پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ مستقبل کی جنگوں کے تقاضے روایتی جنگی حکمت عملیوں پر نظرثانی اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ، فکری طور پر مضبوط افرادی قوت کی تیاری کے متقاضی ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے پاکستان نیوی وار کالج لاہور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے 55ویں پاکستان نیوی اسٹاف کورس کے شرکا سے خطاب کیا۔
یہ بھی پڑھیں: انسانی ہمدردی کی مثال: پاک بحریہ نے بحیرہ عرب میں امدادی کارروائی کرتے ہوئے بھارتی جہاز کے عملے کو بچا لیا
نیول چیف نے اپنے خطاب میں جدید جنگی ماحول کی بدلتی ہوئی نوعیت اور سمندری سلامتی کو درپیش ابھرتے ہوئے چیلنجز پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ روایتی اور غیر روایتی خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے حکمت عملیوں کو نئے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
#ISPR
Rawalpindi, 24 June, 2026;Admiral Naveed Ashraf, NI, NI (M), T Bt, Chief of the Naval Staff, visited #Pakistan Navy War College, Lahore, and addressed the participants of the 55th PN Staff Course.
Chief of the Naval Staff underscored that future wars necessitate….. pic.twitter.com/v81DdUT6BL
— Pakistan Armed Forces News 🇵🇰 (@PakistanFauj) June 24, 2026
ایڈمرل نوید اشرف نے پاک بحریہ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ جدیدیت، مقامی سطح پر دفاعی صلاحیتوں کے فروغ اور تینوں مسلح افواج کے درمیان مشترکہ تعاون کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کورس کے شرکا پر زور دیا کہ وہ اپنی اسٹریٹجک بصیرت اور آپریشنل صلاحیتوں کو مزید بہتر بنائیں تاکہ مستقبل کے چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

سمندری سلامتی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نیول چیف نے کہا کہ بحرِ ہند کا خطہ تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال اور بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی رقابت کے باعث ایک حساس اور مسابقتی خطہ بن چکا ہے، جس کے اثرات علاقائی سلامتی کے ماحول پر مرتب ہو رہے ہیں۔
اپنے اختتامی کلمات میں ایڈمرل نوید اشرف نے 55ویں پاکستان نیوی اسٹاف کورس کے شرکا کو کورس کی کامیاب تکمیل پر مبارکباد دی اور انہیں پیشہ ورانہ مہارت، تجزیاتی صلاحیتوں اور جدت پسندی کو اپنی آئندہ ذمہ داریوں کا محور بنانے کی تلقین کی۔














