امریکی مفکر ہنری ڈیوڈ تھورو نے لکھا تھا ’ہماری زندگی بھی دریا کے پانی کی مانند ہے۔‘ میں آج زندہ دریاؤں کی وکالت کرنے آیا ہوں، اور ان لوگوں پر فردِ جرم عائد کرتا ہوں جو ایک پوری تہذیب کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، جو بین الاقوامی قانون کی توہین کرتے ہیں، اور جو انسانیت کو سزا دینے اور اسے اپنی مرضی پر مجبور کرنے کے لیے دریاؤں کا گلا گھونٹنے پر تُلے ہوئے ہیں۔
جرم واضح ہے، بھارت نے پانی کو ہتھیار بنا لیا ہے۔ 23 اپریل 2025 کو پہلگام میں ہونے والے دہشتگرد حملے کے بعد بھارتی حکومت نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا۔ یہ وہ معاہدہ تھا جو 2 جوہری طاقتوں کے درمیان 4 بڑی جنگوں اور 65 برس کی مسلسل دشمنی کے باوجود قائم و دائم رہا۔
اس کے بعد دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ اپریل 2025 میں بھارت کے وزیرِ آبی وسائل نے اعلان کیا ’ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ دریائے سندھ کا ایک قطرہ پانی بھی پاکستان نہ پہنچ سکے۔‘ ایک ماہ بعد بھارتی وزیرِ داخلہ نے اس سے بھی دو ٹوک انداز میں کہا ’سندھ طاس معاہدہ کبھی بحال نہیں ہوگا۔‘ اس سے پہلے 2016 میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی یہ کہہ چکے تھے کہ ’خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔‘ اس کے بعد سے وہ بارہا اس مؤقف کو دہراتے آئے ہیں۔ بھارت نے اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ بھی پہنا دیا۔
مئی 2025 میں بگلیہار ڈیم سے دریائے چناب کا بہاؤ روک دیا گیا۔ بھارتی حکومت کے ایک سینیئر عہدیدار نے اخبار انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ یہ ایک تعزیری اقدام تھا۔ اس کے الفاظ تھے، ’چاہے ہم مختصر وقت کے لیے ہی پانی روکیں، لیکن اس سے یہ پیغام دینا مقصود ہے کہ ہم دباؤ ڈالنے والے اقدامات سے گریز نہیں کریں گے۔ دریائے چناب کا پانی پنجاب کی زرعی زمینوں کو سیراب کرتا ہے، اور پاکستان کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ہم ہر محاذ پر اسے سزا دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘
یوں دریاؤں کا گلا گھونٹنا، سزا دینا اور دباؤ ڈالنا بھارت کی سرکاری پالیسی بن چکی ہے۔ دریاؤں کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔ 20 کروڑ انسانوں کو اس جرم کی سزا دی جا رہی ہے جو انہوں نے نہیں کیا، بلکہ صرف ان الزامات کی بنیاد پر جو ان کی حکومت پر بغیر کسی ثبوت کے عائد کیے جا رہے ہیں۔
بھارت کے وزیرِ داخلہ نے مزید اعلان کیا کہ ’سندھ طاس معاہدہ کبھی بحال نہیں ہوگا۔ پاکستان کو جانے والا پانی نہر بنا کر راجستھان منتقل کیا جائے گا، اور پاکستان اس پانی سے محروم کر دیا جائے گا جو اسے بلاجواز مل رہا تھا۔‘ گویا بھارت کی حکومت نے پوری دنیا کے سامنے یہ اعلان کر دیا ہے کہ وہ اپنے ہمسایہ ملک کی آبادی کو پانی سے محروم کرنا چاہتی ہے۔
اس اعلان کو اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی منشور کے ساتھ رکھ کر دیکھیے، جو پانی کو ہر انسان کا بنیادی حق تسلیم کرتا ہے۔ اسے جنیوا کنونشنز کے ساتھ رکھ کر دیکھیے۔ اور اسے ان تمام اصولوں کے مقابل رکھیے جن پر مہذب دنیا نے بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد رکھی ہے۔ پاکستان کا قانونی مؤقف بین الاقوامی قانون پر پوری مضبوطی سے استوار ہے۔
جون 2025 میں دی ہیگ میں قائم ثالثی عدالت نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے میں کسی ایک فریق کو اسے یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اختیار حاصل نہیں، اور عدالت نے اس معاملے پر اپنے دائرۂ اختیار کی بھی توثیق کی۔
بھارت کا ردِعمل کیا تھا؟ اس نے عدالت ہی کو غیر قانونی قرار دے دیا اور کارروائی میں شریک ہونے سے انکار کردیا۔ جب کوئی ریاست قانونی دلائل میں ناکام ہو کر عدالت ہی کو مسترد کر دے تو درحقیقت وہ اپنی ہی کمزوری اور قصور کا اعتراف کر رہی ہوتی ہے۔
بین الاقوامی قانون بھی پاکستان کے مؤقف کی مکمل تائید کرتا ہے۔1997 کے اقوامِ متحدہ کنونشن برائے بین الاقوامی آبی گزرگاہیں واضح طور پر اس اصول کو تسلیم کرتا ہے کہ سرحد پار دریاؤں کے پانی کا استعمال منصفانہ، معقول اور مساوی بنیادوں پر ہونا چاہیے، اور کوئی بھی ریاست ایسا اقدام نہیں کر سکتی جس سے دوسرے ملک کو نمایاں نقصان پہنچے۔
اسی طرح ویانا کنونشن برائے معاہدات کی دفعہ 62 کے مطابق سیاسی کشیدگی، حتیٰ کہ دہشتگردی جیسے واقعات بھی ایسی بنیادی تبدیلی تصور نہیں کیے جا سکتے جو کسی آبی معاہدے کے مقصد اور نوعیت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کر دیں۔ یہ محض قانونی نظریہ نہیں بلکہ ایک تسلیم شدہ عدالتی اصول بھی ہے۔
بین الاقوامی عدالتِ انصاف نے 1997 میں گیبچیکوو ۔ ناگیماروش (Gabčíkovo–Nagymaros) مقدمے میں، جو ہنگری اور سلوواکیہ کے درمیان دریائے ڈینیوب کے پانی کے حقوق سے متعلق تھا، یہی اصول اختیار کیا تھا کہ سیاسی اختلافات یا حالات کی تبدیلی کسی ریاست کو بین الاقوامی آبی معاہدے سے فرار کا اختیار نہیں دیتی۔
اگر بین الاقوامی قانون کی روشنی میں دیکھا جائے تو بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا اجتماعی سزا کے مترادف قرار دیا جا سکتا ہے، جس پر جنیوا کنونشنز واضح پابندی عائد کرتے ہیں۔
مزید یہ کہ اگر پانی روکنے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر بھوک، قحط یا انسانی تباہی پیدا ہوتی ہے تو یہ عمل روم اسٹیچوٹ (Rome Statute) کے تحت انسانیت کے خلاف جرم کے زمرے میں بھی آ سکتا ہے۔
قانونی مقدمہ اپنی بنیادوں کے اعتبار سے مکمل ہو چکا ہے۔ بین الاقوامی قانون کی دیانت دارانہ تعبیر کی جائے تو فیصلہ بھی قریباً واضح ہے۔ بھارت خود اپنے اقدامات کی بنیاد پر عالمی قانون کی عدالت میں موردِ الزام ٹھہرتا ہے۔ لیکن پانی کو ہتھیار بنانا صرف معاہدوں یا قوانین کی خلاف ورزی نہیں۔ یہ اس سے کہیں بڑا جرم ہے۔
سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا محض کسی قانونی دستاویز پر حملہ نہیں، نہ ہی یہ کسی سرکاری انتظامی بندوبست کو چیلنج کرنا ہے۔ درحقیقت بھارت ایک ایسے زندہ آبی نظام پر حملہ آور ہے جس پر پاکستان کے 20کروڑ سے زائد انسانوں کی زندگی کا انحصار ہے۔
یہ صرف اعداد و شمار نہیں۔ یہ پنجاب کے وہ کسان ہیں جن کی گندم پورے ملک کا پیٹ بھرتی ہے۔ یہ سندھ کی وہ مائیں ہیں جن کے بچے ہمالیہ سے آنے والے پانی سے بھرنے والی نہروں کا پانی پیتے ہیں۔ یہ وہ ماہی گیر ہیں جن کا پورا روزگار دریا کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
مشہور ماہرِ بشریات پروفیسر جیمز سی اسکاٹ لکھتے ہیں کہ اگر طویل تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو دریا بھی زندہ ہوتے ہیں۔ وہ پیدا ہوتے ہیں، اپنی ہیئت بدلتے ہیں، اپنا راستہ تبدیل کرتے ہیں، سمندر تک پہنچنے کے لیے نئی گزرگاہیں تراشتے ہیں، کبھی آہستگی سے اور کبھی طغیانی کے ساتھ سفر کرتے ہیں، زندگی کو جنم دیتے ہیں، بعض اوقات قدرتی موت مرتے ہیں، مگر اکثر انہیں زخمی کیا جاتا ہے، معذور بنایا جاتا ہے، بلکہ قتل بھی کردیا جاتا ہے۔
دریائے سندھ، جہلم اور چناب بھی زندہ ہیں اور بھارت انہی زندہ وجودوں کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ معطلی کوئی تکنیکی اصطلاح نہیں رہی۔ یہ ایک ایسا ہتھیار بن چکی ہے جو لاکھوں پاکستانی گھروں تک پہنچ کر زندگی کے خلاف برسرپیکار ہے۔
معروف مصنف رابرٹ میک فارلین بھی یہی مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ دریا محض پانی کی گزرگاہ نہیں بلکہ زندہ وجود ہیں۔ وہ نیوزی لینڈ کے 2017 کے ٹی آوا توپوآ ایکٹ (Te Awa Tupua Act) کی مثال دیتے ہیں، جس کے تحت وانگانوئی دریا (Whanganui River) کو ایک قانونی شخصیت (Legal Person) کا درجہ دیا گیا، یعنی اسے وہی قانونی حیثیت حاصل ہے جو کسی شہری کو حاصل ہوتی ہے۔
میک فارلین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ ہمیں دریاؤں کے لیے یہ(It) جیسے الفاظ استعمال کرنا ترک کر دینا چاہیے، کیونکہ اس طرح ہم انہیں صرف ایک شے، ایک وسیلہ یا انسانی استعمال کی چیز بنا دیتے ہیں۔
دریائے سندھ کوئی شے نہیں۔ دریائے چناب کوئی شے نہیں۔ دریائے جہلم کوئی شے نہیں۔ سندھ طاس کے دریاؤں کو محض پانی کی نالیاں سمجھنا ایک فکری اور اخلاقی غلطی ہے۔ یہ ہماری سرزمین کی روح ہیں۔ پاکستان عالمی برادری سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس معاملے پر خاموش تماشائی نہ بنے۔
اقوامِ متحدہ کے منشور پر دستخط کرنے والی ہر ریاست، بین الاقوامی قانون کی پاسداری کا دعویٰ کرنے والا ہر ادارہ اور انصاف کے ہر علمبردار کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کو جواب دہ ٹھہرائے اور اس بنیادی اصول کا دفاع کرے کہ پانی کو کبھی ہتھیار نہیں بنایا جا سکتا۔
یہ بھی تسلیم کیا جانا چاہیے کہ آبی معاہدوں کو محض اس لیے ختم یا معطل نہیں کیا جا سکتا کہ طاقتور فریق کمزور ملک کا گلا گھونٹنا، اسے سزا دینا یا اپنی مرضی پر چلانے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہتا ہو۔
پاکستان کے 20 کروڑ سے زائد شہری کسی سیاسی سودے بازی کا مہرہ نہیں ہیں۔ دریائے سندھ گزشتہ 10 ہزار برس سے بہہ رہا ہے۔ اسی دریا نے وادیٔ سندھ کی تہذیب کو پروان چڑھایا، جو انسانی تاریخ کی قدیم ترین اور ترقی یافتہ تہذیبوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ دریا اس وقت بھی رواں تھا جب دہلی وجود میں نہیں آئی تھی۔
پروفیسر جیمز سی اسکاٹ اور رابرٹ میک فارلین اس حقیقت کو سمجھتے ہیں جسے دہلی کے جنگی جنون میں مبتلا حلقے سمجھنے سے قاصر ہیں۔ دریا کوئی پائپ لائن نہیں جسے سیاسی ضرورت یا وقتی مصلحت کے مطابق کبھی کھولا اور کبھی بند کر دیا جائے۔ وہ ایک زندہ وجود ہے، اپنی فطری حرکیات اور اپنی تاریخ کے ساتھ۔
دریاؤں پر ملکیت کے کاغذات نہ بین الاقوامی قانون میں موجود ہیں اور نہ ہی فطرت میں۔ دریائے سندھ کے آبی نظام پر کسی ایک ریاست کی ملکیت نہیں۔ یہ دریا ان کروڑوں انسانوں کے ہیں جن کی زندگیاں ان کے پانی سے وابستہ ہیں۔ اور صرف انسان ہی نہیں، ہمیں دریاؤں کو سمجھنے کا اپنا زاویۂ نظر بھی وسیع کرنا ہوگا۔
دریا صرف بہتا ہوا پانی نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ جڑی معاون ندیاں، دلدلی علاقے، سیلابی میدان، آبی ذخائر، بھنور، موسمی آبی گزرگاہیں، مینگرووز کے جنگلات، آبی نباتات، مچھلیاں، زرخیز مٹی، سرکنڈے، اور وہ لاکھوں مہاجر پرندے بھی اسی نظام کا حصہ ہیں جن کی بقا انہی دریاؤں سے وابستہ ہے۔
اس پورے ماحولیاتی نظام کی زندگی کا انحصار پانی کے آزاد بہاؤ پر ہے۔ بھارت کسی دریا کو معطل نہیں کر سکتا۔ وہ پانی کو یرغمال نہیں بنا سکتا۔ وہ ایک پوری تہذیب کو پیاس کے ذریعے سرنگوں نہیں کر سکتا۔ اور نہ ہی دریاؤں کو جنگی ہتھیار میں تبدیل کرنے کا کوئی اخلاقی یا قانونی اختیار رکھتا ہے۔
پاکستان نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اپنے دریاؤں کا تحفظ کرے گا۔ کیونکہ دریاؤں کا تحفظ دراصل زندگی، تہذیب اور آنے والی نسلوں کا تحفظ ہے۔ ہمارے عوام اور ہماری مسلح افواج نے 4 جنگوں میں اس سرزمین کا دفاع کیا ہے۔
اگر ہم پر آبی بالادستی (Hydro-Hegemony) مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو پاکستان اس کا بھی بھرپور مقابلہ کرے گا۔ ہم امن چاہتے ہیں، لیکن اگر یہ محاذ ہم پر مسلط کیا گیا تو اس سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہم اپنی آواز بین الاقوامی عدالتوں، عالمی اداروں، سفارتی فورمز اور دنیا کے عوام کے ضمیر تک پہنچاتے رہیں گے۔
یہ جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک پانی کو ہتھیار بنانے کے عمل کو عالمی سطح پر ناقابلِ قبول قرار نہیں دیا جاتا، بین الاقوامی قانون کی بالادستی بحال نہیں ہوتی، اور انصاف اسی طرح آزادانہ نہیں بہنے لگتا جس طرح وادیٔ سندھ کی تہذیب کو زندگی دینے والے دریا صدیوں سے بہتے آئے ہیں۔
قائداعظم محمد علی جناح نے اس سرزمین پر ایک آزاد ریاست کی بنیاد رکھی۔ لیکن اس دھرتی کی اصل داستان ہمیشہ اس کے دریاؤں نے لکھی ہے، آج بھی لکھ رہے ہیں، اور آنے والی نسلوں تک بھی اپنے بہاؤ سے لکھتے رہیں گے۔
انہیں بہنے دیجیے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













