرف اس نے یہ نکالا تھا کہ رینٹل فرینڈز کی ایک سائٹ پر خود کو رجسٹر کرالیا تھا۔ جب وہ چارلس کے ہاں پہنچا تو اسے خوشگوار حیرت ہوئی کہ وہ ایک اچھے ریستوراں میں اپنے اور اس کے لیے پیشگی ایک ڈنر ٹیبل بک کروا چکا تھا۔

مگر ریستوراں جاتے ہوئے، ایک وینڈنگ مشین کے پاس رک کرچارلس نے اسمتھ سے کہا؛ تمھارے پاس 5 پاؤنڈ ہیں؟ ذرا دینا تو اور بے فکر رہو۔ یہ پیسے بھی اپنے بل میں شامل کرلینا۔

اسمتھ کو تھوڑا عجیب لگا مگر اس نے پرس سے پیسے نکال کر چارلس کو دے دیے۔ چارلس نے وینڈنگ مشین سے چپس اور جوس نکال کے اسے بھی دیا اور خود بھی لے لیا حالاںکہ وہ ڈنر کے لیے جارہے تھے۔ اب سمتھ کو یہ فکر ستانے لگی کہ اگر چارلس نے ڈنر کے بعد بل بھی اس کے متھے ماردیا تو کیا ہوگا؟ مگر خیریت گزری کہ ایسا نہیں ہوا اور چارلس نے کریڈٹ کارڈ سے ادائیگی کردی۔ وہاں سے نکل کر وہ ایک اور ہوٹل میں جا بیٹھے، جہاں ان کے مابین اصل’کچہری‘ شروع ہوئی۔ چارلس بول رہا تھا اور اسمتھ ہمہ تن گوش تھا:

’میرے جیسے لوگوں کو درجن بھر دوست نہیں چاہییں مگر کم از کم ایک 2 تو ایسے دوست ہوں، جن سے کھل کر دل کی بات کی جائے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ دل کی باتیں صرف گرل فرینڈ سے نہیں کی جاتیں…اس کے لیے ایک گہرا دوست زیادہ مناسب ہوتا ہے۔ لندن میں اب تک میں کسی کو اپنا دوست نہیں بنا پایا، اس لیے تمھیں زحمت دینا پڑی۔‘

’اس میں زحمت کی کیا بات ہے؟ یہ تو میرا کام ہے۔ آپ مجھے اس کے لیے ادائیگی کر رہے ہیں۔‘

’ہاں، مگر میں چاہتا ہوں کہ تم میرے ایسے دوست بن جائو جو سچ میں دوست ہو…کرائے کا دوست نہ ہو، جسے مقررہ وقت کے لیے بک کر کے کرایہ ادا کرنا پڑے۔‘

اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ مجھ سے میری کمائی چھیننا چاہ رہے ہیں، اسمتھ نے ہنس کر کہا۔

’نہیں، ایسا مت سوچو۔ میں تمھیں اس کے لیے بھی وہی ادائیگی کرتا رہوں گا جو طے شدہ ہے۔ مگر ہم اس پر بات نہیں کریں گے اور نہ ہی کبھی اس پر سوچیں گے۔‘

’۔۔۔مگر میرے لیے مشکل ہوگا کیوں کہ میں ایک ویب سائٹ پر رجسٹرڈ ہوں۔ وہ مجھے کسی بھی وقت، کسی بھی کلائنٹ کے پاس بھیج سکتے ہیں اور میں انکار نہیں کرسکتا۔ ورنہ مجھے بلیک لسٹ کردیا جائے گا اور اس کے بعد میں کسی بھی سائٹ پر اپنی سروسز نہیں دے سکوں گا۔‘

’اوکے مگر میں سخت مایوس ہوا ہوں…اس لیے بہتر ہے کہ تم اب چلے جائو۔ تمھارے بل کا چیک میں بھجوا دوں گا۔‘

اور یوں اسمتھ کی بکنگ، جو 24 گھنٹے کے لیے ہوئی تھی، وہ محض ساڑھے تین گھنٹے میں اختتام پذیر ہوگئی۔

چارلس نے وعدے کے مطابق چیک بھیج دیا تھا۔ حیرت کی بات یہ ہوئی کہ اس نے اس پہلی ملاقات کے بعد آنے والے 15 دن میں تین مرتبہ اسمتھ کو بُک کرنے کی کوشش کی مگر ویب سائٹ سے بتایا جاتا رہا کہ اسمتھ سرِدست دستیاب نہیں ہے۔

سراغ رساں کو بھی کرائے کے دوست ضرورت پڑتی ہے

کارل کو ایک پرائیویٹ سراغ رساں نے کرائے پر حاصل کیا اور رات بھر اسے اپنے ساتھ ایک مکان کی نگرانی کے لیے اندھیرے، سردی اور سناٹے میں گاڑی کے اندراپنے ساتھ بٹھائے رکھا۔ اس سے ملنے سے پہلے کارل کو یہ سب پتا نہیں تھا۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ رچرڈ نام کا وہ شخص بھی ایک ’نارمل‘ کلائنٹ ہوگا، جسے تنہائی تنگ کر ہی ہوگی اور وہ کسی ’دوست‘ کے ساتھ گفتگو کرنا، گھومنا پھرنااورکھانا پینا چاہتا ہوگا۔

’مگر جب میں اس کے پاس پہنچا تو اس نے پہلے سے منگوایا ہوا ایک برگر اور سافٹ ڈرنک کاایک ٹِن مجھے پکڑادیا اور کہنے لگا:

’آپ جلدی سے یہ سب ختم کرلیں… پھر ہمیں کام پر چلنا ہے۔‘

کام پر چلنے کی بات میں نے پہلی بار سنی تھی ،اس لیے پوچھا کہ کس کام سے اورکہاں جانا ہوگا؟ اس پر رچرڈ نے پراسرار انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو پتا چل جائے گا، فی الحال تو کھا پی لیں۔

اور کارل اگلے 10 منٹ میں برگر اور کوک کے ہلکے پھلکے ’ورکنگ ڈنر‘ سے فارغ ہوچکا تھا۔ اس کی پھرتی پر رچرڈ نے اسے داد دی کہ اچھا ہے کہ وہ بھی اس کی طرح وقت ضائع کرنے میں یقین نہیں رکھتا۔ اس کے بعد وہ کارل کو لے کر گھر سے باہر آیا اور اسے بتانے لگا:

’میں ایک پرائیویٹ سراغ رساں ہوں جو مختلف کیسوں کو حل کرنے کے لیے کلائنٹ کے کہنے پر کسی فرد کی نگرانی کا فریضہ انجام دیتا ہے اور پھر مذکورہ شخص کی سرگرمیوں کی رپورٹ تیار کرکے کلائنٹ کو دیتا ہے۔ نگرانی کا یہ کام طویل اور صبر آزما ہوتا ہے جو تنہا انجام دینا میرے لیے مشکل ہوتا ہے، اس لیے جب میرے جیسے بندے کو رات بھر نگرانی کے لیے نکلنا ہوتا ہے تو میں ویب سائٹ سے کرائے کا دوست بلوا لیتا ہوں کیوںکہ بنیادی طور پر میں تھوڑا سا ڈرپوک انسان ہوں۔ جب کرائے کا سہی، کوئی بندہ میرے ساتھ ہوتا ہے تو ہم باتیں وغیرہ کرتے رہتے ہیں۔ اس طرح ایک تو میرا ڈر ختم ہوجاتا ہے،دوسرے وقت گزرنے کا بھی پتا نہیں چلتا۔‘

 اس طرح کارل کی وہ پوری رات ایک گلی میں رچرڈ کی گاڑی میں اس کے ساتھ بیٹھے، روڈ پار ایک مکان کی کھڑکیاں اور دروازے تکتے ہوے گزر گئی۔ آدھی رات تک مکان کی کھڑکیوں میں سے معمول کے گھریلو مناظر نظر آتے رہے۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ اہلِ خانہ اپنی اپنی خواب گاہوں میں بند ہوتے گئے اور سکوت چھاتا چلا گیا۔ اس کے باوجود رچرڈ کا اصرار تھا کہ انھیں صبح تک وہاں بیٹھنا ہے۔ نیند اور تھکن سے کارل کی حالت بری ہوگئی تھی مگر مجبوراً وہ وہاں بیٹھا رہا۔ اس دوران اگر وہ غنودگی میں چلا جاتا یا اسے اونگھ آجاتی تو رچرڈ اسے کہنی مار کر جگا دیتا تھا۔ یہ کارل کی زندگی کی مشکل ترین رات تھی۔ صبح رخصت ہوتے وقت اس نے رچرڈ سے پوچھا کہ اس طرح خواہ مخواہ رات کالی کرنے سے کیا حاصل ہوا۔ اس پر اس نے رازدارانہ انداز اپناتے ہوئے کہا:

’یہ تو مجھے بھی نہیں معلوم کہ کچھ حاصل حصول ہوا کہ نہیں… مگر میں کلائنٹ کو جو رپورٹ بھیجوں گا، وہ اسے پڑھ کر خوش ہوجائے گا۔ میں اس کے سارے شکوک شبہات کی نفی کردوں گا تاکہ اس کے اور متعلقہ فرد کے مابین جو بے اعتمادی کی دیوار کھڑی ہوچکی ہے، وہ مسمار ہوجائے۔۔۔ کیوں، میں ایک اچھا اور کامیاب ڈٹیکٹِو ہوں کہ نہیں؟‘

’اللہ جانے! مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آیا۔ البتہ ایک میڈیم سائز برگر اور ایک کوک پر پوری رات جاگ کر گزارنے سے میراجو حشر ہوا ہے، اسے تم نہیں سمجھ سکتے، میں ویب سائٹ والوں کو کہہ دوںگا کہ آئندہ مجھے کسی سراغ رساں کے پاس نہ بھیجیں۔‘

اسی لیے تو مجھے ہر مرتبہ کرائے پر کوئی نیا دوست بلوانا پڑتا ہے…ملاؤ ہاتھ، رچرڈ نے قہقہہ لگاتے ہوئے ہاتھ کارل کی طرف بڑھایا مگر کارل اسے نظرانداز کرتا ہوا، وہاں سے روانہ ہوگیا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اوپن اے آئی کا نیا ماڈل پہلے منتخب شراکت داروں تک کیوں محدود رہے گا؟

اسلام آباد میں انسانی پلاسنٹا کی مبینہ اسمگلنگ کا نیٹ ورک پکڑا گیا، 3 غیر ملکی باشندوں سمیت 5 افراد گرفتار

آبنائے ہرمز میں جہاز پر حملہ، ٹرمپ کا ایران کو جواب دینے کا عندیہ

اسپین نے یوراگوئے کو شکست دے کر ورلڈ کپ سے باہر کر دیا

پاکستان امن کے علمبردار کے طور پر دنیا میں اپنا مقام بنا رہا ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا پی این ایس رہبر میں پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب

ویڈیو

پاکستان امن کے علمبردار کے طور پر دنیا میں اپنا مقام بنا رہا ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا پی این ایس رہبر میں پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب

لاہور کی پبلک ٹرانسپورٹ میں پینک بٹن کیوں لگائے جا رہے ہیں؟

ایران امریکا جنگ بندی کے بعد پاکستان کو کون سے بڑے معاشی فوائد مل سکتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

فری اسپیچ کا لولی پاپ

تجھے کون بچائے گا کالیا؟

مسکراہٹیں بکھیرنے والے ادیب کی داستانِ غم