دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید گرمی کی لہریں پہلے سے زیادہ عام ہوتی جا رہی ہیں ایسے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب لباس کا انتخاب نہ صرف جسم کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد دیتا ہے بلکہ ایئر کنڈیشنر کے استعمال میں بھی کمی لا سکتا ہے جس سے بجلی کی بچت اور ماحول پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شدید گرمی میں عام پنکھا بھی ایئرکنڈیشنر جیسی ٹھنڈک دے سکتا ہے، بس یہ طریقے اپنالیں
تحقیق کے مطابق درست لباس پہننے سے ایئر کنڈیشنر کا درجہ حرارت تقریباً 2 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھایا جا سکتا ہے جس سے توانائی کی بچت ممکن ہوتی ہے۔
سفید یا سیاہ، کون سا رنگ بہتر؟
عام طور پر گرمیوں میں سفید لباس پہننے کا مشورہ دیا جاتا ہے کیونکہ سفید رنگ سورج کی شعاعوں کو جذب کرنے کے بجائے واپس منعکس کرتا ہے جبکہ سیاہ رنگ زیادہ حرارت جذب کرتا ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف رنگ ہی اہم نہیں بلکہ لباس کی ساخت اور ڈھیلا یا تنگ ہونا بھی اتنا ہی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
مزید پڑھیے: 123 سال پرانا ایئر کنڈیشننگ سسٹم آج کی شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے کیا سبق دیتا ہے؟
سنہ1980 میں ہونے والی ایک تحقیق میں صحرائی علاقوں میں رہنے والے بدوؤں کے سیاہ لباس پہننے کی وجہ جاننے کی کوشش کی گئی۔ تحقیق میں معلوم ہوا کہ ڈھیلا سیاہ لباس جسم تک اضافی حرارت پہنچنے نہیں دیتا کیونکہ وہ جسم سے خارج ہونے والی گرمی کو جذب کرکے اوپر کی طرف خارج کر دیتا ہے خاص طور پر اگر ہوا چل رہی ہو۔
ماہرین کے مطابق اگر لباس جسم سے چپکا ہوا ہو تو سفید رنگ بہتر انتخاب ہے لیکن اگر لباس ڈھیلا ہو تو سیاہ رنگ بھی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈھیلا لباس زیادہ فائدہ مند
ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی میں لباس کا ڈھیلا ہونا اس کے رنگ سے زیادہ اہم ہے۔ ڈھیلا لباس جسم اور کپڑے کے درمیان ہوا کی گردش برقرار رکھتا ہے جس سے جسم کو ٹھنڈک ملتی ہے۔
اسی طرح سیئرسکر یا پیکے جیسے بناوٹ والے کپڑے بھی جلد سے چپکتے نہیں جس سے گرمی کم محسوس ہوتی ہے۔
کون سا کپڑا زیادہ ٹھنڈک دیتا ہے؟
فیشن ماہرین کے مطابق ہلکے اور سانس لینے والے کپڑے گرمی کے موسم میں زیادہ موزوں ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں: شدید گرمی میں کیا کھانا اور پینا چاہیے؟ ماہرین نے ہیٹ ویو کے دوران بہترین خوراک بتا دی
سوتی (کاٹن) کپڑا آرام دہ ضرور ہے لیکن زیادہ پسینہ جذب کرنے کے بعد دیر سے خشک ہوتا ہے۔
لینن (کتانی کپڑا) بہترین ہوا گزاری رکھتا ہے مگر خشک ہونے میں وقت لیتا ہے۔
میرینو اون نمی جذب کرکے بدبو کم پیدا کرتی ہے اسی لیے آؤٹ ڈور سرگرمیوں میں مقبول ہے۔
نائیلون اور پولیسٹر نمی کو جلدی جسم سے دور منتقل کرتے ہیں اور تیزی سے خشک ہوتے ہیں اسی لیے اسپورٹس لباس میں استعمال کیے جاتے ہیں اگرچہ ان میں بدبو برقرار رہنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: شدید گرمی خواتین کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ کیوں متاثر کرتی ہے؟
بعض تحقیقات میں بانس سے تیار کردہ کپڑوں کو بھی مؤثر قرار دیا گیا ہے کیونکہ وہ گرمی کم منتقل کرتے ہیں اور آرام دہ محسوس ہوتے ہیں۔
خشک گرمی اور مرطوب موسم میں فرق
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موسم خشک ہو تو نمی جذب کرنے والے کپڑے کافی حد تک مؤثر ہوتے ہیں کیونکہ پسینہ آسانی سے بخارات بن کر اڑ جاتا ہے۔
لیکن مرطوب یا حبس والے موسم میں ایسے کپڑے زیادہ اہم ہیں جو ہوا اور پانی کے بخارات کو آسانی سے گزرنے دیں تاکہ جسم کی قدرتی ٹھنڈک برقرار رہے۔
کم کپڑے، زیادہ ٹھنڈک
برطانیہ کی لافبرو یونیورسٹی کے ماہر ماحولیات اور فزیالوجی پروفیسر جارج ہیونتھ کے مطابق اگر حالات اجازت دیں تو کم لباس پہننا جسم کو ٹھنڈا رکھنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے کیونکہ اس سے پسینہ آسانی سے بخارات بن کر جسم کا درجہ حرارت کم کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: شدید گرمی میں گھر اور خود کو ٹھنڈا رکھنے کے 6 مؤثر طریقے
البتہ دھوپ میں جلد کو الٹرا وائلٹ شعاعوں سے محفوظ رکھنا بھی ضروری ہے۔
جدید ٹیکنالوجی والے کپڑے
دنیا کی بڑی اسپورٹس کمپنیاں اور سائنس دان ایسے جدید کپڑوں پر کام کر رہے ہیں جو گرمی کے مطابق اپنی ساخت تبدیل کر سکیں۔
مزید پڑھیے: ہیٹ ویوز کے دوران پالتو جانوروں کو موسمی اثرات سے کیسے بچایا جائے؟
تحقیقی اداروں نے ایسے مصنوعی ریشے بھی تیار کیے ہیں جو درجہ حرارت بڑھنے پر زیادہ ہوا گزار ہو جاتے ہیں جس سے جسم کی حرارت باہر نکلتی رہتی ہے۔ بعض نئے کپڑوں میں ایسے خاص مواد بھی شامل کیے جا رہے ہیں جو اضافی حرارت جذب کرکے جسم کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
گیلا لباس بھی مؤثر
ماہرین کے مطابق اگر شدید گرمی میں کپڑے ہلکے سے گیلے کر لیے جائیں تو پانی کے بخارات بننے کے عمل کے دوران جسم کی حرارت استعمال ہوتی ہے جس سے جلد ٹھنڈی ہوتی ہے اور جسم کا درجہ حرارت کم رہتا ہے۔
ماہرین کا مشورہ
ماہرین کے مطابق شدید گرمی میں سفید یا ہلکے رنگ، ڈھیلے اور ہوا گزار کپڑے بہترین انتخاب ہیں تاہم لباس کا ڈھیلا ہونا اور مناسب کپڑے کا انتخاب رنگ سے زیادہ اہم ہے۔ اگر ممکن ہو تو ہلکا گیلا رومال یا اسکارف گردن یا سر پر رکھنا بھی جسم کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد دے سکتا ہے جبکہ مناسب لباس کے ذریعے ایئر کنڈیشنر پر انحصار بھی کم کیا جا سکتا ہے۔












