سینیئر صحافی سید طلعت حسین نے انکشاف کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایک موقع پر بات چیت تعطل کا شکار ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے تھے تاہم پاکستان نے اہم کردار ادا کرتے ہوئے اس عمل کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات کا اصل امتحان شروع، اگلے 60 دن فیصلہ کن، آگے کیا ہوگا؟
وی نیوز کے پروگرام ’سیاست اور صحافت‘ میں گفتگو کرتے ہوئے طلعت حسین نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے آغاز سے قبل غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تاہم پاکستان کے کلیدی کردار کی وجہ سے وہاں بات چیت ممکن ہوئی۔
انہوں نے سوئزرلینڈ مذاکرات کا آنکھوں دیکھا حال بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستانی صحافیوں کو غیر معمولی رسائی دی گئی جس کے باعث انہیں مذاکراتی ماحول کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔
انہوں نے بتایا کہ افتتاحی مرحلے میں ایرانی وفد نے میڈیا کے سامنے امریکی وفد کے ساتھ مشترکہ تصویر یا مصافحے سے گریز کیا جس کے باعث ایک غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی جو تقریباً 15 منٹ تک جاری رہی۔
مزید پڑھیے: ایران امریکا مذاکرات میں پیشرفت، اسٹاک مارکیٹ میں 500 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ
طلعت حسین کے مطابق ایرانی حکمت عملی کا مقصد ’تصویری سفارت کاری‘ سے بچنا تھا تاکہ امریکا کے ساتھ کسی بھی علامتی مفاہمت کا تاثر نہ جائے۔ تاہم پاکستان نے اس وقت صورتحال کو سنبھالا اور وزیر داخلہ محسن نقوی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کی وجہ سے بات چیت کا آغاز ہوا۔
جامع معاہدے کی بنیاد اسلام آباد
طلعت حسین کا کہنا تھا کہ اگرچہ مذاکرات کا اگلا مرحلہ دوحہ اور دیگر مقامات پر جاری ہے لیکن اس سے اسلام آباد کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ ان کے بقول جب خطے میں شدید کشیدگی تھی اور کوئی بھی ملک ثالثی کے لیے آگے آنے کو تیار نہیں تھا تو اس وقت پاکستان نے دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ حالیہ سفارتی عمل کی بنیاد اسلام آباد میں رکھی گئی تاہم تکنیکی نوعیت کی بات چیت کچھ عملی وجوہات کی وجہ سے سوئٹزرلینڈ، دوحہ اور عمان منتقل ہوئی۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، آئل ٹینکروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ
دوحہ اور عمان میں ہونے والی ملاقاتیں زیادہ تر تکنیکی امور، مالی معاملات، منجمد ایرانی فنڈز، آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام جیسے مخصوص موضوعات سے متعلق ہیں اس لیے ان مقامات کا انتخاب عملی ضرورت کے تحت کیا گیا ہے۔
طلعت حسین کے مطابق مذاکراتی عمل اب تک مفاہمتی یادداشت، مشترکہ اعلامیے اور ورکنگ پلان تک پہنچ چکا ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فریقین کسی نہ کسی پیشرفت کی جانب بڑھ رہے ہیں اگرچہ عوامی بیانات اور سفارتی تصاویر اس کے برعکس تاثر دے رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران پر عائد پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں تو پاکستان کو سستی توانائی، ایران کے ساتھ تجارت، گیس پائپ لائن، بندرگاہی تعاون اور علاقائی تجارتی راہداریوں کی صورت میں نمایاں اقتصادی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد مفاہمتی یادداشت بڑی کامیابی، امریکا ایران پائیدار امن معاہدے تک پاکستان اپنا کردار ادا کرتا رہے گا، وزیراعظم
ان کے مطابق ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری پاکستان کی سرحدی اور بحری سلامتی کے لیے بھی مثبت پیشرفت ہوگی۔
پاک بھارت بیک چینل مذاکرات
بھارت سے متعلق سوال پر طلعت حسین نے کہا کہ سری لنکا میں پاکستان اور بھارت کے درمیان غیر رسمی رابطوں کی اطلاعات کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔
ان کے بقول ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ ایسے ٹریک 2 اور ٹریک 1.5 مذاکرات اکثر ریاستی سطح کی خاموش رضامندی سے آگے بڑھتے ہیں اگرچہ دونوں حکومتیں عوامی سطح پر اس کی تردید کرتی رہتی ہیں۔
افغانستان کے ساتھ امن کا راستہ نیو دہلی سے
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران امریکا مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو خطے میں نئی سفارتی پیشرفت کے امکانات روشن ہوجائیں گے جن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان رابطوں کی بحالی بھی شامل ہو سکتی ہے تاہم اس کا انحصار امریکا کی داخلی سیاسی صورتحال اور آئندہ پالیسیوں پر ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ امن کا راستہ بھی بھارت سے نکل سکتا ہے۔













