وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ نے او آئی سی کی وزارتی کانفرنس برائے خواتین سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو اس اہم کانفرنس کی میزبانی کرنے پر فخر ہے۔ انہوں نے کانفرنس میں شریک تمام مندوبین کو اسلام آباد آمد پر خوش آمدید کہا۔
مزید پڑھیں:اعظم نذیر تارڑ کی سعودی فیملی افیئرز کونسل کی سیکریٹری جنرل سے ملاقات، خواتین کے حقوق پر تبادلہ خیال
اعظم نذیر تارڑ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان او آئی سی کی چیئرمین شپ کی ذمہ داری کو اتفاق رائے اور باہمی تعاون کے جذبے کے ساتھ نبھائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کی ترقی درحقیقت پوری مسلم دنیا کی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔
وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام نے 1400 سال قبل ہی خواتین کو عزت، حقوق اور قانونی شناخت عطا کر دی تھی۔ تاریخی تناظر میں انہوں نے کہا کہ مسلم خواتین نے علم، قیادت، کاروبار اور عوامی خدمت میں ہمیشہ نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
Highlights from the opening remarks by H.E Azam Nazir Tarar, Pakistan’s Minister of Human Rights, at the Preparatory Meeting for the 9th Session of the Meeting of Ministers of Women’s Affairs#9th_Session_of_the_Women’s_Conference#Organisation_of_Islamic_Co-operation… pic.twitter.com/j2FUMijSxU
— OIC (@OIC_OCI) July 13, 2026
موجودہ چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج بھی لاکھوں خواتین اور بچیاں ترقی کی راہ میں مختلف رکاوٹوں کا سامنا کر رہی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ہر خاتون اور بچی کو تعلیم، ترقی اور قیادت کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے حصول کے لیے خواتین کا معاشی اور سیاسی طور پر بااختیار ہونا ناگزیر ہے۔ وفاقی وزیر نے او آئی سی ایکشن پلان اور ویمن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کو خواتین کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پلیٹ فارمز قرار دیا۔














