’بیٹا! اس کیس کو کیوں فالو کرنا ہے؟‘ گل پلازہ سانحہ اور عدالت کا تاریخی فیصلہ

جمعہ 10 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

’بیٹا! اس کیس کو کیوں فالو کرنا ہے؟ آپ ہی بتائیں، اس میں ایسا کیا ہے؟ کیا اس نظام میں کوئی تبدیلی آ گئی ہے؟‘

یہ وہ لفظی تیر تھے جو ایک بوڑھے باپ کے کانپتے ہوئے لبوں سے نکل کر فضا میں معلق ہو گئے۔ چند لمحوں کے لیے ایک ایسا سکوت چھا گیا جس میں برسوں کی اذیت سمٹ آئی تھی۔ پھر انہوں نے اپنے سینے میں دبی ہوئی تکلیف کو چھپانے کی ایک ناکام کوشش کی اور آہستہ سے بولے: ’حادثہ ہونا نہیں چاہیے، لیکن جب ہو جائے تو پھر صرف ایک سوال رہ جاتا ہے کہ اس سے جڑے ادارے کون سے تھے اور انہوں نے اپنی ذمہ داری نبھائی یا نہیں؟‘

مزید پڑھیں:سانحہ گل پلازا: میونسپل کمشنر  نے جوڈیشل کمیشن میں کیا موقف اختیار کیا؟

یہ محمد شاہد ہیں، وہ بدنصیب باپ جن سے گل پلازہ کے بے رحم شعلوں نے ایک ہی لمحے میں ان کا بیٹا، بہو اور معصوم پوتا چھین لیا۔ ایک پورا خاندان، 3 نسلیں، ایک ہی رات میں راکھ کا ڈھیر بن گئیں۔

محمد شاہد کی آنکھوں میں اب آنسو نہیں، ایک ساکت خاموشی اور بے بسی جم چکی ہے۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا اس عمارت میں جان بچا کر نکلنے کے لیے کوئی ہنگامی راستہ موجود تھا؟ کیا فائر ٹینڈر بروقت پہنچے تھے؟ اگر پہنچے بھی تو کیا ان کے پاس آگ بجھانے کے لیے پانی موجود تھا؟ کیا ٹریفک اس انداز میں کنٹرول کی گئی تھی کہ امدادی کارروائیاں بروقت ہو سکتیں؟

پھر وہ ایک سرد آہ بھر کر کہتے ہیں: ’چلیے، وہ سب چھوڑ دیں … کیا اس قیامت کے بعد کراچی کی دوسری عمارتوں میں کوئی ایک بھی احتیاطی تدبیر اختیار کی گئی؟ کیا کسی دوسرے باپ کا گھر اجڑنے سے بچانے کے لیے کوئی انتظام کیا گیا؟‘

محمد شاہد کا ماننا ہے کہ نظام ایسا ہونا چاہیے جو ایسے سانحات کو جنم ہی نہ لینے دے۔ جہاں خونی حادثات معمول بن جائیں، وہاں مجرموں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا انتظار کرنا اور اس اندھے نظام سے انصاف کی امید رکھنا خود کو دھوکا دینے کے مترادف ہے۔

وہ قانون کی پیچیدگیوں سے واقف نہیں۔ وہ صرف ایک لٹا ہوا باپ ہے، جو شکستہ لہجے میں کہتا ہے: ’مجھے نہیں معلوم عدالت میں کتنی بار چالان جمع ہوا، نہ یہ معلوم ہے کہ آخر فیصلہ کیا آیا۔‘

گل پلازہ کیس: عدالت کا تاریخی حکم

محمد شاہد کے یہی سوال اب عدالت نے بھی اٹھا لیے ہیں۔ گل پلازہ آتشزدگی کیس میں پولیس کی فائنل رپورٹ کو کراچی کی مقامی عدالت نے غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ تفتیش نامکمل اور کئی بنیادی پہلوؤں سے محروم ہے، اس لیے ایس ایس پی انویسٹی گیشن کسی ڈی ایس پی رینک سے کم افسر کو تفتیش نہ سونپیں اور 15 روز کے اندر ازسرِنو تحقیقات مکمل کرکے جامع رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔

واقعے کا پس منظر

عدالتی حکم نامے کے مطابق 17 جنوری 2026 کی رات قریباً 10 بج کر 15 منٹ پر ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال کی گراؤنڈ فلور پر ایک دکان میں آگ بھڑکی، جس نے چند ہی لمحوں میں پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

اس ہولناک سانحے میں مجموعی طور پر 72 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق اب تک 71 افراد کے جھلسنے، دم گھٹنے اور آگ کی لپیٹ میں آنے سے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں سے 20 افراد کی شناخت ہو چکی ہے، جبکہ باقی لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونے فارنزک لیبارٹری بھیجے گئے۔ اس واقعے میں 11 افراد شدید زخمی بھی ہوئے۔

مجرمانہ غفلت کا انکشاف

عدالت کے مطابق ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ گل پلازہ میں آگ سے بچاؤ اور ہنگامی انخلا کے مناسب انتظامات موجود ہی نہیں تھے۔ متعدد دروازے بند تھے، ایمرجنسی راستے یا تو موجود نہیں تھے یا بند تھے، جبکہ بجلی معطل ہونے سے لوگ عمارت کے اندر پھنس گئے۔

عدالت نے واضح طور پر قرار دیا کہ 70 سے زائد افراد کسی قدرتی آفت کا شکار نہیں ہوئے بلکہ مجرمانہ غفلت، ناقص انسپکشن، فائر سیفٹی آڈٹ نہ ہونے اور متعلقہ اداروں کی ناکامی کے باعث جان سے گئے۔

عدالت نے اس پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ تفتیشی افسر پرویز احمد بھٹو ان سرکاری اداروں کی ذمہ داری کا تعین کرنے میں ناکام رہے جن پر عمارتوں کی حفاظت اور فائر سیفٹی یقینی بنانے کی آئینی و قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

کن اداروں کی دوبارہ تحقیقات ہوں گی؟

عدالت نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA)، گل پلازہ انتظامیہ، کے ایم سی، فائر بریگیڈ، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے کردار کی دوبارہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے ہدایت کی ہے کہ معلوم کیا جائے کہ عمارت کے اصل نقشے میں کس طرح تبدیلیاں کی گئیں، دکانوں کی تعداد 1,102 سے بڑھا کر 1,153 کیسے کی گئی، سیڑھیاں کیوں تنگ کی گئیں اور ہنگامی راستے کس کی اجازت سے بند کیے گئے۔

اسی طرح فائر الارم، اسپرنکلر سسٹم، ہائیڈرنٹس اور فائر سیفٹی آڈٹ کی عدم موجودگی کی ذمہ داری بھی طے کی جائے۔

عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ 17 جنوری کی رات موصول ہونے والی کال، فائر ٹینڈرز کی روانگی اور جائے وقوعہ پر پہنچنے کے اوقات، پانی کی دستیابی، ریسکیو کارروائیوں میں کسی رکاوٹ اور ٹریفک مینجمنٹ کے تمام ریکارڈ کی مکمل جانچ کی جائے۔ ساتھ ہی یہ بھی دیکھا جائے کہ کیا کسی سرکاری افسر کی غفلت سے جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔

مزید پڑھیں: سانحہ گل پلازا: جوڈیشل کمیشن نے انکوائری رپورٹ مکمل کرکے سندھ حکومت کے حوالے کردی

انصاف صرف سزا نہیں، احتساب بھی ہے

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ قانون مجسٹریٹ کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ پولیس کی ناقص یا یکطرفہ تفتیش پر محض دستخط نہ کرے بلکہ آزادانہ عدالتی ذہن استعمال کرے۔

اسی بنیاد پر عدالت نے پولیس کا چالان واپس کرتے ہوئے اعلیٰ سطح پر نئی تفتیش کا حکم دیا ہے اور 15 روز کے اندر تمام متعلقہ اداروں کی ذمہ داری، غفلت اور ممکنہ مجرمانہ کردار سے متعلق جامع رپورٹ طلب کر لی ہے۔

شاید محمد شاہد کے سوالوں کا مکمل جواب آج بھی کسی کے پاس نہیں، مگر کم از کم عدالت نے یہ ضرور ثابت کر دیا ہے کہ ایسے سانحات کو محض ایک حادثہ قرار دے کر فائلوں میں دفن نہیں کیا جا سکتا۔ انصاف صرف سزا کا نام نہیں، بلکہ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ وہ کون لوگ اور ادارے تھے جن کی غفلت نے ایک پوری نسل کو آگ کے حوالے کر دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ڈیجیٹل دور میں والدین اور بچوں کے تعلق کی نوعیت بدل چکی ہے، روبینہ اشرف

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟