امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ امریکی فضائی حملوں کے بعد ایران نے مذاکرات اور نئے معاہدے کی شدید خواہش ظاہر کی ہے، تاہم انہوں نے تہران کی جانب سے کسی بھی نئے معاہدے کی پاسداری پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے جنگ بندی کے مستقبل کو غیر یقینی قرار دے دیا ہے۔
برطانوی ایئر بیس سے واشنگٹن واپسی پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ایران بہت شدت سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور انہوں نے رابطہ بھی کیا ہے، لیکن مجھے یقین نہیں کہ وہ اس پر عمل کریں گے، اس لیے جہاں تک میرا تعلق ہے، اب یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔‘
امریکی حملے اور فوجی کامیابی کا دعویٰ
امریکی صدر نے ایران کے خلاف سخت ترین کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے دوبارہ حملہ کیا تو اس سے کہیں زیادہ طاقت کے ساتھ جواب دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر دوبارہ سخت ترین حملوں کا اعلان
جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا دونوں ممالک دوبارہ مکمل جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں، تو ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں معلوم، لیکن اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو ہم اسے بہت جلد جیت لیں گے کیونکہ فوجی لحاظ سے ہم پہلے ہی کامیاب ہو چکے ہیں۔‘
آبنائے ہرمز میں 170 اہداف پر بمباری
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی افواج نے بدھ کو ایران کے مزید 170 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
امریکی فوج کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور شہری بحری آمدورفت کو نشانہ بنانے کی ایرانی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔
یہ کارروائی اس وقت عمل میں لائی گئی جب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 3 تجارتی جہازوں پر حملے کیے گئے، جس کے فوری بعد امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کو تیل فروخت کرنے کی حاصل رعایت بھی ختم کر دی۔
عالمی معیشت پر اثرات اور معاہدے کا مستقبل
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔ اس علاقے میں تازہ کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی کے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا اعلان
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ واشنگٹن اور تہران نے جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کیا تھا، لیکن نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اس جنگ بندی کے مستقبل پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’میں اب ایران کے ساتھ مزید معاملات نہیں کرنا چاہتا۔‘
ان تازہ بیانات اور فوجی کارروائیوں نے خطے میں ایک بار پھر شدید غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے جس پر عالمی برادری گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔














