افغانستان: کابل یونیورسٹی میں دھماکا، 20 کے قریب طلبہ زخمی

اتوار 5 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں واقع کابل یونیورسٹی کے طلبہ ہاسٹل میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں تقریباً 20 طلبہ زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق کابل میں ایک باخبر ذریعے نے بتایا کہ جمعہ کی شب ہونے والے دھماکے میں زخمی ہونے والے تقریباً 20 طلبہ کو علی آباد اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

دھماکے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں متعدد ایمبولینسوں کو کابل یونیورسٹی کے ہاسٹل کے باہر دیکھا جا سکتا ہے، جہاں امدادی ٹیموں نے زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی۔

ہاسٹل میں موجود ایک طالب علم نے آڈیو پیغام میں بتایا کہ دھماکے کے بعد پورے ہاسٹل کی سیکیورٹی سخت کر دی گئی اور طلبہ کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کا مؤقف برقرار، کابل کے اعلانات نہیں بلکہ عملی اقدامات سے اعتماد بحال ہوگا

تاحال طالبان حکومت کی جانب سے دھماکے کی نوعیت، اسباب یا ممکنہ ذمہ داروں کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

افغانستان انٹرنیشنل نے ایک الگ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے کمانڈر خالد مسعود کو افغانستان کے صوبہ غزنی میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق خالد مسعود پر مبینہ حملہ ضلع وغاز میں ایک ٹی ٹی پی کیمپ سے نکلتے وقت کیا گیا، جبکہ حملہ آور کارروائی کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اس واقعے سے متعلق تصاویر بھی دستیاب ہیں، تاہم طالبان حکام نے اس واقعے پر بھی کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔

پاکستان مسلسل افغان طالبان پر ٹی ٹی پی کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا رہا ہے، جبکہ طالبان ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور ٹی ٹی پی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp