وفاقی آئینی عدالت نے پیرسوہاوہ میں واقع مونال ریسٹورنٹ کو گرانے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے سی ڈی اے اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) کی اپیلیں منظور کرلیں۔
مزید پڑھیں:مونال ریسٹورنٹ کے بعد ڈائنو ویلی کی باری؟ سپریم کورٹ کا نوٹس جاری
عدالت نے اپنے فیصلے میں حکمِ امتناع بھی ختم کردیا اور قرار دیا کہ ملکیت سے متعلق مقدمات کا فیصلہ ٹرائل عدالتیں آزادانہ طور پر کریں گی اور وہ اس ضمن میں کسی عدالتی آبزرویشن سے متاثر نہیں ہوں گی۔
آئینی عدالت نے ٹرائل عدالتوں کو مقدمات کا جلد از جلد فیصلہ کرنے کی بھی ہدایت کی، جبکہ انتظامی امور سے متعلق فیصلے متعلقہ ریگولیٹری ادارے کریں گے۔
دورانِ سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کئی نکات کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کیس دائر کرنے اور نظرثانی درخواست پر بھی عدالت نے برہمی کا اظہار کیا، جبکہ فیصلے میں ایسی باتیں بھی لکھی گئیں جن کا مقدمے کے حقائق سے تعلق نہیں تھا۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے مزید کہا کہ عدالت جذبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے وکیل احسن بھون سے کہا کہ عدالت میں ہماری تعریفیں نہ کریں، ہم وہی حکم دیں گے جو سماعت کے دوران سامنے آنے والے ریکارڈ اور دلائل کی بنیاد پر ہوگا۔
انہوں نے ریمارکس دیے کہ ’ہم فیصلے میں الف لیلیٰ کی کہانی نہیں لکھیں گے‘، اور یہ بھی کہا کہ فیصلہ پڑھ کر اندازہ ہوا کہ اس میں عدالتی کارروائی سے باہر کی بہت سی باتیں شامل کی گئی تھیں۔
اس موقع پر وکیل احسن بھون نے کہا کہ عدالت نے مقدمے کا انتہائی باریک بینی سے جائزہ لیا ہے۔
مونال ریسٹورنٹ کیس ٹائم لائن
2006 میں مونال ریسٹورنٹ کو مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں لیز پرجگہ دی گئی اور ریسٹورنٹ کا باقاعدہ آغاز ہوا
11 جنوری 2022 کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں تجارتی سرگرمیوں اور زمین کی ملکیت پر فیصلہ دیا
اسلام آباد ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا
سپریم کورٹ نے سی ڈی اے اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ اور دیگر اداروں سے ریکارڈ طلب کیا
21 مارچ 2024 کو سپریم کورٹ نے مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں موجود تمام ریسٹورنٹس کی تفصیلات، لیز ریکارڈ اور قانونی حیثیت طلب کی
11 جون 2024 کو سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ سنایا
عدالت نے مونال، لا مونٹانا اور دیگر تمام ریسٹورنٹس کو تین ماہ کے اندر نیشنل پارک خالی کرنے کا حکم دیا
عدالت نے قرار دیا کہ نیشنل پارک میں تجارتی سرگرمیاں ماحولیات کے تحفظ کے منافی ہیں
15 اگست 2024 کو سپریم کورٹ نے مونال کے مالک لقمان علی افضل کو توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کیا
عدالت نے ریمارکس دیے فیصلے کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے
مزید پڑھیں:مونال ریسٹورنٹ کے بیروزگار ہونے والے ملازمین کے لیے بڑی خوشخبری
21 اگست 2024 سپریم کورٹ نے 25 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا
فیصلے میں کہا گیا کہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک کا تحفظ آئینی ذمہ داری ہے اور وہاں کمرشل سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی
ستمبر 2024 کو سپریم کورٹ نے مونال اور دیگر ریسٹورنٹس کی نظرثانی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے فیصلہ برقرار رکھا
اکتوبر 2024 کو سی ڈی اے نے سپریم کورٹ کو رپورٹ پیش کی کہ مونال، لا مونٹانا اور گلوریا جینز کی عمارتیں گرا دی گئی ہیں اور زمین واگزار کرا لی گئی ہے
جون 2026 وفاقی آئینی عدالت نے سی ڈی اے اور میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی درخواستوں پر سماعت کی
لوکل گورنمنٹ اسلام آباد نے مونال بند کرنے کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کی تھی
مونال کے ذمہ کرائے کی مد میں 6 کروڑ 39 لاکھ 55 ہزار 895 روپے واجب الادا ہیں، نظرثانی درخواست کا متن
مونال کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی رقم اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کو بغیر کسی استحقاق کے دے دی گئی، درخواست
عدالتی فیصلے سے لوکل گورنمنٹ کو ان فنڈز سے محروم کیا گیا جو بلدیاتی خدمات کے لیے استعمال ہونے تھے، درخواست گزار
رینٹل اور لیز کی یہ رقم مارگلہ نیشنل پارک میں واقع مقامی دیہاتوں سمیت اسلام آباد کے میونسپل ایریا میں بلدیاتی خدمات کے لیے پٹیشنر کا حق ہے، درخواست کا متن
وفاقی آئینی عدالت نے 2024 کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر سوالات اٹھائے گئے














