رپورٹ: فیاض بخاری
منگل کی رات شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کا طیارہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے اچانک رابطہ منقطع ہونے کے بعد لاپتا ہوگیا۔ طیارے میں سوار 5 افراد کا اب تک کوئی سراغ نہیں مل سکا، جبکہ ان کے اہل خانہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ امید اور بے یقینی کے درمیان جھول رہے ہیں۔ اس حادثے نے صرف ایک طیارے کو نہیں، بلکہ 5 خاندانوں کی زندگیوں کو بھی انتظار میں روک دیا ہے۔
’ہمیں صرف یہ بتا دیں کہ کیا ہو رہا ہے‘
لاپتا طیارے کے کپتان محمد رضوان ادریس کے بیٹے شہیر رضوان کی اپیل سوشل میڈیا اور ٹی وی اسکرینوں پر دیکھی گئی تو لوگوں نے صرف ایک بیٹے کی آواز نہیں سنی، بلکہ ان تمام خاندانوں کی بے بسی کو محسوس کیا جو اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں۔
شہیر رضوان نے بتایا کہ ان کے والد پیر کے روز کراچی سے شارجہ روانہ ہوئے تھے اور منگل کو واپس آنا تھا۔ ان کے مطابق شام 7 بج کر 20 منٹ پر والد سے آخری مرتبہ بات ہوئی، جس کے بعد رابطہ منقطع ہوگیا۔
ان کا کہنا تھا کہ طیارے کے لاپتا ہونے کی اطلاع بھی انہیں کسی سرکاری ذریعے سے نہیں بلکہ میڈیا کے ذریعے ملی۔ شہیر رضوان کے مطابق اب تک نہ ایئرلائن اور نہ ہی کسی متعلقہ ادارے نے اہل خانہ سے رابطہ کرکے انہیں سرچ آپریشن کی پیشرفت سے آگاہ کیا ہے۔
انہوں نے حکومت، افواجِ پاکستان اور دیگر متعلقہ اداروں سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں متاثرہ خاندانوں کو کم از کم یہ ضرور بتایا جانا چاہیے کہ سرچ آپریشن کہاں تک پہنچا ہے اور کن علاقوں میں تلاش جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ افواج پاکستان کی کوششوں کے معترف ہیں، لیکن متاثرہ خاندانوں کو بروقت معلومات فراہم کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
کمپنی نے کیا بتایا؟
کے ٹو ایئرویز کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ طیارہ شارجہ سے کراچی آرہا تھا کہ گزشتہ رات 9 بج کر 21 منٹ پر اس کا ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہوگیا۔
اعلامیے کے مطابق طیارے میں مجموعی طور پر 5 افراد سوار تھے، جن میں کپتان محمد رضوان ادریس، فرسٹ آفیسر فیصل محمود، لوڈ ماسٹر محمد توفیق، انجینیئر عارف صدیقی اور محمد حامد شامل تھے۔
لاپتا طیارہ کتنا پرانا تھا؟
لاپتا ہونے والا طیارہ بوئنگ 737-400 تھا، جس کی رجسٹریشن AP-BOI تھی۔ یہ طیارہ آج سے قریباً 27 سال پہلے، 1999 میں تیار کیا گیا تھا۔
ابتدا میں اسے روس کی قومی ایئرلائن ایروفلوٹ نے استعمال کیا، بعد ازاں یہ انڈونیشیا کی معروف ایئرلائن گارودا انڈونیشیا کے بیڑے کا بھی حصہ رہا۔ سال 2012 میں اس طیارے کو مسافر بردار سے کارگو طیارے میں تبدیل کیا گیا، جبکہ جولائی 2024 میں اسے کے ٹو ایئرویز نے اپنے بیڑے میں شامل کیا۔ یہ بوئنگ 737 کی کلاسک سیریز کا طیارہ تھا، جو موجودہ بوئنگ 737 میکس سے دو نسل پرانا ماڈل ہے۔
کے ٹو ایئرویز کیا ہے؟
کے ٹو ایئرویز پاکستان کی ایک نجی کارگو ایئرلائن ہے، جس کا ہیڈکوارٹر کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر واقع ہے۔ کمپنی کو 2018 میں چارٹر لائسنس ملا جبکہ 2019 میں اس کی رجسٹریشن مکمل ہوئی۔
ابتدا میں منصوبہ مسافر بردار ایئرلائن شروع کرنے کا تھا، لیکن بعد میں کمپنی نے صرف کارگو آپریشنز پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا۔ دسمبر 2024 میں ایئر آپریٹر سرٹیفکیٹ (AOC) حاصل کرنے کے بعد کمپنی نے 27 دسمبر کو کراچی سے لاہور اپنی پہلی باقاعدہ کارگو پرواز شروع کی۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر طارق راجا ہیں۔
ایئرلائن کن ممالک تک خدمات فراہم کرتی تھی؟
مختصر عرصے میں کے ٹو ایئرویز نے پاکستان کے اندر کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے درمیان کارگو نیٹ ورک قائم کیا، جبکہ بین الاقوامی سطح پر متحدہ عرب امارات، چین اور ازبکستان تک کارگو خدمات فراہم کر رہی تھی۔
ایئرلائن ادویات، مخصوص درجہ حرارت پر منتقل کیے جانے والے طبی سامان، پھل، سبزیاں، ٹیکسٹائل مصنوعات، لائیو اسٹاک، کورئیر اور ڈاک کی ترسیل سمیت مختلف شعبوں کے لیے خدمات انجام دے رہی تھی۔
’اب سب کی نظریں سرچ آپریشن پر ہیں‘
طیارے سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد متعلقہ اداروں کی جانب سے سرچ آپریشن جاری ہے، تاہم اس رپورٹ کے مرتب ہونے تک طیارے یا اس میں سوار افراد کے بارے میں کوئی حتمی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
دوسری جانب 5 خاندان ایک ہی سوال کے جواب کے منتظر ہیں: آخر ان کے اپنے کہاں ہیں؟ یہ سوال صرف ان خاندانوں کا نہیں بلکہ ہر اس شخص کا ہے جو اس حادثے کی خبر سننے کے بعد کسی اچھی خبر کا انتظار کررہا ہے۔













