پاکستان نے افغانستان میں دہشتگردوں کے مبینہ ٹھکانوں کے خلاف کارروائی سے متعلق بھارتی وزارتِ خارجہ کے حالیہ بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد، اشتعال انگیز اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بدھ کو جاری بیان میں کہا کہ پاکستان اپنی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق جائز، ٹارگٹیڈ اور متناسب اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے، لہٰذا بھارت کا مؤقف ناقابل قبول ہے۔
یہ بھی پڑھیے افغان ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی، کراچی حملے میں ملوث ہونے پر احتجاجی مراسلہ حوالے
ترجمان کے مطابق بھارت، جو خود ماضی میں پڑوسی ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت میں مداخلت کرتا رہا ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کا مرتکب رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے برعکس دبا رہا ہے۔
دفتر خارجہ نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشتگرد گروہوں کی معاونت اور سرپرستی کرتا رہا ہے، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ پابندیوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ بھارت خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والے کردار کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، دفتر خارجہ
ترجمان نے کہا کہ بھارت کے بے بنیاد الزامات اور اشتعال انگیز بیانات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جانا چاہیے۔
بیان کے اختتام پر دفتر خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے شہریوں کی سلامتی اور قومی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔














