چین نے کمپیوٹنگ ٹیکنالوجی میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے دنیا کے تیز ترین سپر کمپیوٹرز کی فہرست میں امریکا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جس سے عالمی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں دونوں ممالک کے درمیان مقابلہ مزید شدت اختیار کرگیا ہے۔
چین کا سپر کمپیوٹر لائن شائن، جو شین ژین میں قائم نیشنل سپر کمپیوٹر سینٹر میں موجود ہے، جون 2026 کی ٹاپ 500 فہرست میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔ یہ نظام مکمل طور پر چین میں تیار کردہ چپس پر کام کرتا ہے اور 3 سال بعد پہلی بار چین کی اس فہرست میں واپسی کی علامت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت کی دنیا میں چین امریکا کو پیچھے چھوڑنے کے قریب پہنچ گیا
لائن شائن نے امریکا کے سابقہ نمبر ایک سپر کمپیوٹر ایل کیپیٹن کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جو امریکی حکومت کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کے انتظام اور تحقیق کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور لیور مور نیشنل لیبارٹری میں نصب ہے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کوانٹم کمپیوٹنگ کے شعبے میں امریکا کی برتری برقرار رکھنے کے لیے 2 صدارتی احکامات پر دستخط کیے ہیں۔
پہلے حکم کے تحت 2028 تک سائنسی تحقیق کے لیے قابل اعتماد اور غلطیوں سے پاک کوانٹم کمپیوٹر تیار کرنے کا قومی ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ دوسرے حکم کے تحت وفاقی اداروں کو 2031 تک پوسٹ کوانٹم کرپٹوگرافی کی جانب منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔
اگرچہ لائن شائن روایتی ٹاپ 500 ٹیسٹ میں پہلے نمبر پر ہے، تاہم مصنوعی ذہانت کے کاموں سے زیادہ مشابہ ایک الگ معیار پر اس کی درجہ بندی چوتھے نمبر پر رہی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کا چین کی ڈیپ سیک سمیت متعدد کمپنیوں کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے سے گریز، 100 سے زائد ادارے سیکیورٹی رسک قرار
ماہرین کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین کی توجہ مصنوعی ذہانت میں عالمی برتری حاصل کرنے کے بجائے مقامی چپس کی تیاری اور ٹیکنالوجی میں خود کفالت پر مرکوز ہے۔
سپر کمپیوٹنگ تحقیقی ادارے انٹرسیکٹ 360 ریسرچ کے چیف ایگزیکٹو ایڈیسن اسنیل نے کہا کہ انہیں اس بات پر حیرت نہیں کہ یہ دنیا کا تیز ترین نظام ہے، بلکہ حیرت اس بات پر ہے کہ چین نے اسے عالمی شناخت کے لیے ٹاپ 500 فہرست میں شامل کرایا۔
ماہرین کے مطابق لائن شائن میں جدید اے آئی چپس استعمال نہیں کی گئیں، جس کی ایک ممکنہ وجہ امریکا کی جانب سے عائد کردہ برآمدی پابندیاں ہو سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ چین 2010 میں پہلی بار ٹاپ 500 فہرست میں سرفہرست آیا تھا، جبکہ 2023 تک امریکا اور جاپان کے درمیان یہ مقام تبدیل ہوتا رہا۔ چین نے بائیڈن انتظامیہ کے دور میں چپس سے متعلق امریکی برآمدی پابندیوں کے باعث 2023 کے بعد اپنے سپر کمپیوٹرز کی تفصیلات ٹاپ 500 کو فراہم کرنا بند کردی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایپل امریکا میں چپس کی تیاری کے لیے انٹیل کے ساتھ کام کرے گا، ڈونلڈ ٹرمپ
ٹاپ 500 بینچ مارک بنیادی طور پر روایتی سائنسی سیمولیشنز کی جانچ کے لیے بنایا گیا ہے، اسی لیے مائیکروسافٹ، گوگل اور ایمیزون جیسی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے جدید مصنوعی ذہانت پر مبنی سپر کمپیوٹرز عموماً اس فہرست میں شامل نہیں ہوتے۔













