ایران امریکا معاہدہ خطرے میں: پاکستان اب بھی جنگ رکوا سکتا ہے، ایمبیسیڈر عمران علی

جمعہ 10 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایمبیسیڈر عمران علی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے تاہم پاکستان اب بھی واحد ملک ہے جو دونوں ممالک کے درمیان مؤثر ثالثی کا کردار ادا کرکے جنگ کے خطرات کو کم کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا لڑائی، دوبارہ حملے شروع؟ بلوچستان میں دہشتگردی میں بھارت ملوث، بڑوں کی بڑی بیٹھک

وی نیوز کے پروگرام ’صحافت اور سیاست‘ میں گفتگو کرتے ہوئے عمران علی نے کہا کہ امریکا کی جانب سے ایران پر حالیہ بڑے پیمانے پر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں۔

ان کے مطابق امریکا عالمی بحری راستوں، خصوصاً آبنائے ہرمز، میں مکمل آزادی چاہتا ہے جبکہ ایران اپنے قومی سلامتی کے مؤقف پر سختی سے قائم ہے جس کی وجہ سے مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان ہاٹ لائن کے قیام پر اتفاق ہوا تھا لیکن موجودہ صورتحال میں اس رابطے کو دوبارہ فعال کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔

ان کے مطابق پاکستان کو ایک بار پھر فعال سفارت کاری کرتے ہوئے تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ اعلیٰ سطح پر رابطے بڑھانے چاہییں۔

مزید پڑھیے: سوئٹزرلینڈ میں ایران امریکا مذاکرات کو تعطل سے بچانے میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا، طلعت حسین

عمران علی نے کہا کہ بعض حلقے یہ تاثر دیتے ہیں کہ پاکستان نے صرف مذاکرات کے لیے جگہ فراہم کی حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان پورے سفارتی عمل کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔ ان کے بقول پاکستان کی شمولیت ایڈیشنل سیکریٹری کی سطح سے بڑھ کر اعلیٰ سیاسی اور سفارتی قیادت کی سطح پر ہونی چاہیے تاکہ دونوں ممالک کو انتہا پسندانہ مؤقف اختیار کرنے سے روکا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) انتہائی نازک مرحلے میں ہے تاہم اگر پاکستان مسلسل سفارتی کوششیں جاری رکھے تو اس عمل کو دوبارہ بحال کیا جا سکتا ہے۔

ایمبیسیڈر عمران علیکے مطابق ایران میں سپریم لیڈر کی آخری رسومات کے باعث اس وقت براہِ راست سفارتی رابطے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ ایران حساس معاملات پر الیکٹرانک رابطوں سے گریز کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے تہران میں آخری رسومات کے راستوں کو نشانہ بنانا ایک واضح پیغام تھا جس نے کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں: گارجین رپورٹ: کیا ایران امریکا معاہدہ بچانے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو لگام دیں گے؟

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو ہر صورت ایران کی قیادت سے براہ راست رابطہ کرنا چاہیے اور ساتھ ہی امریکا کو بھی یہ باور کرانا چاہیے کہ جنگ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب، قطر اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر سفارتی کوششوں کو آگے بڑھا سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے عمران علی نے کہا کہ ایران کو اس معاملے پر اپنے اصولی مؤقف کو برقرار رکھتے ہوئے عملی طور پر ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جن سے عالمی تجارت متاثر ہو جبکہ خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک اور عمان کے ساتھ مشترکہ انتظامی نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے تاکہ عالمی بحری راستوں کی آزادی بھی برقرار رہے اور ایران کے تحفظات بھی دور کیے جا سکیں۔

یہ بھی پڑھیے: کیا امریکا اور ایران میں دوبارہ جنگ چھڑنے والی ہے؟ صدر ٹرمپ کا سنسنی خیز بیان سامنے آگیا

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان تنازع مزید بڑھا تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ اور خصوصاً پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک اس کے معاشی اور سیاسی نتائج بھگتیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پمز اسپتال واقعہ ایک حادثہ، وزیراعظم اور وزیر کا کام ایک اسپتال کو دیکھنے کا نہیں ہونا چاہیے، مصطفیٰ کمال

پمز آتشزدگی واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی قائم، نوٹیفکیشن جاری

پمز آتشزدگی واقعے پر سوشل میڈیا مہم، پی ٹی آئی دور میں آگ لگنے کے واقعات کی تفصیلات بھی سامنے آگئیں

پنجاب کے سرکاری اسپتالوں کو حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت، 24 گھنٹوں میں رپورٹ طلب

بلاول بھٹو بھی پمز اسپتال سانحہ پر بول پڑے، متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی کا مطالبہ

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان اور عمران خان کے حامی اپوزیشن اتحاد قبول کریں گے؟ پشاور کے شہریوں کی رائے

پی ٹی آئی اپنے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی کوشش نہیں کر رہی، ایڈووکیٹ فیصل چوہدری

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ تہران، ایک بار پھر ایران امریکا مذاکرت شروع ہونے کے امکانات روشن

کالم / تجزیہ

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ

‘میں واپس آؤں گا’ سے تازہ ہونے والے دکھ

اِکّو اَلف تیرے دَرکار