اداکارہ مومنہ اقبال ہراسانی کیس: ثاقب چدھڑ اور اہلیہ کی عبوری ضمانت میں 28 جولائی تک توسیع

پیر 13 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور کی سیشن عدالت نے اداکارہ مومنہ اقبال کی جانب سے درج سائبر کیس میں مسلم لیگ (ن) کے رکنِ پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ سمیرا کی عبوری ضمانت میں 28 جولائی تک توسیع کرتے ہوئے قومی سائبر جرائم تحقیقاتی ادارے کو آئندہ سماعت سے قبل تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نصرت علی صدیقی نے پیر کے روز اداکارہ مومنہ اقبال کی جانب سے درج سائبر کیس میں مسلم لیگ (ن) کے رکنِ پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ سمیرا کی عبوری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی، اس موقع پر ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ عدالت میں پیش ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ مومنہ اقبال اور ایم پی اے ثاقب چدھڑ کے تنازعے میں اہم پیشرفت

تحقیقاتی افسر نے عدالت کو بتایا کہ سمیرا چدھڑ تحقیقات میں شامل ہوچکی ہیں، تاہم تفتیش ابھی جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مبینہ طور پر جرم میں استعمال ہونے والے سم کارڈ والے موبائل فون کا فرانزک معائنہ ضروری ہے، اس لیے تحقیقات مکمل کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

دفاع کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ قومی سائبر جرائم تحقیقاتی ادارے نے حقائق کے برعکس مقدمہ درج کیا ہے، لہٰذا عبوری ضمانت برقرار رکھی جائے۔

عدالت نے تحقیقاتی افسر کی درخواست منظور کرتے ہوئے دونوں ملزمان کی عبوری قبل از گرفتاری ضمانت میں 28 جولائی تک توسیع کر دی اور آئندہ سماعت پر مکمل تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔

یہ ثاقب چدھڑ کی عبوری ضمانت میں دوسری توسیع ہے۔ عدالت نے پہلی مرتبہ 5 جون کو انہیں عبوری ضمانت دیتے ہوئے 24 جون تک گرفتاری سے روک دیا تھا، بعد ازاں 2 جولائی کو اس میں 13 جولائی تک توسیع کی گئی تھی۔

مقدمے کا پس منظر

اداکارہ مومنہ اقبال نے 20 مئی کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بتایا تھا کہ وہ طویل عرصے سے آن لائن ہراسانی، اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا کررہی ہیں، جس کے باعث وہ اور ان کا خاندان شدید ذہنی دباؤ میں ہے۔

انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر دعویٰ کیا تھا کہ مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والا ایک رکنِ اسمبلی انہیں مسلسل دھمکیاں دے رہا ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے متعدد بار متعلقہ اداروں سے رجوع کیا، مگر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

بعد ازاں مومنہ اقبال نے لاہور پولیس کو دی گئی درخواست میں ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور دیگر افراد پر سائبر ہراسانی، بلیک میلنگ، دھمکیوں، کردار کشی اور ان کی شادی میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات عائد کیے۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ مومنہ اقبال ہراسانی کیس: ن لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی عبوری ضمانت منظور

شکایت کے مطابق ثاقب چدھڑ نے 2022 میں شادی کی پیشکش مسترد ہونے کے بعد انہیں مسلسل ہراساں کیا، جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں اور مختلف ذرائع سے ذہنی اذیت پہنچائی۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ ملزم نے مبینہ طور پر دھمکی آمیز فون کالز، واٹس ایپ پیغامات، جعلی سماجی رابطے کے اکاؤنٹس اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر کے ذریعے اداکارہ کو بدنام کرنے اور ان کی شادی متاثر کرنے کی کوشش کی۔

مومنہ اقبال کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی منگنی طے ہونے کے بعد ان کے واٹس ایپ نمبر اور اہلِخانہ کو نامناسب ترمیم شدہ تصاویر بھیجی گئیں، جبکہ ان کے منگیتر اور ان کے خاندان کو بھی دھمکی آمیز کالز اور پیغامات موصول ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: ثاقب چدھڑ پر سنگین الزامات عائد کرنے والی اداکارہ مومنہ اقبال نے نکاح کرلیا

اداکارہ نے الزام عائد کیا کہ ملزم نے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے ان کی سابقہ شکایات پر کارروائی رکوانے کی کوشش کی، جس پر انہوں نے مقدمہ درج کرنے، اہلِ خانہ کو تحفظ فراہم کرنے اور فوری قانونی کارروائی کی درخواست کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp