ضمانت دینے سے احتسابی عمل پر عوامی اعتماد مجروح ہو سکتا ہے، سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کی درخواست ضمانت مسترد

اتوار 12 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بی آر ٹی ییلو لائن منصوبے میں مبینہ اربوں روپے کی کرپشن اور فنڈز کی غیر قانونی ادائیگیوں کے ہائی پروفائل کیس میں صوبائی اینٹی کرپشن عدالت نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کی درخواستِ ضمانت مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ورلڈ بینک کے خطوط سے ملک کی ساکھ داؤ پر لگی اور اربوں روپے کے عوامی فنڈز کے ذمہ داران کو ضمانت دینے سے احتسابی عمل پر عوامی اعتماد مجروح ہو سکتا ہے۔

تحریری فیصلے کے اہم نکات اور عدالتی مشاہدات

عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں ملزم ضمیر عباسی کی ضمانت کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے سخت ریمارکس دیے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ریکارڈ پر موجود مواد، وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم کی رپورٹ اور دستاویزی شواہد بادی النظر میں ملزم کو جرائم سے جوڑنے کے لیے کافی ہیں۔

مزید پڑھیں:بی آر ٹی ییلو لائن کرپشن کیس: ضمیر عباسی عدالتی ریمانڈ پر جیل منتقل

قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی

انکوائری رپورٹ کے مطابق ملزم کی جانب سے کی جانے والی ادائیگیاں نہ صرف کنٹریکٹ کی شرائط بلکہ مالیاتی قواعد اور پروکیورمنٹ کے طے شدہ طریقہ کار کے بھی خلاف تھیں۔ ان خلاف ورزیوں سے نجی ٹھیکیداروں کو غیر قانونی فائدہ پہنچا اور قومی خزانے کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

عوامی فنڈز اور احتساب کا عمل

عدالت نے قرار دیا کہ بدعنوانی اور عوامی فنڈز میں خردبرد جیسے جرائم عام نوعیت کے جرائم سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ ایسے معاملات میں بااثر سرکاری افسران کو ضمانت دینے سے معاشرے میں یہ تاثر قائم ہوگا کہ وہ اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے فوری نتائج سے بچ سکتے ہیں، جو احتسابی عمل پر سے عوام کا بھروسہ اٹھا دے گا۔

اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کے رویے پر عدالت کی شدید برہمی

سماعت کے دوران سندھ حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کا رویہ عدالت کے لیے حیران کن رہا۔ انہوں نے عدالت میں ملزم کی ضمانت کی مخالفت نہ کرنے کا موقف اپنایا اور کہا کہ انویسٹی گیشن چل رہی ہے، اگر عدالت ملزم کو ضمانت دیتی ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔

عدالت نے تحریری فیصلے اور زبانی ریمارکس میں اس موقف کو سخت ناپسند کیا، عدالت نے قرار دیا کہ اسپیشل پراسیکیوٹر نے ضمانت پر اعتراض نہ کرنے کے لیے متعلقہ مجاز اتھارٹی کی کوئی تحریری منظوری پیش نہیں کی، اس لیے پراسیکیوٹر کی اس رعایت کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ کو اس کیس میں اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر بنا کر لایا گیا ہے، یقینا پیچھے بڑے کھلاڑی ہوں گے۔ اگر یہی کام کرنا تھا تو پہلے ہی بتا دیتے۔ جب پراسیکیوٹر نے کہا کہ وہ کیس سننا چاہتے تھے، تو عدالت نے تلخ لہجے میں کہا کہ ہم یہاں آپ کو سنانے کے لیے نہیں بیٹھے۔

عدالت اور وکیلِ صفائی کے درمیان تند و تیز جملوں کا تبادلہ

سماعت کے دوران عدالت نے ملزم کے وکیل سے ادائیگیاں جاری کرنے سے متعلق بارہا سوالات کیے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ کنسلٹنٹ کی منظوری کے بغیر ادائیگیاں کی گئیں، جس پر وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ سیمنٹ اور سریے کے لیے ایڈوانس پیمنٹ کرنے کا اختیار رکھتے تھے اور ادائیگی سے قبل بینک گارنٹی بھی لی گئی تھی۔

عدالتی سوالات کے مبہم جوابات

عدالت نے وکیلِ صفائی کو ٹوکتے ہوئے کہا آپ ہمارے سوالوں کا تسلی بخش جواب نہیں دے رہیں۔ ہم نے تین دفعہ پوچھا ہے کہ پیمنٹ قواعد کے مطابق ریلیز کی گئی تھی یا نہیں، لیکن نہیں بتایا گیا۔ وکیل نے جواب دیا کہ جو سوالات ان سے پوچھے جا رہے ہیں، وہ پراسیکیوشن سے پوچھے جانے چاہئیں۔

غیر قانونی کام اور حکومتی دباؤ

عدالت نے ریمارکس دیے اگر گورنمنٹ کا دباؤ ہوگا کہ جلدی کام کریں، تو کیا آپ غیر قانونی کام کرتے جائیں گے؟ کیا پروجیکٹ ڈائریکٹر کو سارے اختیارات حاصل ہیں، کیا وہ چیف منسٹر ہیں؟

نشانہ کوئی اور تھا، شکار ہم ہو گئے

ملزم کے وکیل نے دفاع میں کہا کہ منصوبے کی بروقت تکمیل حکومت کی پالیسی تھی اور یہ مقدمہ سیاسی اور بدنیتی پر مبنی ہے، ملزم نے کوئی ذاتی مالی فائدہ حاصل نہیں کیا۔ وکیل نے یہ بھی انکشاف کیا کہ لگتا ہے آپ کسی کے ٹریپ میں پھنس گئے ہیں؟ کے عدالتی ریمارکس پر وکیل نے کہا کہ نشانہ کوئی اور تھا، شکار ہم ہو گئے، ضمیر عباسی اب جیل میں ہیں، جبکہ ملک کے سینکڑوں منصوبوں میں اسی طرح کام ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے مکمل ازالے کا فیصلہ، سندھ کابینہ نے اہم منصوبوں کی منظوری دے دی

فنڈنگ کی تفصیلات اور انکوائری کی قانونی حیثیت

وکیلِ صفائی نے عدالت کو بتایا کہ بی آر ٹی ییلو لائن منصوبے کے لیے 60 فیصد فنڈنگ ورلڈ بینک، 20 فیصد سندھ حکومت اور 20 فیصد پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت فراہم کی جانی ہے۔ جب عدالت نے انکوائری کے حوالے سے سرکاری وکیل سے پوچھا، تو معلوم ہوا کہ اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ نے قانون کے مطابق ابتدائی انکوائری خود نہیں کی، بلکہ یہ انکوائری وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم نے کی تھی۔

اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نے واضح کیا کہ 1993 کے رولز کے تحت وزیراعلیٰ کو اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی معاملے کی انکوائری کروا سکتے ہیں اور اس رپورٹ کی بنیاد پر اینٹی کرپشن کی ایف آئی آر درج ہو سکتی ہے۔ انہوں نے دہرایا کہ ضمیر عباسی نے رولز فالو نہیں کیے اور نیسپاک سے ادائیگی کی منظوری نہیں لی تھی۔ عدالت نے اس موقع پر مزید قانونی وضاحت کے لیے اینٹی کرپشن کورٹ کے باقاعدہ سرکاری وکیل کو بھی طلب کر لیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ڈیجیٹل دور میں والدین اور بچوں کے تعلق کی نوعیت بدل چکی ہے، روبینہ اشرف

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟