برطانوی اپیل کورٹ نے فلسطین ایکشن پر پابندی کو قانونی قرار دیدیا

منگل 16 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ کی کورٹ آف اپیل نے فیصلہ دیا ہے کہ فلسطین نواز کارکن تنظیم ’فلسطین ایکشن‘ کو دہشتگرد تنظیم قرار دے کر اس پر پابندی عائد کرنے کا حکومتی فیصلہ قانونی تھا۔

یوں عدالت نے نچلی عدالت کے اس فیصلے کو کالعدم کر دیا جس میں مذکورہ حکومتی پابندی کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔

گزشتہ روز سنائے گئے فیصلے میں عدالت نے حکومت کی جانب سے دائر اپیل منظور کر لی۔

حکومت نے فروری میں ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ٹیررازم ایکٹ 2000 کے تحت فلسطین ایکشن پر پابندی غیر قانونی اور غیر متناسب اقدام ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آئرش مصنفہ سیلی رونی کا برطانیہ میں فلسطین ایکشن سے منسلک قیدیوں کی مبینہ بدسلوکی پر اظہارِ تشویش

فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس سو کار نے کہا کہ عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ پابندی کا فیصلہ تمام متعلقہ عوامل کے درمیان ایک منصفانہ توازن قائم کرتا ہے۔

’ہم نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ تنظیم پر پابندی کے فیصلے نے مناسب توازن برقرار رکھا، لہٰذا ہم نے وزیر داخلہ کی اپیل منظور کر لی ہے۔‘

دوسری جانب فلسطین ایکشن کی شریک بانی ہُدیٰ عموری نے کہا کہ وہ اس پابندی کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گی اور اس معاملے کو سپریم کورٹ اور یورپی عدالت برائے انسانی حقوق تک لے جائیں گی۔

ان کے مطابق یہ اقدام جدید برطانوی تاریخ میں آزادی اظہار اور حقِ احتجاج پر شدید ترین حملوں میں سے ایک ہے۔

جولائی 2025 میں پابندی نافذ ہونے کے بعد سے فلسطین ایکشن کی حمایت سے متعلق 3 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

اپنے فیصلے میں چیف جسٹس سو کار نے کہا کہ فلسطین ایکشن کا طرزِ عمل کسی پرامن براہِ راست کارروائی کرنے والے گروپ جیسا نہیں تھا۔

برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود کی جانب سے پیش ہونے والے وکلا نے اپریل میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ پابندی سے آزادی اظہار پر شدید قدغن لگنے کے دعوے مبالغہ آمیز حد تک غلط ہیں۔

چیف جسٹس نے تسلیم کیا کہ پابندی ایک انتہائی متنازع اقدام ہے اور تنظیم کو بہت سے قانون پسند شہریوں کی حمایت حاصل تھی۔

مزید پڑھیں: لندن میں ’فلسطین ایکشن‘ پر پابندی کے خلاف تاریخی احتجاج، 466 سے زائد افراد گرفتار

تاہم انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ فلسطین ایکشن نے کھلے عام ایسی غیر قانونی پرتشدد سرگرمیوں کی حمایت کی جو دہشتگردی کے زمرے میں آتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تنظیم کی سرگرمیوں کے نتیجے میں نہ صرف املاک کو نقصان پہنچا بلکہ افراد زخمی بھی ہوئے، اور تنظیم نے کبھی یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کی ایسی کارروائیاں غلطی یا استثنائی نوعیت کی تھیں۔

عدالت کے مطابق فلسطین ایکشن کی مہم قانونی کاروباری اداروں کو بند کروانے کے لیے ترتیب دی گئی تھی، جبکہ تیسرے فریق کے افراد اور املاک کو لاحق مستقبل کے خطرات بھی فیصلہ کرتے وقت اہم عوامل تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سفید جادو، مثبت اور مددگار

متحدہ اپوزیشن کی تشکیل پر اتفاق: کیا مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں یہ اتحاد حکومت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے؟

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘