آزاد کشمیر میں 27 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس نے اہم شخصیات سمیت استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) میں شمولیت کا اعلان کردیا ہے۔
سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس نے آئی پی پی کے صدر عبدالعلیم خان سے اسلام آباد میں ملاقات کی اور شمولیت کا اعلان کیا، ان کے ہمراہ وزیر حکومت علی شان سونی اور نثار انصر ابدالی بھی آئی پی پی کا حصہ بن گئے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر: عام انتخابات سے قبل سیاسی جوڑ توڑ، تنویر الیاس پیپلز پارٹی کی بنیادی رکنیت سے مستعفی
سردار تنویر الیاس نے گزشتہ روز پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا، جس کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ آئندہ عام انتخابات استحکام پاکستان پارٹی کے پلیٹ فارم سے لڑیں گے۔
الیکشن کمیشن نے 27 جولائی کو آزاد کشمیر میں عام انتخابات کا اعلان کررکھا ہے، جس کے لیے تیاریاں بھرپور طریقے سے جاری ہیں۔
آزاد کشمیر کی بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی نے امیدواروں کو ٹکٹ جاری کردیے ہیں، جس کے بعد الیکشن مہم کا باضابطہ آغاز ہوچکا ہے۔
اس کے علاوہ ریاستی جماعت آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس بھی میدان میں موجود ہے اور الیکشن میں حصہ لینے کی بھرپور تیاریاں کی جارہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ناراض رہنما، جنہیں پارٹی کی جانب سے ٹکٹ جاری نہیں کیے گئے، وہ استحکام پاکستان پارٹی سے رابطے میں ہیں، اور جلد باضابطہ شمولیت اختیار کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے بعد تاج ریزیڈنشیا اسکینڈل: متاثرین کا سابق وزیراعظم آزاد کشمیر تنویر الیاس کیخلاف احتجاجی مظاہرہ
اس سے قبل 2 جولائی کو میرپور میں ایک بڑی تقریب کے دوران کچھ اہم شخصیات نے آئی پی پی میں شمولیت اختیار کرنی تھی، تاہم یہ پروگرام مؤخر کردیا گیا۔
سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس آزاد کشمیر کے 3 حلقوں سے ٹکٹ کے امیدوار تھے، تاہم پیپلز پارٹی نے انہیں 3 ٹکٹ دینے سے انکار کردیا، جس کی وجہ سے وہ ناراض ہو گئے۔
تنویر الیاس حلقہ 5 پونچھ پاچھیوٹ، وسطی باغ اور اپر نیلم سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ کے امیدوار تھے۔
ذرائع کے مطابق سردار تنویر الیاس کے پیپلز پارٹی سے مستعفی ہونے کے بعد انہیں استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی گئی، جو انہوں نے قبول کرلی۔
واضح رہے کہ پاکستان میں جب استحکام پاکستان پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تو سردار تنویر الیاس کو آزاد کشمیر چیپٹر کا صدر بنایا گیا تھا، تاہم انہوں نے بعد ازاں استعفیٰ دے کر پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ڈپلومیٹک پاسپورٹ کا غلط استعمال، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سردار تنویر الیاس کے فیصلے سے پیپلز پارٹی کو الیکشن میں نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، اور کئی حلقوں میں ان کے جیتنے والے امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
سردار تنویر الیاس وسطی باغ، شرقی باغ، اپر نیلم، لوئر نیلم سمیت کئی اہم حلقوں میں پیپلز پارٹی کے ووٹ پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
اہم شخصیات استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کے لیے تیار ہیں، جاوید اقبال ہاشمی
آزاد کشمیر کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر صحافی جاوید اقبال ہاشمی نے کہا کہ تنویر الیاس کا فیصلہ آزاد کشمیر کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ بہت سی اہم شخصیات استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کے لیے تیار ہیں، اور جلد اعلانات متوقع ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان مقابلے کی فضا تھی، تاہم اب صورتحال یکسر تبدیل ہوجائے گی، اور تنویر الیاس کے فیصلے کا سب سے زیادہ نقصان پیپلزپارٹی کو ہوگا۔
تنویر الیاس ضدی سیاستدان، الیکشن میں پیپلز پارٹی کو نقصان پہنچائیں گے، عامر محبوب
سینیئر صحافی عامر محبوب نے کہا کہ سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس بہت ضدی سیاستدان ہیں اور ان کے پیپلز پارٹی چھوڑنے کا پارٹی کو بہت نقصان پہنچے گا۔
انہوں نے کہا کہ سردار تنویر الیاس کی اب یہ کوشش ہوگی کہ آئندہ عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کے جیتنے والے امیدواروں کو ہرایا جائے، اور اس کے لیے وہ اپنا بھرپور سیاسی کردار ادا کریں گے۔
سردار تنویر الیاس کی پیپلز پارٹی سے علیحدگی انتخابی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرسکتی ہے، خواجہ متین
سینیئر صحافی خواجہ متین نے کہا کہ سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس نے استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا ہے، اور اس کے آزاد کشمیر کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ جب سردار تنویر الیاس پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے تھے تو اسی وقت میں نے کہا تھا کہ ان کی شخصیت میں مستقل مزاجی نہیں ہے اور وہ اس جماعت میں زیادہ عرصہ نہیں رہ سکیں گے۔
خواجہ متین نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے وہ رہنما بھی، جو پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے، آنے والے دنوں میں اس نئے دھڑے یا سیاسی صف بندی کا حصہ بن سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال میں سردار تنویر الیاس کا پیپلز پارٹی چھوڑ کر جانا پارٹی کے لیے ایک بڑا سیاسی نقصان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات: کون سے سابق وزرائے اعظم اس معرکے کا حصہ ہیں؟
ان کا کہنا ہے کہ سردار تنویر الیاس ایک انتقامی مزاج رکھنے والی شخصیت ہیں، اس لیے اب ان کا بنیادی ہدف پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار ہوں گے اور وہ ان کی انتخابی شکست میں اپنا کردار ادا کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔
خواجہ متین کے مطابق سردار تنویر الیاس کا یہ بھی خیال رہا ہے کہ ان کی شمولیت سے پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں مضبوط ہوئی اور ان کی وجہ سے پارٹی کا وزیراعظم بنا۔
’اسی سوچ کے باعث اب جبکہ وہ جماعت سے الگ ہوچکے ہیں تو ان کی پوری سیاسی توجہ پیپلز پارٹی کو نقصان پہنچانے پر مرکوز رہے گی اور وہ پوری قوت کے ساتھ پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو ہرانے کی مہم چلائیں گے۔‘













