بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے سخت مؤقف اور بالائی علاقوں میں مختلف آبی منصوبوں کی پیشرفت کے بعد پاکستان آنے والے دریاؤں میں پانی کی روانی میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ اگرچہ ہر دریا میں کمی یکساں نہیں، تاہم مجموعی طور پر آبی نظام دباؤ کا شکار ہے اور اس کے اثرات زرعی، معاشی اور ماحولیاتی شعبوں پر مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سرکاری آبی اعداد و شمار کے مطابق حالیہ عرصے میں پاکستان کو مجموعی طور پر معمول کے مقابلے میں تقریباً 15 سے 25 فیصد تک کم پانی موصول ہو رہا ہے، جبکہ بعض اوقات مخصوص دریاؤں میں یہ کمی اس سے بھی زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ صورتحال موسم، برف پگھلنے کی رفتار، بارشوں اور بھارت کی جانب سے آبی ذخائر کے انتظام سمیت کئی عوامل کے باعث تبدیل ہوتی رہتی ہے۔

زیادہ اثرات دریائے چناب اور دریائے جہلم پر دیکھے جا رہے ہیں، جہاں پانی کی آمد میں وقفے وقفے سے واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق بھارت کے مختلف پن بجلی منصوبوں اور پانی ذخیرہ کرنے کی محدود صلاحیت رکھنے والے ڈیموں کی وجہ سے پانی کے بہاؤ کے وقت اور مقدار پر اثر پڑ سکتا ہے، جس سے پاکستان کے آبپاشی نظام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
دریائے راوی اور ستلج کا بیشتر پانی پہلے ہی بھارت استعمال کرتا ہے، کیونکہ سندھ طاس معاہدے کے تحت ان دریاؤں کے زیادہ تر حقوق بھارت کو حاصل ہیں۔ تاہم پاکستان کی زراعت کا انحصار بنیادی طور پر دریائے سندھ، جہلم اور چناب پر ہے، اس لیے انہی دریاؤں میں کسی بھی کمی کے اثرات زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ: بھارتی اقدامات کے بعد پاکستان کو ملنے والے پانی میں نمایاں کمی، مستقبل کے خدشات بڑھ گئے
پنجاب اور سندھ کے کئی نہری علاقوں میں پانی کی دستیابی کم ہونے سے فصلوں کی کاشت متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ خصوصاً چاول، کپاس، گنا اور دیگر خریف فصلوں کے لیے بروقت پانی کی فراہمی نہ ہونے کی صورت میں پیداوار کم ہو سکتی ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر پانی کی یہی صورتحال برقرار رہی تو زرعی معیشت، غذائی تحفظ اور دیہی روزگار پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
آبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ایک طرف اپنے آبی ذخائر بڑھانے، نئے ڈیموں اور آبی انفراسٹرکچر پر تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ دوسری طرف سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے سفارتی اور قانونی سطح پر بھی مؤثر اقدامات جاری رکھنے چاہییں۔

حکومت پاکستان کا مؤقف ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے، جس کی پاسداری دونوں ممالک پر لازم ہے، اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کیا جانا چاہیے جو پاکستان کے حصے کے پانی کی بروقت اور بلا تعطل فراہمی کو متاثر کرے۔ دوسری جانب بھارت کا کہنا ہے کہ اس کے بیشتر منصوبے معاہدے کی حدود کے اندر ہیں، تاہم پاکستان متعدد منصوبوں پر اعتراضات اٹھاتا رہا ہے اور ان معاملات پر بین الاقوامی سطح پر بھی کارروائیاں جاری ہیں۔
ماہرین کے مطابق پانی کی موجودہ صورتحال اس بات کی یاد دہانی ہے کہ مستقبل میں آبی تحفظ پاکستان کے لیے قومی سلامتی، زرعی ترقی اور معاشی استحکام کے اہم ترین چیلنجز میں شامل رہے گا، جس کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی، بہتر آبی انتظام اور مؤثر سفارتی حکمت عملی ناگزیر ہے۔













