افغانستان کے دارالحکومت کابل میں واقع کابل یونیورسٹی کے طلبہ ہاسٹل میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں تقریباً 20 طلبہ زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق کابل میں ایک باخبر ذریعے نے بتایا کہ جمعہ کی شب ہونے والے دھماکے میں زخمی ہونے والے تقریباً 20 طلبہ کو علی آباد اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
حدود '۲۰ دانشجو' در انفجار دانشگاه کابل زخمی شدند pic.twitter.com/KPnCqYdrMX
— رادیو افغانستان اینترنشنال (@AFIntlRadio) July 4, 2026
دھماکے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں متعدد ایمبولینسوں کو کابل یونیورسٹی کے ہاسٹل کے باہر دیکھا جا سکتا ہے، جہاں امدادی ٹیموں نے زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی۔
ہاسٹل میں موجود ایک طالب علم نے آڈیو پیغام میں بتایا کہ دھماکے کے بعد پورے ہاسٹل کی سیکیورٹی سخت کر دی گئی اور طلبہ کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کا مؤقف برقرار، کابل کے اعلانات نہیں بلکہ عملی اقدامات سے اعتماد بحال ہوگا
تاحال طالبان حکومت کی جانب سے دھماکے کی نوعیت، اسباب یا ممکنہ ذمہ داروں کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
افغانستان انٹرنیشنل نے ایک الگ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے کمانڈر خالد مسعود کو افغانستان کے صوبہ غزنی میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔
منابع به آمو گفتهاند در انفجار شام گذشته در محوطه دانشگاه کابل، هشت دانشجو زخمی شدهاند. شماری از دانشجویان این دانشگاه میگویند زخمیان این رویداد به شفاخانه علیآباد انتقال داده شدهاند اما طالبان تاکنون در این باره چیزی نگفتهاند.https://t.co/VTMu2LGzb8 pic.twitter.com/y9gYQVUFlA
— Amu TV (@AmuTelevision) July 4, 2026
رپورٹ کے مطابق خالد مسعود پر مبینہ حملہ ضلع وغاز میں ایک ٹی ٹی پی کیمپ سے نکلتے وقت کیا گیا، جبکہ حملہ آور کارروائی کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اس واقعے سے متعلق تصاویر بھی دستیاب ہیں، تاہم طالبان حکام نے اس واقعے پر بھی کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
پاکستان مسلسل افغان طالبان پر ٹی ٹی پی کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا رہا ہے، جبکہ طالبان ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور ٹی ٹی پی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے۔













