شدید گرمی کی لہر نے یورپ کے مختلف ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جہاں ریکارڈ درجہ حرارت، اموات اور روزمرہ زندگی میں خلل کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ فرانس میں کم از کم 18 افراد جان کی بازی ہار گئے جن میں ایک گرم گاڑی میں چھوڑے جانے والے 2 کم سن بچے بھی شامل ہیں، جبکہ اسپین، اٹلی اور برطانیہ میں بھی غیر معمولی گرمی کے باعث حکام نے الرٹ جاری کر دیے ہیں۔ ماہرین موسمیات اس صورتحال کو موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات سے جوڑ رہے ہیں۔
یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، فرانس میں 18 افراد ہلاک
یورپ بھر میں جاری شدید گرمی کی لہر کے باعث فرانس میں کم از کم 18 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں 2 بچے بھی شامل ہیں جو ایک گرم گاڑی میں چھوڑے جانے کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ منگل کے روز یورپ کے مختلف شہروں میں درجہ حرارت نے گزشتہ ریکارڈ توڑ دیے جبکہ کئی ممالک میں معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے۔
فرانس میں شدید گرمی کے باعث متعدد اسکول بند کر دیے گئے یا ان کے اوقاتِ کار میں تبدیلی کر دی گئی، جبکہ برطانیہ کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ رواں ہفتے جون کے مہینے کا تاریخی درجہ حرارت ریکارڈ ٹوٹ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے گزشتہ سال یورپ میں ریکارڈ توڑ گرمی سے 60ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے، تحقیق
فرانس کے معروف شراب ساز علاقے بورڈو میں درجہ حرارت 41.9 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال اگست میں قائم ہونے والے ریکارڈ سے زیادہ ہے۔ وسطی فرانس کے شہر پوئتیے میں درجہ حرارت 41.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو 1947 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔
ادھر اسپین کے شمالی اور نسبتاً ٹھنڈے شہر سان سیباسٹین میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی، جو اس تاریخ کے تاریخی اوسط درجہ حرارت سے دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) کی اپریل میں جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق یورپ دنیا کے دیگر خطوں کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ تیزی سے گرم ہو رہا ہے۔
گرم گاڑی میں چھوڑے گئے 2 بچے جاں بحق
جنوب مشرقی فرانس کے شہر کارپانٹرا کے پراسیکیوٹر کے مطابق 2 اور 4 سال عمر کے 2 بچے اپنے گھر کے باہر کھڑی خاندانی گاڑی میں بے ہوش حالت میں پائے گئے۔ امدادی اہلکار انہیں بچانے میں ناکام رہے اور دونوں بچوں کی موت واقع ہو گئی۔

اس کے علاوہ فرانس کے علاقے بورڈو میں شدید گرمی کے باعث صحت کے مسائل کا شکار 80 سے 95 سال عمر کے 3 بزرگ افراد بھی ہفتے کے اختتام پر جان کی بازی ہار گئے۔
فرانسیسی سول سیکیورٹی سروس کے ترجمان جیروم بولانژر نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ صرف نگرانی والے مقامات پر ہی تیراکی کریں۔ ان کے مطابق اتوار اور پیر کے دوران 13 افراد ڈوب کر ہلاک ہوئے۔ گزشتہ سال بھی گرمی کی شدید لہر کے دوران فرانس میں ڈوبنے سے ہونے والی اموات میں 172 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
اومیگا بلاک کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق یورپ کو متاثر کرنے والی موجودہ گرمی کی لہر ’اومیگا بلاک‘ نامی موسمیاتی نظام کا نتیجہ ہے۔ لندن کے امپیریل کالج سے وابستہ موسمیاتی محقق کلیئر بارنس کے مطابق یہ نظام یونانی حرف ’اومیگا‘ کی شکل اختیار کرتا ہے، جس میں وسط میں گرم ہوا کا بڑا دباؤ اور اطراف میں نسبتاً ٹھنڈی ہوائیں موجود ہوتی ہیں۔
ان کے مطابق یہ نظام شمالی افریقہ اور صحرائے اعظم سے گرم ہوا کو یورپ کی جانب کھینچ رہا ہے، جس کے باعث غیر معمولی گرمی پیدا ہوئی ہے۔ یہ موسمی نظام بہت آہستہ حرکت کرتا ہے، جس کی وجہ سے ٹھنڈی ہواؤں یا ہوا کے جھونکوں سے بھی کوئی خاص ریلیف نہیں ملتا۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث نہ صرف گرمی کی لہریں زیادہ شدید ہو رہی ہیں بلکہ طوفانوں اور بارشوں کی شدت میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
برطانیہ میں جون کا ریکارڈ ٹوٹنے کا امکان
برطانوی محکمہ موسمیات کے مطابق ملک میں جاری 4 روزہ ہیٹ ویو بعض علاقوں میں درجہ حرارت کو 39 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی اوپر لے جا سکتی ہے، جس سے جون کے مہینے کا 35.6 ڈگری سینٹی گریڈ کا ریکارڈ ٹوٹنے کا امکان ہے۔ یہ ریکارڈ 1957 اور 1976 میں قائم ہوا تھا۔
لندن میں چہل قدمی کرنے والے ایک شہری لیوس جیننگز نے شدید گرمی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’36 ڈگری کا درجہ حرارت ناقابل برداشت محسوس ہوگا۔‘
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں بھی جون کے مہینے کا بلند ترین درجہ حرارت ریکارڈ ہونے کی توقع ہے، جہاں پارہ 38.4 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔

اسپین کے محکمہ موسمیات کے ترجمان روبین ڈیل کامپو کے مطابق ملک کے بیشتر حصوں میں درجہ حرارت معمول سے 5 سے 10 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہے، جبکہ بعض شمالی علاقوں میں یہ فرق 10 ڈگری سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔
اٹلی میں ریڈ الرٹ، جنگلی حیات بھی متاثر
اٹلی نے پیر کے روز ملک کے 12 شہروں میں شدید گرمی کے باعث ریڈ الرٹ جاری کر دیا۔
اطالوی توانائی کمپنی ’ایرن‘ کے مطابق شہر ٹورین میں بجلی کے نظام پر دباؤ بڑھنے کے باعث وقفے وقفے سے بجلی کی بندش کا سامنا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے اضافی عملہ اور جنریٹرز تعینات کیے جا رہے ہیں۔
شدید گرمی کے اثرات صرف انسانوں تک محدود نہیں رہے۔ بیلجیم میں جنگلی جانوروں کی بحالی کے ایک مرکز کی بانی رومین ڈی جیگیرے کے مطابق ابابیل، چڑیا اور دیگر پرندے شدید متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ ان کے گھونسلے عموماً چھتوں کے کناروں میں ہوتے ہیں، جہاں درجہ حرارت بعض اوقات 50 سے 60 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔
ان کے بقول پرندے گھونسلوں میں جل کر مرنے کے بجائے باہر کودنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 3 روز کے دوران ان کے مرکز میں 150 جانور اور پرندے لائے جا چکے ہیں۔













