گوگل نے بھارت میں اپنے ایڈز پلیٹ فارم کے خلاف آنے والے عدالتی فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ایک تفصیلی اپیل دائر کردی ہے، جس میں کمپنی کا مؤقف ہے کہ اگر اس فیصلے کو نہ بدلا گیا تو اس سے صارفین اور ڈیجیٹل مارکیٹ کو شدید نقصان پہنچے گا۔
مئی 2026 میں دہلی ہائیکورٹ نے گوگل کو ٹریڈ مارک کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا، عدالت نے یہ فیصلہ بھارتی باتھ روم فٹنگز بنانے والی کمپنی ہندویئر کی شکایت پر سنایا تھا، جس کا الزام تھا کہ گوگل پیسے لے کر ان کے مدمقابل برانڈز کو ہندویئر کا نام بطور کی ورڈ استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے تاکہ جب کوئی صارف ہندویئر سرچ کرے تو دیگر کمپنیوں کے اشتہارات سب سے اوپر نظر آئیں۔
یہ بھی پڑھیں: عدالت کا میٹا کے خلاف تاریخی فیصلہ، صارفین کو گمراہ کرنے پر 375 ملین ڈالر جرمانہ
اس پر جسٹس مینی پشکرنا نے سخت ریمارکس دیے تھے کہ گوگل ایک ایسی چیز بیچنے کی کوشش کر رہا ہے جس کا وہ خود مالک نہیں ہے، اور کمپنی پر تقریباً 31ہزار 600 ڈالرز کا جرمانہ عائد کیا تھا۔
اب گوگل نے اپنی پونے 5 ہزار صفحات پر مشتمل اپیل میں عدالت کے اس منطق کو مسترد کر دیا ہے۔ گوگل کا کہنا ہے کہ مدمقابل کمپنیوں کو برانڈ کے نام پر اشتہار دینے سے روکنے کا مطلب بڑی کمپنیوں کو انٹرنیٹ پر اشتہارات کی مکمل اجارہ داری دینا ہے۔
کمپنی کے مطابق عام صارفین گوگل پر صرف ایک برانڈ خریدنے نہیں آتے بلکہ وہ مختلف مصنوعات کی قیمتوں اور معیار کا موازنہ کرنے بھی آتے ہیں، اس لیے اگر متبادل برانڈز کے اشتہارات روک دیے گئے تو صارفین کے پاس انتخاب کی آزادی ختم ہوجائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: صارفین کی پرائیویسی کی خلاف ورزی پر گوگل کو 425 ملین ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم
گوگل نے یہ تنبیہ بھی کی ہے کہ اس فیصلے کے بعد بھارت دنیا بھر کی ڈیجیٹل مارکیٹ میں بالکل اکیلا رہ جائے گا کیونکہ امریکہ اور یورپ سمیت دنیا کے باقی حصوں میں مدمقابل کمپنیوں کے نام پر اشتہار چلانا قانونی طور پر درست مانا جاتا ہے۔
بھارت گوگل کے لیے ایک انتہائی اہم مارکیٹ ہے جہاں اس نے گزشتہ سال اشتہارات سے 4.1 ارب ڈالرز کمائے تھے، یہی وجہ ہے کہ اس کیس کے نتیجے پر پوری دنیا کی ٹیک انڈسٹری کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔














