خلیج میں تیل کی ترسیل بحال، عالمی منڈی میں خام تیل سستا

بدھ 24 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بدھ کے روز بھی کمی کا سلسلہ جاری رہا اور قیمتیں گزشتہ سیشن میں دیکھی گئی تقریباً 4 ماہ کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گئیں۔

اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ایران جنگ کے آغاز کے بعد خلیج میں پھنسے مزید آئل ٹینکروں کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی توقع پیدا ہوگئی ہے۔

برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 37 سینٹ یا 0.5 فیصد کمی کے بعد 76.71 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 36 سینٹ یعنی 0.5 فیصد کمی کے ساتھ 72.85 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی میں نرمی کی امید، خام تیل کی قیمتیں نیچے آگئیں

منگل کے روز دونوں بینچ مارک تقریباً ایک فیصد گر گئے تھے اور مارچ کے اوائل کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئے تھے۔

اس ہفتے تیل کی قیمتوں پر دباؤ اس وقت بڑھا جب واشنگٹن نے ابتدائی امن مذاکرات کے بعد تہران کو 60 روزہ پابندیوں میں نرمی دیدی، جس کے تحت ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت مل گئی۔

دوسری جانب لبنان میں کشیدگی میں کمی نے بھی منڈی کو سہارا دیا۔

مٹسوبشی یو ایف جے ریسرچ اینڈ کنسلٹنگ کے سینئر ماہر اقتصادیات تومومیچی اکوتا کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بحال ہونے کی توقعات نے خام تیل کی قیمتوں کو نیچے دھکیل دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر جوہری مذاکرات میں مزید پیش رفت ہوتی ہے تو قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح تک واپس آ سکتی ہیں۔

منگل کے روز عمان اور ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے مستقبل کے انتظامات پر مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

مزید پڑھیں: عالمی منڈی میں خام تیل سستا: کیا پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم ہوسکتی ہیں؟

ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکوروبیو نے کہا کہ اگر ایران بحری گزرگاہ استعمال کرنے والے جہازوں سے ٹرانزٹ فیس وصول کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوگی۔

تاہم معاہدے کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران غیر معینہ مدت تک جوہری تنصیبات کے معائنے پر آمادہ ہوگیا ہے۔

جبکہ تہران نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات میں ایسی کوئی رعایت نہیں دی گئی۔

سرمایہ کار اس بات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں کہ مشرق وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے ممالک کتنی جلدی اپنی برآمدات مکمل طور پر بحال کرتے ہیں اور آیا مزید جہاز خطے میں داخل ہو سکیں گے یا نہیں۔

جہازوں کی نقل و حرکت کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ منگل کے روز خلیج میں پھنسے 3 بڑے سپر ٹینکر آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب رہے۔

اقوام متحدہ کے شپنگ ادارے کے مطابق امریکا-ایران جنگ بندی معاہدے کے بعد خلیج میں پھنسے تقریباً 11 ہزار ملاحوں اور سینکڑوں جہازوں کو محفوظ طریقے سے آبنائے ہرمز سے گزارنے کے لیے انخلا اور نقل و حرکت کا منصوبہ جاری ہے۔

مزید پڑھیں: ایران سے متعلق قرارداد نے میرا کام مشکل بنادیا، مگر مقصد حاصل کر کے رہوں گا، ٹرمپ

دوسری جانب امریکی پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 19 جون کو ختم ہونے والے ہفتے میں امریکا کے خام تیل کے ذخائر 7 لاکھ 65 ہزار بیرل کم ہوئے۔

تاہم خبر رساں ادارے رائٹرز کے سروے میں شامل نو ماہرین نے اوسطاً اندازہ لگایا تھا کہ خام تیل کے ذخائر میں تقریباً 45 لاکھ بیرل کی کمی واقع ہوئی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر خطے میں امن و استحکام کی صورتحال مزید بہتر ہوتی ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل معمول پر آتی ہے تو آنے والے دنوں میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان کے آزادی کے دن کی تقریبات، سویٹ ہوم کے بچے فوجی یونیفارم میں بنے توجہ کا مرکز !

یومِ آزادی کے موقع پر مزارِ قائد کی حفاظت کا اعزاز پاک بحریہ کے چاق و چوبند دستے کے سپرد

صدر آصف علی زرداری کی جانب سے 355 شخصیات کے لیے سول اعزازات کی سفارشات

14 اگست، پاکستان کا آزادی کی جانب سفر، 79 سالہ قربانیوں اور ترقی کا سفر

پاکستان اور فرانس کا کثیرالجہتی امور پر تعاون اور عالمی فورمز پر رابطہ مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

ویڈیو

پاکستان کے آزادی کے دن کی تقریبات، سویٹ ہوم کے بچے فوجی یونیفارم میں بنے توجہ کا مرکز !

14 اگست، پاکستان کا آزادی کی جانب سفر، 79 سالہ قربانیوں اور ترقی کا سفر

آزادی محض سرزمین کے حصول کا نام نہیں بلکہ عوام کے حقوق کا وعدہ پورا  کرنا  بھی ہے، بلاول بھٹو کا پیغام

کالم / تجزیہ

مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں

سن 47، 1200 پاکستانی اور ایک چابی

انڈین خارجہ پالیسی کی ارتھی