ورزش کو صحت برقرار رکھنے کا بہترین ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور اس کے فوائد سے تقریباً ہر کوئی واقف ہے۔ تاہم اس بات پر کم توجہ دی جاتی ہے کہ اچھی صحت کے لیے کتنی ورزش ضروری ہے۔ بھارت سے تعلق رکھنے والے ماہرِ اعصابی امراض ڈاکٹر سدھیر کمار نے اس حوالے سے تفصیلی معلومات شیئر کی ہیں اور بتایا ہے کہ زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کے لیے کتنی ورزش کافی ہے۔
ڈاکٹر سدھیر کے مطابق سب سے بڑا فائدہ اس وقت حاصل ہوتا ہے جب کوئی شخص مکمل سستی اور بے عملی سے نکل کر تھوڑی سی جسمانی سرگرمی شروع کرتا ہے۔ جو لوگ روزانہ صرف 10 سے 15 منٹ پیدل چلنا شروع کرتے ہیں ان میں بیماریوں اور قبل از وقت موت کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہو جاتا ہے۔
How much exercise is enough for good health?
🔸Most people know: "Exercise is good."
🔸However, very few know: How much exercise gives the maximum health benefit?
🔸Can you exercise too little?
🔸Can you exercise too much?In this post, I would discuss the amount of exercise…
— Dr Sudhir Kumar MD DM (@hyderabaddoctor) July 8, 2026
ورزش
انہوں نے کہا کہ ورزش کے ابتدائی چند منٹ سب سے زیادہ صحت بخش فوائد دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر روزانہ صفر منٹ ورزش سے 30 منٹ ورزش تک پہنچنے کا فائدہ، 90 منٹ سے 120 منٹ تک بڑھانے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتا ہے۔
پیدل چلنا
ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ پیدل چلنے کو ترجیح دیتے ہیں تو روزانہ صرف 10 منٹ کی واک بھی فائدہ مند ہے۔ تاہم مثالی طور پر روزانہ 30 سے 60 منٹ یا ہفتے میں 150 سے 300 منٹ پیدل چلنا چاہیے۔
ڈاکٹر سدھیر کے مطابق تیز رفتاری سے چلنا زیادہ مفید ہے اور اس کے لیے تقریباً 100 سے 130 قدم فی منٹ یعنی 5 سے 6.5 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار مناسب ہے۔

روزانہ کتنے قدم چلنے چاہئیں؟
ڈاکٹر سدھیر نے کہا کہ روزانہ 10 ہزار قدم چلنے کا مشہور ہدف مکمل طور پر سائنسی بنیادوں پر قائم نہیں ہے۔ ان کے مطابق فوائد 2,500 سے 3,000 قدم روزانہ سے ہی شروع ہو جاتے ہیں۔ 7,000 سے 9,000 قدم روزانہ تک صحت کے فوائد مسلسل بڑھتے رہتے ہیں۔ بزرگ افراد میں یہ فوائد عموماً 6,000 سے 8,000 قدم کے بعد مستحکم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ 10 سے 12 ہزار قدم یا اس سے زیادہ چلنا نقصان دہ نہیں، لیکن اس سے اضافی فوائد نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
دوڑنا (رننگ)
ڈاکٹر سدھیر کے مطابق دوڑنا صحت کے لیے نہایت مؤثر اور وقت بچانے والی سرگرمی ہے۔ روزانہ صرف 5 سے 10 منٹ دوڑنا بھی موت کے خطرے کو کم کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہفتے میں 3 سے 5 دن دوڑنا مناسب ہے۔
ہر بار 20 سے 45 منٹ دوڑنا بہترین نتائج دیتا ہے۔ ہفتہ وار 20 سے 40 کلومیٹر دوڑنا طویل مدتی صحت کے لیے ایک اچھا ہدف ہے۔
کیا زیادہ دوڑنا زیادہ فائدہ دیتا ہے؟
ڈاکٹر سدھیر کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں کہ زیادہ دوڑنا ہمیشہ بہتر ہو۔ 40 کلومیٹر فی ہفتہ سے زیادہ دوڑنے کے بعد فوائد میں اضافہ تو ہوتا ہے لیکن اس کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔
80 سے 100 کلومیٹر فی ہفتہ یا اس سے زیادہ دوڑنا عموماً صرف پیشہ ور کھلاڑیوں کے لیے موزوں ہے۔ عام افراد میں اس سے چوٹ لگنے کا خطرہ،
حد سے زیادہ تھکن، اوور ٹریننگ اور بعض افراد میں دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی (Atrial Fibrillation) کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ تیز رفتار دوڑنا ضروری نہیں۔ درمیانی شدت کی دوڑ زیادہ تر صحت بخش فوائد فراہم کرتی ہے اور اتنی رفتار کافی ہے جس میں آپ مختصر گفتگو بھی کر سکیں۔
سائیکل چلانا
اگر آپ سائیکلنگ کرتے ہیں تو ہفتے میں 150 سے 300 منٹ درمیانی رفتار سے سائیکل چلائیں یا75 سے 150 منٹ تیز رفتار سائیکلنگ کریں۔
انہوں نے کہا کہ سائیکل پر دفتر جانے سے دل کی بیماریوں اور قبل از وقت موت کے خطرات میں بھی کمی آتی ہے۔
کیا بہت زیادہ جم کرنا فائدہ مند ہے؟
ڈاکٹر سدھیر کے مطابق ہفتے میں 3 سے 4 گھنٹے سے زیادہ طاقت بڑھانے والی ورزش کے اضافی فوائد واضح طور پر ثابت نہیں ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ گھنٹوں جم میں گزارنے کے بجائے ورزش کے معیار، بتدریج بہتری (Progressive Overload) اور مناسب آرام پر توجہ دینی چاہیے۔
آرام اور بحالی بھی ضروری
ڈاکٹر سدھیر نے زور دیا کہ ورزش صحت کو بہتر بناتی ہے لیکن جسم کی اصل نشوونما اور بہتری آرام کے دوران ہوتی ہے۔ اچھی نیند، متوازن غذا، آرام کے دن اور ذہنی دباؤ پر قابو پانا بھی فٹنس پلان کا اہم حصہ ہیں۔














