پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کو کاروبار کے آغاز پر سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور خریداری کے نتیجے میں انڈیکس میں 1,400 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
صبح 11 بج کر 25 منٹ تک کے بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,441.74 پوائنٹس یعنی 0.81 فیصد اضافے کے ساتھ 179,856.53 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان برقرار، سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مضبوط
مارکیٹ میں نمایاں خریداری آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں اور ریفائنری کے شعبوں میں دیکھی گئی۔
او جی ڈی سی ایل، ماری انرجیز، پاکستان آئل فیلڈز، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، حبکو، اٹک ریفائنری، پاکستان اسٹیٹ آئل، سوئی سدرن گیس کمپنی اور یونائیٹڈ بینک جیسے انڈیکس پر زیادہ اثر رکھنے والے حصص سبز زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔
Market is up at midday 🚀
⏳ KSE 100 is positive by +1329.96 points (+0.75%) at midday trading. Index is at 179,744.76 and volume so far is 87.01 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/xDKWbeZBMG— Investify Pakistan (@investifypk) June 30, 2026
اس سے قبل پیر کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا دباؤ دوبارہ بڑھ گیا تھا، ہفتہ وار تعطیلات کے دوران پیدا ہونے والی نئی جغرافیائی و سیاسی بے یقینی کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی آئی۔
جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر منافع وصولی کا رجحان دیکھنے میں آیا اور مارکیٹ گزشتہ سیشن کی تمام تر پیش رفت کھو بیٹھی۔
مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ کا مثبت آغاز، انڈیکس میں 400 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,156.47 پوائنٹس یعنی 0.64 فیصد کمی کے ساتھ 178,414.80 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
دوسری جانب عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔ ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں سہ ماہی کے اختتام پر اتار چڑھاؤ کا شکار رہیں، جبکہ امریکی ڈالر کی مضبوطی نے جاپانی ین کو تقریباً چار دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچا دیا۔

جاپان کا نکیئی انڈیکس ابتدائی کاروبار میں تقریباً مستحکم رہا، تاہم رواں سہ ماہی میں اس میں 36 فیصد سے زیادہ اضافے کی توقع ہے۔ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس ایک فیصد گر گیا، اگرچہ دوسری سہ ماہی کے دوران اس میں تقریباً 65 فیصد اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عالمی تیل کی منڈی میں بھی جنگ سے متعلق خدشات میں نمایاں کمی آئی ہے اور برینٹ خام تیل کی قیمت 72.49 ڈالر فی بیرل کی جنگ سے قبل والی سطح پر آ گئی ہے، اگرچہ جنگ بندی کے عبوری معاہدے کے مستقبل کے حوالے سے خدشات برقرار ہیں۔














