آسٹریلیا میں ایک شخص کا خواب حقیقت بن گیا جب اس نے خواب میں ایک دیوہیکل سونے کا ڈلا دیکھنے کے صرف 12 روز بعد 27 کلوگرام وزنی سونے کا خزانہ دریافت کر لیا جس کی مالیت اُس وقت ایک ملین امریکی ڈالر سے زائد تھی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حیران کن واقعہ 26 ستمبر 1980 کو پیش آیا جب آسٹریلوی شہری کیون ہلیئر اور ان کی اہلیہ بیپ ہلیئر ریاست وکٹوریہ کے علاقے کنگ اوور اسٹیٹ پارک میں میٹل ڈیٹیکٹر کے ذریعے سونے کی تلاش میں مصروف تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سنگاپور : بزرگ خاتون کے کچرے سے بھرے فلیٹ سے ہزاروں ڈالرز کے سکے اور سونا برآمد
رپورٹس کے مطابق دریافت سے بارہ دن قبل کیون ہلیئر نے خواب میں ایک بڑے سونے کے ڈلے کی تصویر دیکھی تھی۔ خواب اس قدر واضح تھا کہ انہوں نے بیدار ہونے کے بعد اس کا خاکہ کاغذ پر بنا کر محفوظ کر لیا۔
سونے کی تلاش کے دوران کیون کے میٹل ڈیٹیکٹر نے ایک ہلکا سا سگنل دیا جس کے بعد انہوں نے زمین کھودنا شروع کی۔ کچھ دیر بعد انہیں اندازہ ہوا کہ زمین کے نیچے کوئی معمولی دھات نہیں بلکہ سونے کا ایک بہت بڑا ڈلا موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی کشیدگی کے باوجود سونا کیوں سستا ہو رہا ہے؟ ماہرین نے اہم وجوہات بتا دیں
جوڑے نے مشترکہ کوشش سے اس خزانے کو باہر نکالا جس کا وزن تقریباً 27 کلوگرام تھا۔ یہ دریافت آسٹریلیا کی تاریخ میں ملنے والے سب سے بڑے سونے کے ڈلوں میں سے ایک قرار دی گئی اور اسے بعد میں ہینڈ آف فیتھ (Hand of Faith) کا نام دیا گیا۔
ہلیئر خاندان نے چند روز تک اس قیمتی خزانے کو خفیہ رکھا اور بعدازاں اسے امریکی شہر لاس ویگاس کے گولڈن نگٹ کیسینو کو ایک ملین ڈالر سے زائد قیمت میں فروخت کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سونا امریکی بانڈز کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا ریزرو اثاثہ بن گیا
اس غیرمعمولی دریافت نے نہ صرف ہلیئر خاندان کی زندگی بدل دی بلکہ ’ہینڈ آف فیتھ‘ آج بھی دنیا کی مشہور ترین سونے کی دریافتوں میں شمار ہوتا ہے اور قسمت، امید اور ثابت قدمی کی ایک منفرد مثال سمجھا جاتا ہے۔














