سوشل میڈیا پر بھارت کی ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک ریلوے اہلکار کو ٹرین سے اتر کر ریلوے ٹریک کے قریب واقع ایک دکان سے سموسے خریدتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ یہ مسافر ٹرین کا لوکو پائلٹ ہے جس نے صرف سموسے خریدنے کے لیے ٹرین روک دی۔
وائرل ویڈیو میں ایک ٹرین مدھیہ پردیش کے شہر انڈور کے قریب راؤ کے رنگواسا روڈ علاقے میں رکی ہوئی دکھائی دیتی ہے جبکہ ایک ریلوے ملازم پٹری کے قریب واقع دکان سے سموسے خرید کر واپس انجن میں سوار ہو جاتا ہے جس کے بعد ٹرین دوبارہ روانہ ہو جاتی ہے۔
VIDEO | Indore, Madhya Pradesh: A video showing the loco pilot of the Indore-Mhow DEMU train stopping reportedly to buy samosas from a shop beside the tracks has surfaced.
Railways has ordered a probe after the video, which allegedly shows the train being halted for samosas,… pic.twitter.com/RX5HGS3uus
— Press Trust of India (@PTI_News) July 8, 2026
ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے شدید تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آیا واقعی ایک مسافر ٹرین کو ذاتی کام کے لیے روکا گیا تھا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بعض رہائشیوں نے دعویٰ کیا کہ اس مقام پر ٹرینیں اکثر کئی منٹ تک رکی رہتی ہیں اور ریلوے ملازمین اس دوران دکان سے ناشتا بھی خریدتے ہیں۔ ویڈیو کے وائرل ہونے پر ریلوے کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے افسر نے کہا کہ اس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ بعد ازاں بھارتی ریلوے نے سوشل میڈیا پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ وائرل دعویٰ گمراہ کن ہے۔
ریلوے کے مطابق ویڈیو میں نظر آنے والی ٹرین انڈور-مہو ڈی ای ایم یو مسافر ٹرین نہیں بلکہ ایک مال بردار ٹرین تھی جسے راؤ یارڈ میں جاری انجینئرنگ کام کے باعث راؤ ہوم سگنل پر روکا گیا تھا۔
Dear Passenger ,
Goods Train CGPT, hauled by Loco Nos. 27237 + 27600, was stopped at the RAU Home Signal due to engineering work being carried out on the track in the RAU yard. During this stoppage, the Assistant Loco Pilot (ALP) was seen purchasing samosa and kachori. The train…
— DRM Ratlam (@RatlamDRM) July 7, 2026
ریلوے نے مزید بتایا کہ ویڈیو میں سموسے اور کچوریاں خریدنے والا شخص لوکو پائلٹ نہیں بلکہ اسسٹنٹ لوکو پائلٹ (اے ایل پی) تھا، جو ٹرین کے پہلے سے رکے ہونے کے دوران مختصر وقت کے لیے دکان پر گیا تھا۔
ریلوے حکام نے واضح کیا کہ ٹرین کو کھانا خریدنے کے لیے نہیں روکا گیا اور ویڈیو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر شیئر کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ایک مسافر ٹرین کو سموسے خریدنے کے لیے روکا گیا تھا۔














