سوئٹزرلینڈ میں ایران امریکا مذاکرات کو تعطل سے بچانے میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا، طلعت حسین

بدھ 1 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سینیئر صحافی سید طلعت حسین نے انکشاف کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایک موقع پر بات چیت تعطل کا شکار ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے تھے تاہم پاکستان نے اہم کردار ادا کرتے ہوئے اس عمل کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کی۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات کا اصل امتحان شروع، اگلے 60 دن فیصلہ کن، آگے کیا ہوگا؟

وی نیوز کے پروگرام ’سیاست اور صحافت‘ میں گفتگو کرتے ہوئے طلعت حسین نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے آغاز سے قبل غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تاہم پاکستان کے کلیدی کردار کی وجہ سے وہاں بات چیت ممکن ہوئی۔

انہوں نے سوئزرلینڈ مذاکرات کا آنکھوں دیکھا حال بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستانی صحافیوں کو غیر معمولی رسائی دی گئی جس کے باعث انہیں مذاکراتی ماحول کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔

انہوں نے بتایا کہ افتتاحی مرحلے میں ایرانی وفد نے میڈیا کے سامنے امریکی وفد کے ساتھ مشترکہ تصویر یا مصافحے سے گریز کیا جس کے باعث ایک غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی جو تقریباً 15 منٹ تک جاری رہی۔

مزید پڑھیے: ایران امریکا مذاکرات میں پیشرفت، اسٹاک مارکیٹ میں 500 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ

طلعت حسین کے مطابق ایرانی حکمت عملی کا مقصد ’تصویری سفارت کاری‘ سے بچنا تھا تاکہ امریکا کے ساتھ کسی بھی علامتی مفاہمت کا تاثر نہ جائے۔ تاہم پاکستان نے اس وقت صورتحال کو سنبھالا اور وزیر داخلہ محسن نقوی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کی وجہ سے بات چیت کا آغاز ہوا۔

جامع معاہدے کی بنیاد اسلام آباد

طلعت حسین کا کہنا تھا کہ اگرچہ مذاکرات کا اگلا مرحلہ دوحہ اور دیگر مقامات پر جاری ہے لیکن اس سے اسلام آباد کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ ان کے بقول جب خطے میں شدید کشیدگی تھی اور کوئی بھی ملک ثالثی کے لیے آگے آنے کو تیار نہیں تھا تو اس وقت پاکستان نے دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ سفارتی عمل کی بنیاد اسلام آباد میں رکھی گئی تاہم تکنیکی نوعیت کی بات چیت کچھ عملی وجوہات کی وجہ سے سوئٹزرلینڈ، دوحہ اور عمان منتقل ہوئی۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، آئل ٹینکروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ

دوحہ اور عمان میں ہونے والی ملاقاتیں زیادہ تر تکنیکی امور، مالی معاملات، منجمد ایرانی فنڈز، آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام جیسے مخصوص موضوعات سے متعلق ہیں اس لیے ان مقامات کا انتخاب عملی ضرورت کے تحت کیا گیا ہے۔

طلعت حسین کے مطابق مذاکراتی عمل اب تک مفاہمتی یادداشت، مشترکہ اعلامیے اور ورکنگ پلان تک پہنچ چکا ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فریقین کسی نہ کسی پیشرفت کی جانب بڑھ رہے ہیں اگرچہ عوامی بیانات اور سفارتی تصاویر اس کے برعکس تاثر دے رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایران پر عائد پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں تو پاکستان کو سستی توانائی، ایران کے ساتھ تجارت، گیس پائپ لائن، بندرگاہی تعاون اور علاقائی تجارتی راہداریوں کی صورت میں نمایاں اقتصادی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد مفاہمتی یادداشت بڑی کامیابی، امریکا ایران پائیدار امن معاہدے تک پاکستان اپنا کردار ادا کرتا رہے گا، وزیراعظم

ان کے مطابق ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری پاکستان کی سرحدی اور بحری سلامتی کے لیے بھی مثبت پیشرفت ہوگی۔

پاک بھارت بیک چینل مذاکرات

بھارت سے متعلق سوال پر طلعت حسین نے کہا کہ سری لنکا میں پاکستان اور بھارت کے درمیان غیر رسمی رابطوں کی اطلاعات کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔

ان کے بقول ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ ایسے ٹریک 2 اور ٹریک 1.5 مذاکرات اکثر ریاستی سطح کی خاموش رضامندی سے آگے بڑھتے ہیں اگرچہ دونوں حکومتیں عوامی سطح پر اس کی تردید کرتی رہتی ہیں۔

افغانستان کے ساتھ امن کا راستہ نیو دہلی سے

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران امریکا مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو خطے میں نئی سفارتی پیشرفت کے امکانات روشن ہوجائیں گے جن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان رابطوں کی بحالی بھی شامل ہو سکتی ہے تاہم اس کا انحصار امریکا کی داخلی سیاسی صورتحال اور آئندہ پالیسیوں پر ہوگا۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کیجانب سے امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط، پاکستان ثالث اور ضامن قرار

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ امن کا راستہ بھی بھارت سے نکل سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp