وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کی سمندری خوراک کی برآمدات بڑھ کر 56 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کا سہرا بلیو اکانومی اصلاحات، عالمی معیار کے نفاذ اور متعلقہ اداروں کی مؤثر کارکردگی کو دیا۔
وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کی سمندری خوراک کی برآمدات 56 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جو ملکی تاریخ میں اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سمندروں کا تحفظ انسانی بقا کی ضمانت، بحری وسائل کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں، جنید انوار چوہدری
انہوں نے کہا کہ بلیو اکانومی سے متعلق اصلاحات کے نتیجے میں سمندری خوراک کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ فروزن مچھلی پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی سمندری مصنوعات رہی۔
وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان سے مچھلی اور دیگر سمندری مصنوعات کی سب سے زیادہ برآمدات چین، جاپان، سعودی عرب، امریکہ سمیت 10 بڑے ممالک کو کی گئیں۔
محمد جنید انوار چوہدری نے کہا کہ علاقائی چیلنجز اور عالمی تجارتی مشکلات کے باوجود پاکستان نے ریکارڈ برآمدات حاصل کیں، جو اس شعبے کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کا مظہر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی پورٹ ٹرسٹ نے 138 سالہ تاریخ میں کارگو ہینڈلنگ کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا
انہوں نے میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارے نے بین الاقوامی معیار کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے ڈائریکٹر جنرل میرین فشریز ڈاکٹر منصور وسان اور ان کی ٹیم کی خدمات کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت ویلیو ایڈیشن، جدید پراسیسنگ اور نئی برآمدی منڈیوں تک رسائی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ سمندری خوراک کی برآمدات میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔
انہوں نے ریکارڈ کامیابی پر تمام متعلقہ اداروں، برآمد کنندگان اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی پاکستان سمندری معیشت کے شعبے میں مزید کامیابیاں حاصل کرے گا۔














