کراچی کے علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں امام بارگاہ کے باہر محرم کی مجلس میں شریک عزاداروں کے خیمے میں گاڑی گھسانے کے واقعے پر پولیس نے ڈرائیور سمیت 4 افراد کے خلاف دہشتگردی کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔
مقدمہ امام بارگاہ کے سیکیورٹی انچارج کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں گاڑی کے ڈرائیور کے 3 ساتھیوں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد امام بارگاہ دھماکہ، تمام علما دہشتگردی کے خلاف متحد ہوگئے
پولیس کے مطابق اتوار کی رات تقریباً 9 بج کر 30 منٹ پر ایک سوزوکی پک اپ امام بارگاہ کے باہر نصب خیمے سے ٹکرا گئی، جہاں عزادار محرم کی مجلس میں شریک تھے۔
واقعے میں زخمی ہونے والی ایک کم عمر لڑکی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی، جبکہ 23 افراد زخمی ہوئے، جن میں ڈرائیور اور اس کے ساتھی بھی شامل ہیں۔ ملزمان کو اسپتال میں علاج کے دوران پولیس تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
5 زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کردیا گیا، جبکہ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں زیر علاج ایک شخص کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ زون سید اسد رضا کے مطابق ابتدائی طور پر معلوم ہوا تھا کہ ڈرائیور تیز رفتاری کے باعث گاڑی پر قابو کھو بیٹھا اور امام بارگاہ سے تقریباً 200 میٹر دور لگائی گئی سیکیورٹی رکاوٹیں توڑتے ہوئے خیمے تک پہنچ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، ایک ہلاک، 3 گرفتار
تاہم ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزم نے منصوبہ بندی اور مجرمانہ سازش کے تحت جان بوجھ کر رکاوٹیں توڑ کر گاڑی کو خیمے میں داخل کیا۔ شکایت کنندہ کے مطابق یہ اقدام حادثہ نہیں بلکہ ایک بڑے دہشتگرد حملے کی مشق تھا، کیونکہ کالعدم تنظیموں اور فرقہ وارانہ گروہوں کی جانب سے مسلسل خطرات موجود رہے ہیں۔
مقدمے میں ڈرائیور محمد زاہد، بہادر سعید، مومن خان اور ارسلان عرف نادان کو نامزد کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملزمان کے کالعدم تنظیموں سے روابط بھی ہیں۔
ڈی آئی جی اسد رضا کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں گرفتار 2 ملزمان کا مجرمانہ ریکارڈ سامنے آیا ہے اور ان کے مبینہ طور پر منشیات استعمال کرنے کے شواہد بھی ملے ہیں۔
پولیس نے کیس مزید تحقیقات کے لیے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے حوالے کر دیا ہے، جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد اکٹھے کر کے واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں۔














