مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کا پتنگ میلہ، اسرائیلی بستیوں کے خلاف خاموش احتجاج

ہفتہ 11 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی گاؤں بورین میں روایتی پتنگ میلے کا انعقاد کیا گیا، جہاں بچوں اور مقامی شہریوں نے رنگ برنگی پتنگیں اڑا کر نہ صرف تفریح کا اہتمام کیا بلکہ اسرائیلی آبادکاری کے خلاف اپنے حقِ ملکیت اور مزاحمت کا پیغام بھی دیا۔

یہ گاؤں اسرائیلی بستی ہار براخا کے قریب واقع ہے، جو 1983 میں قائم کی گئی تھی۔ اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی قوانین کے تحت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاریاں غیر قانونی تصور کی جاتی ہیں، تاہم گزشتہ کئی برسوں سے ان بستیوں کا دائرہ مسلسل وسیع ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیں: صرف ایک ڈالر میں فلسطینی زمین امریکا کے نام، اسرائیل کے نئے معاہدے پر ہنگامہ

بورین کے رہائشی 2009 سے ہر موسم گرما میں اس پہاڑی پر پتنگ میلے کا انعقاد کرتے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق یہ وہ علاقہ ہے جس کا ایک حصہ اسرائیلی آبادکاروں کے قبضے میں جا چکا ہے، اس لیے یہ میلہ زمین سے وابستگی اور اپنے حق کے اظہار کی علامت بن چکا ہے۔

میلے کے منتظمین میں شامل ایک فلسطینی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہم آبادکاروں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ یہ ہماری زمین ہے اور یہ آسمان بھی ہمارا ہے۔ اگر ہم اپنی زمین تک نہیں پہنچ سکتے تو ہماری پتنگیں ضرور وہاں تک پہنچ سکتی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اگرچہ یہ میلہ بنیادی طور پر بچوں کی خوشی کے لیے منعقد کیا جاتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک واضح سیاسی پیغام بھی جڑا ہوا ہے۔

بورین میں رہنے والے فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ ان کی روزمرہ زندگی اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں اور نئی بستیوں کی مسلسل توسیع کے سائے میں گزرتی ہے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور نے بھی 2008 میں اس علاقے میں آبادکاروں کے حملوں، فائرنگ کے واقعات اور فلسطینیوں کے زیتون کے درخت اکھاڑے جانے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

چند گھنٹوں کے لیے یہ پہاڑی ایک میلے کا منظر پیش کرتی ہے۔ بچوں کے چہروں پر رنگ برنگی پینٹنگز بنائی جاتی ہیں، موسیقی بجتی ہے، خاندان گھاس پر چادریں بچھا کر پکنک مناتے ہیں جبکہ فلسطینی پرچم کے سیاہ، سفید، سبز اور سرخ رنگوں سے مزین پتنگیں فضا میں بلند ہوتی ہیں۔

ایک پتنگ مصر کے قومی پرچم کے رنگوں میں بھی اڑائی گئی، جو مصری فٹبال ٹیم سے اظہارِ یکجہتی کی علامت تھی۔

تاہم میلے کی خوشیاں بھی خوف سے خالی نہیں ہوتیں۔ مقامی افراد کے مطابق میلے سے پہلے اس بات کی تصدیق کی جاتی ہے کہ کہیں اسرائیلی آبادکار آس پاس موجود تو نہیں۔

15 سالہ فلسطینی لڑکی نے بتایا کہ گزشتہ سال آبادکاروں کے حملوں کے باعث وہ میلے میں شریک نہیں ہو سکے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم کبھی کبھی خوفزدہ ہوتے ہیں۔ ہم صرف آدھے یا ایک گھنٹے کے لیے یہاں آتے ہیں تاکہ تھوڑی تازہ ہوا میں سانس لے سکیں۔ جنگ اور معاشی مشکلات کے درمیان ہم صرف معمول کی زندگی گزارنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ایک اور رہائشی خاتون نے کہاکہ ان کے والدین کے گھر پر حملہ کیا گیا، کھڑکیاں توڑ دی گئیں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہماری صرف یہی دعا ہے کہ آبادکار یہاں نہ آئیں۔

مزید پڑھیں: برطانوی اپیل کورٹ نے فلسطین ایکشن پر پابندی کو قانونی قرار دیدیا

شام ڈھلنے کے ساتھ ہوا مدھم پڑ جاتی ہے اور پتنگیں آہستہ آہستہ زمین پر واپس اترنے لگتی ہیں، لیکن بورین کے رہائشی عزم ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اگلے سال بھی اسی مقام پر جمع ہوں گے تاکہ کم از کم آسمان کے ایک حصے پر اپنا حق اور اپنی موجودگی کا اظہار جاری رکھ سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دفتر خارجہ میں قونصلر خدمات کے لیے شام کی شفٹ کا آغاز، اوقات کار رات 8 بجے تک بڑھا دیے گئے

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ، کاروبار اور معیشت کو کیا فائدہ ہوگا؟

پیٹرولیم کی قیمتوں میں ردوبدل، پیٹرول ایک روپے سستا اور ڈیزل 3.37 روپے مہنگا

ایران سے بات چیت جاری ہے، ناکامی کی صورت میں سخت حملہ کردیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

ویڈیو

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

کالم / تجزیہ

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان