امریکی محکمہ انصاف نے کہا ہے کہ امریکا، کینیڈا اور یورپ میں مشترکہ کارروائی کے دوران بھارت سے تعلق رکھنے والے 3 بین الاقوامی جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 24 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
گرفتاریاں کہاں ہوئیں؟
محکمہ انصاف کے مطابق ’آپریشن ہارڈ بال‘ کے تحت مجموعی طور پر 37 افراد پر فردِ جرم عائد کی گئی، جبکہ 24 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار ہونے والوں میں 11 افراد امریکی ریاست کیلیفورنیا، ایک انڈیانا، ایک جارجیا، 3 کینیڈا اور ایک اسپین سے گرفتار کیا گیا، جبکہ 7 ملزمان پہلے ہی زیرِ حراست تھے۔ حکام نے بتایا کہ مزید 10 مطلوب ملزمان کی تلاش جاری ہے، جن میں 7 امریکا،2 بھارت اور ایک یورپ میں موجود ہے۔
کارروائی میں کیا برآمد ہوا؟
حکام کے مطابق کارروائی کے دوران تقریباً ایک ہزار کلوگرام کوکین، ایک کلوگرام ہیروئن، 40 ہزار امریکی ڈالر نقد رقم اور بھاری مقدار میں آتشیں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔ اس کے علاوہ کیلیفورنیا کے سیکرامنٹو اور لاس اینجلس کے مختلف علاقوں میں متعدد تلاشی کی کارروائیاں بھی کی گئیں۔
کن جرائم کے الزامات ہیں؟
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان گروہوں پر قتل، بھتہ خوری، منشیات اسمگلنگ، اغوا، اسلحے کی غیر قانونی خرید و فروخت، سرحد پار جرائم اور دیگر سنگین وارداتوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔
لارنس بشنوئی گروہ پر کیا الزامات ہیں؟
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق ایک مقدمے میں بھارتی ریاست پنجاب سے تعلق رکھنے والے لارنس بشنوئی کو مرکزی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ استغاثہ کا الزام ہے کہ وہ جیل میں ہونے کے باوجود غیر قانونی ذرائع سے رابطے قائم رکھ کر قتل، بھتہ خوری، اغوا، منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر جرائم کی منصوبہ بندی اور ہدایات جاری کرتا رہا۔
حکام کے مطابق کینیڈا نے ستمبر 2025 میں بشنوئی گروہ کو دہشتگرد تنظیم قرار دیا تھا۔ فردِ جرم میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ یہ گروہ بھارت، امریکا، کینیڈا اور دیگر ممالک میں سرگرم رہا اور مختلف نمایاں مذہبی، سماجی اور سیاسی شخصیات کو بھی نشانہ بناتا رہا۔
دیگر 2 گروہوں پر کیا الزامات ہیں؟
دوسرے مقدمے میں جگو بھگوان پوریا نامی ملزم سمیت 17 افراد پر قتل، اغوا، منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ سمیت مختلف جرائم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
تیسرے مقدمے میں رویندر سنگھ ڈھانڈا اور اس کے ساتھیوں پر امریکا سے کینیڈا بڑی مقدار میں کوکین اور میتھ ایمفیٹامین اسمگل کرنے کا الزام ہے۔
امریکی محکمۂ انصاف کا مؤقف
امریکی محکمۂ انصاف نے واضح کیا ہے کہ فردِ جرم صرف الزامات پر مشتمل ہوتی ہے اور تمام ملزمان عدالت میں جرم ثابت ہونے تک بے گناہ تصور کیے جائیں گے۔ اگر الزامات ثابت ہو گئے تو متعدد ملزمان کو کم از کم 10 سال سے لے کر عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔












