حکومت بلوچستان نے صوبے کے انتظامی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی منظوری دیتے ہوئے 4 نئے ڈویژنز، 5 نئے اضلاع، متعدد سب ڈویژنز، تحصیلوں اور سب تحصیلوں کے قیام اور پرانے انتظامی یونٹس کی ازسرنو تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد بلوچستان میں ڈویژنز کی مجموعی تعداد 7 سے بڑھ کر 11 جبکہ اضلاع کی تعداد 36 سے بڑھ کر 41 ہو گئی ہے۔
مزید پڑھیں:کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال، کاروباری مراکز بند
محکمہ ریونیو حکومت بلوچستان کی جانب سے ہفتہ کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اقدامات صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد بلوچستان لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کی دفعات 5، 6 اور 6-A کے تحت کیے گئے ہیں۔ نوٹیفکیشن میں صوبے بھر میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام، اضلاع، ڈویژنز، سب ڈویژنز، تحصیلوں اور سب تحصیلوں کی حدود میں ردوبدل کی منظوری دی گئی ہے۔
اہم فیصلوں کے تحت ضلع کوئٹہ کو 2 الگ اضلاع، کوئٹہ ایسٹ اور کوئٹہ ویسٹ میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ کوئٹہ ایسٹ میں صدر، سٹی اور سریاب سب ڈویژنز شامل ہوں گے، جبکہ کوئٹہ ویسٹ میں کچلاک، بروری اور پنجپائی سب ڈویژنز شامل کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ضلع مستونگ کو کوئٹہ ڈویژن میں شامل کر دیا گیا ہے، جس کے بعد کوئٹہ ڈویژن 3 اضلاع پر مشتمل ہوگا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پشین ڈویژن میں پشین، برشور، قلعہ عبداللہ اور چمن اضلاع شامل ہوں گے، جبکہ خضدار ڈویژن میں خضدار، قلات، سوراب اور نیا قائم ہونے والا ضلع وڈھ شامل کیا گیا ہے۔ ضلع وڈھ میں وڈھ، نال اور اورناچ کے علاقے شامل ہوں گے، تاہم سب تحصیل سارونہ کو ضلع وڈھ سے الگ کر کے اس کے مختلف حصے ضلع لسبیلہ اور ضلع حب میں شامل کر دیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ: گرمی کا توڑ کابلی آئس کریم کی خاص بات کیا ہے؟
حکومت نے لسبیلہ کے نام سے نیا ڈویژن بھی قائم کر دیا ہے، جس میں ضلع لسبیلہ، ضلع حب اور ضلع آواران شامل ہوں گے۔ اسی طرح رخشان ڈویژن میں چاغی، نوشکی، خاران اور واشک اضلاع شامل رہیں گے۔
حکومت بلوچستان کے مطابق ان اصلاحات کا مقصد انتظامی نظام کو مزید مؤثر، عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر اور دور دراز علاقوں میں حکومتی رسائی کو مضبوط بنانا ہے۔













