ایران پر امریکی فوج کی نئی فضائی کارروائیوں اور ایران کی خام تیل فروخت پر دوبارہ پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز کاروبار کے آغاز پر شدید مندی کا رجحان دیکھا گیا۔
کاروبار کے ابتدائی چند منٹوں میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 2,500 پوائنٹس گر گیا، صبح 9 بج کر 34 منٹ پر انڈیکس 183,758.85 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو گزشتہ روز اختتام کے مقابلے میں 2,496.70 پوائنٹس یعنی 1.34 فیصد کم تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر مندی کا طوفان، مارکیٹ ہالٹ کا نفاذ
مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ آٹو موبائل، سیمنٹ، کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور بجلی پیدا کرنے والے شعبوں میں نمایاں رہا۔
حب پاور، ماری انرجیز، او جی ڈی سی ایل، پاکستان اسٹیٹ آئل، سوئی سدرن گیس، سوئی ناردرن گیس اور وافی انرجی جیسے بھاری وزن رکھنے والے حصص مندی کا شکار رہے۔
Market is down at midday 👇
⏳ KSE 100 is negative by -1756.06 points (-0.94%) at midday trading. Index is at 184,499.49 and volume so far is 142.34 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/t5pYChl4B0— Investify Pakistan (@investifypk) July 8, 2026
منگل کے روز بھی اسٹاک ایکسچینج منفی رجحان کے ساتھ بند ہوئی تھی، کیونکہ سرمایہ کاروں نے انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دوران انڈیکس کے تاریخی بلند ترین سطح کے قریب پہنچنے پر منافع کے حصول کو ترجیح دی۔
تاہم، آئندہ مالیاتی نتائج کے سیزن میں بہتر کارپوریٹ منافع کی توقعات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو برقرار رکھا اور نقصانات کو محدود کرنے میں مدد دی۔
اس روز کے ایس ای 100 انڈیکس 1,199.14 پوائنٹس یعنی 0.64 فیصد کمی کے ساتھ 186,255.55 پوائنٹس پر بند ہوا۔
مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟
عالمی سطح پر بھی مالیاتی منڈیوں میں بے چینی دیکھی گئی، امریکی فوج نے منگل کو ایران پر نئی فضائی کارروائیاں کیں، جبکہ ایران کو خام تیل فروخت کی اجازت دینے والا لائسنس بھی منسوخ کر دیا۔
اس سے قبل آبنائے ہرمز میں 3 آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد پہلے سے نازک جنگ بندی مزید دباؤ کا شکار ہو گئی۔
ان پیش رفتوں کے باعث امریکی خام تیل کی قیمتوں میں ابتدائی کاروبار کے دوران تقریباً 3 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ امریکی ڈالر بھی بیشتر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب رہا۔

دوسری جانب، مارکیٹ میں یہ توقعات بھی بڑھ گئی ہیں کہ ستمبر میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کا امکان 67 فیصد سے تجاوز کر گیا ہے، جو ایک روز قبل تقریباً 57 فیصد تھا۔
سرمایہ کار آج جاری ہونے والے فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی کے 16 اور 17 جون کے اجلاس کے منٹس کا بھی انتظار کر رہے ہیں تاکہ آئندہ شرح سود کی پالیسی کے بارے میں مزید اشارے مل سکیں۔
ادھر، نیویارک فیڈرل ریزرو کی تازہ رپورٹ کے مطابق جون کے دوران امریکی صارفین میں قلیل مدتی مہنگائی کے خدشات میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔














