ایران کا سخت مؤقف امریکا اسرائیل دوریاں کم کررہا ہے، تہران کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے، ایئر کموڈور (ر) خالد چشتی

منگل 14 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایئر کموڈور (ریٹائرڈ) خالد چشتی نے کہا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب اپنی بڑھی ہوئی اہمیت کے ذریعے فیصلہ سازی کے عمل میں شمولیت چاہتے ہیں، لیکن ایران کا سخت مؤقف امریکا اور اسرائیل کے درمیان دوریاں کم کررہا ہے۔

وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاسدران انقلاب سمجھتے ہیں کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ چونکہ انہوں نے لڑی ہے اس لیے فیصلہ سازی میں کلیدی کردار انہی کا ہونا چاہیے۔ اِسی لیے وہ سخت قسم کا مؤقف اپنا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا ایران کشیدگی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی دوبارہ ناکہ بندی کا اعلان

انہوں نے کہاکہ آبنائے ہرمز میں سے گزرتا ہوا کوئی جہاز اگر خلاف ورزی کرتا ہے تو اس پر حملہ بھی کیا جاتا ہے، اور اس کے بعد امریکا کی جانب سے جب ردعمل آتا ہے تو اس کو بھی برداشت کرتے ہیں۔

’پاسداران اِنقلاب کو جو نئی اہمیت ملی ہے اس کو وہ اتھارٹی میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مذاکرات کے اندر اپنی اہمیت منوانا چاہتے ہیں۔‘

انہوں نے کہاکہ ایران کو سمجھنا چاہیے کہ ان کے اس سخت مؤقف کی وجہ سے امریکا اور اسرائیل میں دوریاں کم ہورہی ہیں، کیونکہ اسرائیل شروع دِن سے چاہتا ہے کہ ایران کی فوجی قوّت کو مکمل طور پر ملیامیٹ کر دیا جائے۔ امریکا نے حال ہی میں خلیجی خطے میں ایئر ٹو ایئر ری فیولر جہاز بھی تعینات کیے ہیں جس کا مطلب ہے کہ وہ خطے میں اپنی فوجی طاقت بڑھا رہا ہے۔

خالد چشتی نے کہاکہ دوسری طرف اس جنگ بندی کو ختم کرانے کے لیے اسرائیل پوری طرح سے کوشش کررہا ہے۔ وہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف حملے کررہا ہے اور سمجھتا ہے کہ اگر ایران لبنان میں حزب اللہ کی مدد کو آیا تو امریکا ضرور اس کی مدد کو پہنچے گا۔ پائیدار امن کے لیے صدر ٹرمپ کو اسرائیل کو ایسی یقین دہانی کروانی پڑے گی کہ اب وہ اس کی مدد کو نہیں آئےگا۔

’پاسداران انقلاب مذاکرات میں اپنی برتری قائم رکھنا چاہتے ہیں‘

انہوں نے کہاکہ امریکا اور اسرائیل کے خلاف کامیاب جنگ پاسدارانِ انقلاب نے لڑی اور اس کو برقرار بھی رکھا اور پھر اس کے بعد انہیں آبنائے ہرمز کی شکل میں ایک لیوریج مل گئی جس کے ذریعے انہیں لگا کہ وہ اپنی رِٹ قائم کر سکتے ہیں۔

خالد چشتی نے کہاکہ پاسداران انقلاب نے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سے پہلے جس طرح کہا تھا کہ وہ جنگ کو علاقائی بنا دیں گے تو وہ بنا دیا اور امریکا اور اسرائیل کے فوجی اور سیاسی اہداف میں دراڑیں ڈال دیں۔

’سیاسی قیادت اپنی جگہ لیکن چونکہ فوجی محاذ پر زیادہ تر پاسدارانِ انقلاب لڑے ہیں تو انہیں اپنی اِس نئی حاصل شدہ برتری کا احساس ہے اس لیے وہ فیصلہ سازی میں کردار چاہتے ہیں۔‘

کیا پاسدارانِ انقلاب جنگ کو بڑھا رہے ہیں؟

اس سوال کے جواب میں کموڈور خالد چشتی نے کہاکہ پاسدارانِ انقلاب یہ سمجھتے ہیں کہ جتنی سختی سے وہ آبنائے ہرمز کو کنٹرول کر لیں گے اس سے مذاکرات کے دوران ان کی پوزیشن زیادہ سے زیادہ مضبوط ہو جائےگی۔

انہوں نے کہاکہ اس حکمت عملی کے ساتھ بہت سے خطرات جڑے ہوئے ہیں، امریکا اب بھی سپر پاور ہے، اس کے پاس اس وقت بھی ساڑھے 6 ہزار بمبار جہاز ہیں، اس کے پاس 11 ایئرکرافٹ کیریئر ہیں جس میں ایک پر 70 سے 75 فائٹر ایئر کرافٹ ہوتے ہیں تو طاقتور اب بھی امریکا ہی ہے۔ اس وقت خلیجی ممالک میں 50 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔

خالد چشتی نے کہاکہ جنگ کے دوران یہ امن کا لمحہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے لیے خود کُشی ہے کیونکہ امن ہوگیا تو نیتن یاہو کے پاس اپنے لوگوں کو بتانے کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔

انہوں نے کہاکہ جب بھی کسی جنگ میں آپ کو اہداف حاصل ہو جاتے ہیں تو اس کے بعد امن کی صورتحال میں واپس لوٹنے کے لیے آپ کو بہت احتیاط کے ساتھ منصوبہ بندی کرنا ہوتی ہے۔ اس جنگ میں ایران کو لیوریج ملا ہے اور امریکا کا وہ اثر و رسوخ نہیں رہا جو جنگ سے پہلے تھا۔

’پاسداران انقلاب یہ سمجھتے ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز کو جتنی سختی سے کنٹرول کریں گے اُس کے بعد مفاہمتی یادداشت جب بھی کسی معاہدے میں تبدیل ہوگی تو ان کو اس میں زیادہ سے زیادہ لیوریج ملے گی۔ لیوریج کا مطلب ہے کہ ان کے منجمند اثاثے، تیل فروخت کرنے کی اجازت، اقتصادی پابندیوں کا ہٹ جانا شامل ہے۔‘

انہوں نے کہاکہ ایران کی فوجی مزاحمت کی قوت ختم ہونے کے قریب ہے، اس لیے ایران کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

خالد چشتی نے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکا نے ایران کی فوجی طاقت کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اب وہ فوجی مزاحمت کے لحاظ سے خاتمے کی دہلیز پر کھڑے ہیں، ایرانی فوجی تنصیبات پر 20 ہزار حملے ہوئے ہیں اور ایران نے ایک بڑی قیمت ادا کی ہے لیکن امریکا نے ایرانی قیادت کو جو مارنے کی غلطی کی اس کے نتیجے میں اب یہ بدلے کی جنگ بن چُکی ہے۔

’لیکن ایران کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ نیتن یاہو ہمیشہ صدر ٹرمپ کو جنگ پر اکسانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، لیکن ابھی تک صدر ٹرمپ اس معاملے میں دوبارہ پڑنے سے اجتناب بھی کررہے ہیں۔‘

انہوں نے کہاکہ پاکستان دشمن قوتیں پاکستان کی بڑھی ہوئی اہمیت ختم کرنا چاہتی ہیں، اس لیے پاکستان کو اندرونی مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے۔

خالد چشتی نے کہاکہ پاکستان کی بڑھی ہوئی اہمیت ہمارے دشمن ممالک خصوصاً بھارت اور اسرائیل کو ہضم نہیں ہو رہی۔ اور جس طرح سے وہ ہمیں ایک دہشتگرد ریاست بنا کر پیش کرنا چاہتے تھے، ہم اس کے بالکل برعکس ایک امن قائم کرنے والی ریاست کے طور پر اُبھرے ہیں، لیکن ہمیں بھی اپنا گھر ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: یورپی یونین کی امریکا ایران معاہدے کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف

انہوں نے کہاکہ جن چیزوں سے دشمن فائدہ اٹھاتا ہے ان چیزوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں محروم علاقوں کی محرومیاں دور کرنے کی ضرورت ہے۔

کیا بھارت ایک بار پھر فوجی کشیدگی کی طرف جا سکتا ہے؟

اس سوال کے جواب میں ایئرکموڈور خالد چشتی نے کہاکہ پچھلے ایک سال کے اندر بھارت نے اپنے دفاعی سازو سامان کے اندر کوئی ایسی نئی چیز کا اضافہ نہیں کیا جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ وہ حملہ کرنے کی نیت رکھتے ہیں لیکن اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو ہمارے لیے بھی تو جواب دینے پر کوئی ممانعت نہیں، اور بھارت نے جو نیونارمل سیٹ کرنے کی کوشش کی تھی ہم نے کامیابی سے اسے ناکام بنا دیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

پاکستان اور بنگلہ دیش کا خواتین کو بااختیار بنانے اور دوطرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق

شہد کی مکھیوں کے چھتے سے متاثر جدید سولر پینل ڈیزائن تیار، بجلی کی پیداوار میں اضافے کا دعویٰ

پولیس تحقیقات کے بعد فیفا ورلڈ کپ سے نکالے گئے ریفری روب ڈیپرنک چل بسے

پاکستان کی سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت، مکمل حمایت کا اعادہ

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم