شدید گرمی کی لہر کے دوران اپنے گھر اور جسم کو ٹھنڈا رکھنا نہ صرف آرام کے لیے ضروری ہے بلکہ صحت کے تحفظ کے لیے بھی اہم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟
ماہرین کے مطابق چند سادہ تدابیر اختیار کر کے گرمی کے اثرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
ٹھنڈی ہوا کو گھر میں آنے دیں
ماہرین کے مطابق گھر کے مخالف سمتوں میں موجود کھڑکیاں کھولنے سے ہوا کا بہاؤ پیدا ہوتا ہے جس سے اندر موجود گرم ہوا باہر نکلتی ہے اور نسبتاً ٹھنڈی ہوا اندر داخل ہوتی ہے۔
یہ عمل رات کے وقت یا صبح سویرے کرنا زیادہ مؤثر ہوتا ہے کیونکہ اس وقت باہر کا درجہ حرارت گھر کے اندر کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔
اگر فلیٹ میں صرف ایک جانب کھڑکیاں موجود ہوں تو دروازے کھول کر پنکھے کا استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ ہوا کی گردش بہتر ہو سکے۔
چونکہ گرم ہوا اوپر کی جانب جاتی ہے اس لیے اگر گھر میں اٹاری یا اوپری منزل کی کھڑکیاں موجود ہوں تو انہیں کھولنے سے گرمی کے اخراج میں مدد ملتی ہے۔
مزید پڑھیے: یورپ میں شدید گرمی کی لہر سے 1,300 سے زائد اموات، عالمی ادارۂ صحت کا انتباہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب انسولیشن نہ صرف سردیوں میں توانائی کی بچت کرتی ہے بلکہ گرمیوں میں بھی گھر کو ٹھنڈا رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
دن کے وقت گرم ہوا کو گھر میں داخل ہونے سے روکیں
گرمی کے اوقات میں کھڑکیاں بند رکھنا اور پردے یا بلائنڈز گرا دینا بہتر ہوتا ہے خصوصاً گھر کے ان حصوں میں جہاں براہ راست دھوپ پڑ رہی ہو۔
اس طریقے سے سورج کی حرارت کو گھر کے اندر داخل ہونے سے روکا جا سکتا ہے اور کمروں کا درجہ حرارت نسبتاً معتدل رکھا جا سکتا ہے۔
ٹھنڈک کے لیے پنکھے کا مؤثر استعمال کریں
پنکھے نسبتاً سستے اور کم بجلی خرچ کرنے والے آلات ہیں جو ہوا کی گردش کو برقرار رکھتے ہوئے جسم کو ٹھنڈک کا احساس دلاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق کھلی کھڑکی کے سامنے پنکھا رکھنے سے باہر کی نسبتاً ٹھنڈی ہوا کمرے میں پھیلائی جا سکتی ہے۔ اسی طرح پنکھے کے سامنے برف یا ٹھنڈے پانی کی بوتل رکھنے سے ہوا مزید ٹھنڈی محسوس ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: گرمی میں ورزش محفوظ طریقے سے کیسے کی جائے؟ ماہرین کی اہم ہدایات
برطانیہ کی یونیورسٹی آف پورٹسماؤتھ کے پروفیسر مائیک ٹپٹن کے مطابق چہرے پر پنکھے کی ہوا ٹھنڈک کا زیادہ احساس پیدا کرتی ہے جبکہ پورے جسم پر ہوا جسمانی درجہ حرارت کم کرنے میں زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہو تو پنکھے کا استعمال بعض اوقات فائدے کے بجائے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس صورت میں صرف گرم ہوا ہی جسم کی جانب منتقل ہوتی ہے۔
گرمی پیدا کرنے والی سرگرمیوں کو محدود کریں
اوون، چولہے، واشنگ مشین اور ڈش واشر جیسے آلات استعمال کے دوران اور بعد میں بھی گھر میں حرارت پیدا کرتے ہیں۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ شدید گرمی کے دوران ٹھنڈی غذائیں جیسے سلاد وغیرہ استعمال کی جائیں تاکہ اضافی حرارت پیدا نہ ہو۔
اس کے علاوہ ہوا میں نمی کی زیادتی بھی جسمانی تھکن اور ہیٹ ایکزاسشن کا باعث بن سکتی ہے لہٰذا نمی کم کرنے کے لیے مختصر اور نسبتاً ٹھنڈے شاور لینا، گیلی سطحوں کو خشک کرنا اور گھریلو پودوں کو باہر منتقل کرنا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
اپنے جسم کو ٹھنڈا رکھیں
نیم گرم یا ہلکے ٹھنڈے پانی سے نہانا جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: شدید گرمی میں ڈی ہائیڈریشن کا مسئلہ: درست رہنمائی کے لیے اسمارٹ گیجٹس متعارف
پروفیسر مائیک ٹپٹن کے مطابق بہت زیادہ ٹھنڈا پانی استعمال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سے جسم جلد کی جانب خون کی روانی کم کر دیتا ہے جس کے نتیجے میں جسمانی حرارت باہر نکلنے کے بجائے اندر ہی رہ جاتی ہے۔
برف یا ٹھنڈے پانی کی بوتل کو تولیے میں لپیٹ کر جسم کے مختلف حصوں پر رکھنا فوری ٹھنڈک کا احساس فراہم کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سوتی اور کتان کے کپڑے جسمانی درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں مدد دیتے ہیں جبکہ ڈھیلے کپڑے پہننے سے ہوا کی بہتر گردش ممکن ہوتی ہے۔ اسی طرح سوتی چادریں گرم موسم میں بہتر نیند میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔
ضرورت پڑنے پر کسی ٹھنڈی جگہ کا انتخاب کریں
اگر گھر کا ماحول بہت زیادہ گرم ہو جائے تو ائیرکنڈیشنڈ عوامی مقامات جیسے لائبریریاں، شاپنگ سینٹرز اور تفریحی مراکز وقتی طور پر بہتر متبادل ثابت ہو سکتے ہیں۔
کئی ممالک اور شہروں میں مقامی انتظامیہ نے عوام کے لیے خصوصی ’کول اسپیسز‘ یا ٹھنڈے مراکز قائم کیے ہیں جہاں لوگ شدید گرمی کے دوران پناہ لے سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ہیٹ ویوز کے دوران پالتو جانوروں کو موسمی اثرات سے کیسے بچایا جائے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید گرمی کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہیٹ ایکزاسشن اور ہیٹ اسٹروک جیسے خطرناک طبی مسائل سے بچنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔














