امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر گرین لینڈ کو امریکا کے کنٹرول میں لینے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اہم آرکٹک خطے پر ڈنمارک کے بجائے امریکا کا اختیار ہونا چاہیے۔ ان کے اس بیان نے ایک مرتبہ پھر امریکا اور اس کے نیٹو اتحادیوں کے درمیان سفارتی کشیدگی کو نمایاں کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کا ; گرین لینڈ بھیجنے کا اعلان
ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ گرین لینڈ پر ڈنمارک نہیں بلکہ امریکا کا کنٹرول ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ امریکا کی قومی سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش نئی نہیں تاہم نیٹو اتحادیوں کے اجلاس کے دوران اس معاملے کو دوبارہ اٹھانے سے امریکا اور یورپی ممالک کے درمیان اختلافات ایک بار پھر نمایاں ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے انقرہ میں واضح الفاظ میں کہا کہ انہیں توقع ہے کہ تمام اتحادی ممالک ڈنمارک کی خودمختاری کا احترام کریں گے اور یہ حقیقت تسلیم کریں گے کہ گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں ہے۔
مزید پڑھیے: صدر ٹرمپ نے ’پینگوئن میم‘ ٹرینڈ میں حصہ لے کر گرین لینڈ کو کونسا مبہم پیغام دیا؟
انہوں نے کہا کہ امریکا کی یہ خواہش سب کو معلوم ہے لیکن یہ بھی سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق نیٹو اجلاس میں گرین لینڈ یا آرکٹک کے معاملات پر کوئی باضابطہ گفتگو نہیں ہونی تھی۔
ادھر گرین لینڈ کے وزیر خارجہ میوٹے ایگیڈے نے فیس بک پر جاری بیان میں کہا کہ گرین لینڈ کے مستقبل کا فیصلہ صرف وہاں کے عوام کریں گے۔
انہوں نے لکھا کہ ہمیشہ سے یہی اصول رہا ہے اور آئندہ بھی یہی رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ گرین لینڈ کے معاملے نے نیٹو کے ساتھ ان کے تعلقات کو بھی متاثر کیا ہے۔
مزید پڑھیں: گرین لینڈ پر امریکی دعویٰ، ڈنمارک اور یورپ کا انکار، گرین لینڈ کی تاریخی خودمختاری پھر موضوعِ بحث
ان کے بقول ڈنمارک گرین لینڈ پر خاطر خواہ سرمایہ کاری نہیں کرتا جبکہ یہ خطہ امریکا کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ اس کے اردگرد چین اور روس کے بحری جہاز موجود رہتے ہیں اور امریکا ایسی صورتحال قبول نہیں کرے گا۔
رپورٹس کے مطابق امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے حکام کے درمیان تکنیکی سطح پر مذاکرات جاری ہیں جن میں آرکٹک میں امریکی فوجی موجودگی بڑھانے، فضائی دفاعی نظام ’گولڈن ڈوم‘ کے قیام اور معدنی وسائل تک امریکا کی زیادہ رسائی جیسے مختلف امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی جون میں کہہ چکے ہیں کہ ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ اس حوالے سے ہر ماہ بات چیت جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیے: گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کے علاوہ کچھ بھی قابلِ قبول نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق گرین لینڈ پر براہ راست امریکی کنٹرول کا مطالبہ ایک پیچیدہ سفارتی معاملے کو دوبارہ ایک ایسے تنازع میں تبدیل کر رہا ہے جو نیٹو کے بانی رکن ڈنمارک کی خودمختاری سے براہ راست تعلق رکھتا ہے۔














