چین کی معیشت نے رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں گزشتہ 3 برس کی سست ترین شرح نمو ریکارڈ کی، جس سے ملک کو درپیش معاشی چیلنجز مزید نمایاں ہو گئے ہیں۔
چین کے قومی ادارہ برائے شماریات کے مطابق اپریل سے جون کے دوران ملکی معیشت میں سالانہ بنیاد پر 4.3 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ پہلی سہ ماہی میں یہ شرح 5 فیصد تھی۔
دوسری سہ ماہی کی کارکردگی نہ صرف پہلی سہ ماہی سے کم رہی بلکہ ماہرینِ معاشیات کی توقعات پر بھی پوری نہ اتر سکی۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کی 2 سب سے بڑی معیشتیں چین اور امریکا مقابلہ نہیں شراکت داری کو ترجیح دیں، چینی صدر شی جن پنگ
اگرچہ چین کی فیکٹریاں مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، بیٹریوں اور الیکٹرک گاڑیوں کی عالمی طلب پوری کرنے میں مصروف ہیں اور برآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم اندرونِ ملک عوام معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔
طویل عرصے سے جاری ریئل اسٹیٹ کے بحران نے تعمیراتی شعبے کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے باعث معاشی ترقی کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔
فیکٹریوں سے باہر روزگار کے مواقع محدود ہیں، تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ صارفین کی خریداری بھی کمزور پڑ چکی ہے۔
BREAKING: China’s economy slowed in the second quarter of this year, expanding at a 4.3% annualized pace, the government says. https://t.co/q64nGkz3qZ
— The Associated Press (@AP) July 15, 2026
اعداد و شمار کے مطابق جون میں چین کی برآمدات گزشتہ سال کے مقابلے میں 27 فیصد بڑھ گئیں، جن میں چپس، بیٹریاں اور گاڑیاں نمایاں رہیں۔
اسی دوران جون میں چین کا تجارتی سرپلس 125 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا، جو ملکی تاریخ کے بڑے تجارتی سرپلسز میں شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ برآمدات کی غیر معمولی کارکردگی معیشت کی اندرونی کمزوریوں کو وقتی طور پر چھپا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک چین دوستی کے 75 سال مکمل، سی پیک تعاون سے معیشت اور ترقی کے نئے در وا
یو بی ایس سیکیورٹیز کے چیف چائنا اکنامسٹ یو سونگ کے مطابق مصنوعی ذہانت سے متعلق عالمی طلب نے چین کی معیشت کو سہارا دیا ہے، بصورت دیگر معاشی صورتحال کہیں زیادہ خراب ہو سکتی تھی۔
سہ ماہی بنیاد پر دیکھا جائے تو دوسری سہ ماہی میں چینی معیشت میں صرف 0.9 فیصد اضافہ ہوا، جو سالانہ بنیاد پر تقریباً 3.6 فیصد کی رفتار بنتی ہے، جبکہ پہلی سہ ماہی میں یہ رفتار 6 فیصد سے زیادہ تھی۔
رواں سال کی پہلی ششماہی میں صنعتی پیداوار 5.4 فیصد بڑھی جبکہ ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ میں 13 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اس کے برعکس، فکسڈ اثاثہ جاتی سرمایہ کاری میں 5.7 فیصد کمی اور ریئل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ میں 18 فیصد کی نمایاں گراوٹ دیکھی گئی۔
اگرچہ سال کے پہلے 6 ماہ میں برآمدات کی مجموعی مالیت میں 20 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، تاہم صارفین کے اخراجات کمزور رہے۔
اسی عرصے کے دوران ریٹیل فروخت میں صرف 1.3 فیصد اضافہ ہوا، جسے ماہرین معیشت کی سب سے کمزور کڑی قرار دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: چین کا نیا 5 سالہ منصوبہ: معیشت اور ٹیکنالوجی کے سنگم پر اہم فیصلے متوقع
ایران جنگ کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے بھی چینی خاندانوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔
اگرچہ حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں کو کسی حد تک قابو میں رکھا، تاہم ایک سال پہلے کے مقابلے میں ایندھن کی قیمتیں 2 ہندسوں میں بڑھ چکی ہیں، جس کے باعث عوام نے سفر اور دیگر اخراجات میں کمی کر دی ہے۔
دوسری جانب مثبت پہلو یہ سامنے آیا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث 3 سال سے زائد عرصے سے جاری افراطِ زر میں کمی کا رجحان ختم ہونا شروع ہوا اور دوسری سہ ماہی میں مجموعی قیمتوں کا اشاریہ دوبارہ مثبت ہو گیا۔
China posts slowest GDP growth since 2022 at 4.3% in second quarter, missing forecast https://t.co/IwYFnv4jSx
— The Straits Times (@straits_times) July 15, 2026
چینی وزیراعظم لی چیانگ نے اس ہفتے کاروباری شخصیات سے ملاقات میں کہا کہ حکومت صارفین کے اخراجات بڑھانے، نئی معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور روزگار کے استحکام پر توجہ دے رہی ہے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ رواں ماہ اعلیٰ سطحی پالیسی اجلاس میں معیشت کے لیے مزید مالیاتی اور معاشی محرکات کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔
حکومت نے 2030 تک سالانہ ریٹیل فروخت کو 8.85 ٹریلین ڈالر تک پہنچانے، اجرتوں میں اضافے اور گھریلو کھپت کو قومی معیشت میں زیادہ حصہ دینے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔
مزید پڑھیں: غیرمعمولی کامیابیوں کی بدولت چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت بن گیا
تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اہداف زیادہ پرجوش نہیں اور چینی صارفین اب بھی خرچ کرنے کے بجائے بچت کو ترجیح دے رہے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق ریئل اسٹیٹ بحران کے نتیجے میں ایک کروڑ 40 لاکھ سے زائد تعمیراتی کارکن روزگار سے محروم ہو چکے ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت اور ہائی ٹیک صنعتوں کی ترقی کا فائدہ محدود طبقے تک پہنچ رہا ہے۔
ان کے بقول اگر عوام کی قابلِ استعمال آمدنی کی شرح معاشی ترقی سے کم رہی تو اس کا مطلب ہوگا کہ قومی آمدنی کا بڑا حصہ عوام کے بجائے حکومت اور کمپنیوں کے پاس جا رہا ہے، جس سے معاشرتی اور معاشی عدم توازن مزید بڑھ سکتا ہے۔












