روس یوکرین جنگ کے بعد اپنی افواج کو ازسرِ نو منظم کرنے والے یورپی ممالک نے اب اپنی تمام تر سرمایہ کاری ’ڈرون ٹیکنالوجی ‘ پر مرکوز کر دی ہے جسے براعظم کے مستقبل کے دفاع کی کلید سمجھا جا رہا ہے۔ حالیہ چند ہفتوں میں دفاعی پالیسیوں میں آنے والی یہ تیز رفتار تبدیلی واضح کرتی ہے کہ ڈرونز اب محض روایتی ہتھیار نہیں بلکہ جدید جنگ کا اعصابی نظام بن چکے ہیں۔
جنگی میدان کا نیا نقشہ، سستے ڈرونز بمقابلہ مہنگے ہتھیار
یوکرین کی جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے کم لاگت ’شاہد‘ ڈرونز کے استعمال نے دنیا کو یہ باور کرا دیا ہے کہ اب جنگیں صرف بھاری اور مہنگے ٹینکوں سے نہیں جیتی جا سکتیں۔
یہ بھی پڑھیں:روس کا یوکرین پر میزائلوں اور ڈرونز سے بڑا حملہ، 20 افراد ہلاک، درجنوں زخمی
عسکری ماہرین کے مطابق، مستقبل کا میدانِ جنگ تہوں پر مشتمل ہوگا جہاں ایک ٹینک نہ صرف گولے برسائے گا بلکہ خود کار ڈرونز بھی لانچ کرے گا، جو مصنوعی ذہانت اور سیٹلائٹ سے لائیو ڈیٹا حاصل کر کے باہم مربوط نیٹ ورک کے تحت دشمن پر وار کریں گے۔
نیٹو اور برطانیہ کی جانب سے ‘میگا فنڈز’ کا اعلان
اس نئی جنگی حقیقت کو بھانپتے ہوئے نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک رٹ نے اتحاد کو ’ڈرون ریڈی‘ (ڈرون ٹیکنالوجی کے لیے تیار) بنانے کا اعلان کیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت اتحادی ممالک اگلے 5 برسوں میں اینٹی ڈرون (ڈرون شکن) صلاحیتوں پر 40 ارب ڈالر سے زیادہ کی خطیر رقم سرمایہ کاری کریں گے۔
دوسری جانب برطانیہ نے اپنے نئے دفاعی پلان کے تحت فوج کو جدید ترین بنانے کے لیے ’یو کے ڈرون ٹرانسفارمیشن‘ پروگرام پر 5 ارب پاؤنڈز (تقریباً 6.7 ارب ڈالر) خرچ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
جرمنی کا یوکرین کے لیے 50 ہزار ’سمارٹ ڈرونز‘ کا بڑا آرڈر
ٹیکنالوجی کے اس میدان میں جرمنی نے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے یوکرین کے لیے 50,000 ایسے جدید ڈرونز کا آرڈر دیا ہے جو جدید آپریٹنگ سسٹم سے لیس ہیں۔
مزید پڑھیں:روسی ہتھیار ساز کمپنی نے بڑا سنگ میل عبور کرلیا، جدید ٹیکنالوجی سے لیس نیا خود کش ڈرون متعارف
ان ڈرونز کی خاص بات ان کا سافٹ ویئر ہے جو دشمن کے سگنل جیمرز کو ناکارہ بناتے ہوئے ہدف کو درست نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ڈرونز ریڈیو سگنل ختم ہونے کے باوجود خودکار طریقے سے وادیوں اور گہرائی میں جا کر بھی ہدف کو تباہ کر سکتے ہیں۔
سافٹ ویئر اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا نیا عروج
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈرونز کی مانگ بڑھنے سے صرف ڈرون بنانے والی کمپنیوں کو ہی فائدہ نہیں ہو رہا، بلکہ سیکیور کمیونیکیشن، الیکٹرانک وارفیئر، سنسرز اور خلائی ٹیکنالوجی سے وابستہ سافٹ ویئر کمپنیوں کے لیے بھی ترقی کی نئی راہیں کھل گئی ہیں۔
یورپی ممالک کا بنیادی دفاعی بجٹ 2019 کے مقابلے میں دگنا ہو چکا ہے اور اندازہ ہے کہ 2030 تک یہ 800 ارب یورو تک پہنچ جائے گا، جس کا ایک بڑا حصہ اسی خودکار فضائی دفاعی ٹیکنالوجی کی نذر ہوگا۔














