وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے ایرانی ہم منصب ڈاکٹر اسکندر مومنی سے ملاقات میں پاک ایران تعلقات، خطے کی تازہ ترین صورتحال اور حالیہ امن معاہدے کے بعد پیدا ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
ملاقات کے دوران ایرانی وزیر داخلہ ڈاکٹر اسکندر مومنی نے ایرانی صدر اور ان کے وفد کے پاکستان آمد پر پرتپاک استقبال اور بھرپور میزبانی پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا ہے، قومی اتحاد کی ضرورت ہے، اسحاق ڈار کی میڈیا بریفنگ
دونوں وزرائے داخلہ نے خطے میں کشیدگی میں کمی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امن و استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں مشترکہ اعلامیے اور امن معاہدے پر ایرانی ہم منصب کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت حکومت ایران اور ڈاکٹر اسکندر مومنی کی مخلصانہ کاوشوں کے بغیر ممکن نہ تھی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی کی ملاقات
پاک ایران تعلقات اور امن معاہدے کے بعد خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تفصیلی گفتگوڈاکٹر اسکندر مو منی نےُایرانی صدر اور انکے وفد کا پاکستان آمد پر بھرپور خیر مقدم پر شکریہ ادا کیا pic.twitter.com/1kj7v1P3Oi
— Ministry of Interior GoP (@MOIofficialGoP) June 24, 2026
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ دنیا بھر میں امن، استحکام اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کا حامی رہا ہے اور مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
محسن نقوی نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ امن معاہدے کے خطے پر دور رس اور مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور اس سے علاقائی استحکام کو مزید تقویت ملے گی۔
ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون، انسداد دہشتگردی، سائبر سیکیورٹی، امیگریشن اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔
مزید پڑھیں: ایرانی صدر مسعود پزشکیان پاکستان کا ایک روزہ دورہ مکمل کرکے واپس روانہ
اس موقع پر ایرانی وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ جلد پاکستان کا تفصیلی دورہ کریں گے، جس کا مقصد دونوں ممالک کی وزارت داخلہ کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینا ہوگا۔
ڈاکٹر اسکندر مومنی نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کے مخلصانہ کردار اور پاکستانی قوم کے تعاون کو بھی سراہا۔
ملاقات میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، سیکریٹری داخلہ، ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے، کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی اور ڈی جی این سی سی آئی اے سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔














