اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے کے موضوع پر اپنی نوعیت کی پہلی بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں آبی ماہرین اور اعلیٰ حکومتی شخصیات نے شرکت کی۔
کانفرنس میں وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر، سابق صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض، انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے صدر ایمبیسیڈر جوہر سلیم، سابق وفاقی وزیر قانون احمد بلال صوفی، سندھ طاس معاہدہ کمشنر سید مہر علی شاہ سمیت بین الاقوامی آبی امور کے ماہرین شریک ہوئے۔
اس موقع پر سندھ طاس معاہدہ کمشنر سید مہر علی شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی قانونی معاہدہ ہے جس پر سیاسی گفتگو کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ آج بھی مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور اس کی قانونی حیثیت برقرار ہے۔
دوسری جانب کانفرنس کے انعقاد کے بعد سوشل میڈیا پر بھی سندھ طاس معاہدے سے متعلق بحث جاری رہی جہاں متعدد صارفین نے مختلف آراء کا اظہار کرتے ہوئے بھارت کی پالیسیوں پر تنقید کی۔
اداکار عمران عباس کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کو کوئی ملک یکطرفہ طور پر معطل، ختم یا اس میں ترمیم نہیں کرسکتا۔
سندھ طاس معاہدے کو کوئی ملک یکطرفہ طور پر معطل، ختم یا اس میں ترمیم نہیں کرسکتا.@PakistanTVcom#IndusWatersTreaty pic.twitter.com/nlfSAtyHXx
— Javed Iqbal (@javedeqbalpk1) June 30, 2026
مدیحہ شیخ کا کہنا تھا کہ پانی کو ہتھیار نہیں بنایا جا سکتا اس پر سنجیدہ اور فوری عالمی توجہ ناگزیر ہے۔
6 ہزار جانیں، 19 ہزار زخمی، 4 کروڑ بے گھر اور 1.8 ارب تعلیمی دن ضائع… پانی کا بحران صرف وسائل کا نہیں، انسانیت کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ پانی کو ہتھیار نہیں بنایا جا سکتا، اس پر سنجیدہ اور فوری عالمی توجہ ناگزیر ہے۔#IndusWatersTreaty pic.twitter.com/BcAg9OGfB2
— Madiha Sheikh🔥 (@MadihaPMLNYouth) June 30, 2026
مسلم لیگ ن کی رہنما حنا پرویز بٹ نے کہا کہ پانی زندگی ہے، ہتھیار نہیں۔ پاکستان اپنے آبی حقوق پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ امن، استحکام اور بین الاقوامی قانون کے احترام کے لیے سندھ طاس معاہدے پر مکمل عمل درآمد ناگزیر ہے۔
Water is life, not a weapon.
Pakistan will never compromise on its water rights. The Indus Waters Treaty must be respected for peace, stability and international law.#IndusWatersTreaty #Pakistan pic.twitter.com/n2nRlhpPIR
— Hina Parvez Butt (@hinaparvezbutt) June 30, 2026
ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایک بار پھر اپنی غیر لچکدار ریڈ لائن کھینچ دی ہے۔ ہماری زراعت اور معیشت کا دارومدار انہی دریاؤں پر ہے اور اگر غرور میں معاہدے کو نقصان پہنچایا گیا تو پاکستان اپنی بقا کی جنگ ہر محاذ پر لڑنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
سندھ طاس معاہدے پر اسلام آباد میں ہونے والے ہائی لیول سیمینار میں سابق وزیر قانون احمر بلال صوفی کے سخت خطاب نے بھارت کے جارحانہ عزائم کی دھجیاں اڑا دیں ہیں۔
انہوں نے دنیا کو جھنجھوڑتے ہوئے بتایا کہ کس طرح بھارت قانونی راستہ ترک کر کے ہٹ دھرمی اور بلیک میلنگ پر اتر آیا ہے۔ بین… pic.twitter.com/FmCla2Q3GN
— Advocate Afshan Awan (@AdvAfshanAwan) June 30, 2026
چچچچ













