شدید گرمی میں عام پنکھا بھی ایئرکنڈیشنر جیسی ٹھنڈک دے سکتا ہے، بس یہ طریقے اپنالیں

جمعہ 10 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شدید گرمی کی لہر کے دوران اگر گھر میں ائیر کنڈیشنر موجود نہ ہو تو ایک عام الیکٹرک پنکھا بھی آپ کو کافی حد تک ٹھنڈک پہنچا سکتا ہے بشرطیکہ اسے درست طریقے سے استعمال کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: شدید گرمی میں کیا کھانا اور پینا چاہیے؟ ماہرین نے ہیٹ ویو کے دوران بہترین خوراک بتا دی

ماہرین کا کہنا ہے کہ پنکھے کی جگہ، کھڑکیوں کا استعمال اور جسم کی سمت میں ہوا کا بہاؤ جیسے عوامل اس کی کارکردگی پر نمایاں اثر ڈالتے ہیں۔

حالیہ ہیٹ ویو کے دوران سوشل میڈیا پر پنکھے کو مؤثر بنانے کے متعدد مشورے گردش کرتے رہے تاہم ان میں سے کئی ایک دوسرے سے متضاد تھے۔ اسی لیے ماہرین نے وضاحت کی ہے کہ کون سے طریقے واقعی فائدہ مند ہیں اور کن سے گریز کرنا چاہیے۔

دن میں کھڑکیاں بند رکھیں، رات کو کھولیں

انجینیئرنگ کمپنی آرپ میں عمارتوں کی فزکس کی ماہر بیکی ٹیلر کے مطابق گرمی کے دنوں میں گھر کے اندر کی ٹھنڈک برقرار رکھنے کے لیے دن کے وقت کھڑکیاں بند رکھنی چاہییں کیونکہ باہر کا درجہ حرارت عموماً زیادہ ہوتا ہے۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ جن کمروں پر براہ راست دھوپ پڑتی ہو وہاں پردے یا بلائنڈز بند رکھیں تاکہ اندر کا ماحول کم گرم ہو۔ ان کے مطابق اگر کمرے کی ہوا آپ کی جلد کے درجہ حرارت سے کم ہو تو جسم کو پسینہ آئے بغیر بھی ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے۔

مزید پڑھیے: شدید گرمی خواتین کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ کیوں متاثر کرتی ہے؟

رات کے وقت جب باہر کی ہوا نسبتاً ٹھنڈی ہو کھڑکی کھول کر پنکھا اس طرح رکھیں کہ وہ باہر کی ٹھنڈی ہوا کو کمرے کے اندر کی طرف دھکیلے۔ سوشل میڈیا پر یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ پنکھا کھڑکی کی طرف رکھ کر گرم ہوا باہر نکالی جائے تاہم اس حوالے سے ماہرین کہتے ہیں کہ ایسا کرنے سے مطلوبہ ٹھنڈک حاصل نہیں ہوتی۔

بڑے اور چھوٹے پنکھے میں فرق

بیکی ٹیلر کے مطابق اگر آپ کے پاس بڑا یا طاقتور پنکھا ہے تو اسے گھر کے نسبتاً ٹھنڈے کمرے میں رکھ کر اس کی ہوا دوسرے حصوں کی طرف بھیجی جا سکتی ہے۔

تاہم اگر پنکھا چھوٹا ہے تو اس کی جگہ سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وہ آپ کے قریب ہو تاکہ ہوا براہ راست آپ تک پہنچ سکے۔

پنکھے کی ہوا چہرے پر نہیں پورے جسم پر رکھیں

یونیورسٹی آف پورٹس ماؤتھ کے انسانی فزیالوجی کے ماہر پروفیسر مائیک ٹپٹن کے مطابق صرف چہرے پر پنکھے کی ہوا لگانے سے وقتی طور پر ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے لیکن جسم کا درجہ حرارت اتنا مؤثر طریقے سے کم نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیں: ہیٹ ویوز کے دوران پالتو جانوروں کو موسمی اثرات سے کیسے بچایا جائے؟

انہوں نے کہا کہ پنکھے کو اس فاصلے پر رکھا جائے جہاں اس کی ہوا پورے جسم تک پہنچے۔ اس سے جسم پر آنے والا پسینہ زیادہ مؤثر طریقے سے بخارات بن کر جسم کو ٹھنڈا کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر اس طریقے کو دیگر احتیاطی تدابیر مثلاً ہاتھ ٹھنڈے رکھنے اور نیم گرم پانی سے نہانے کے ساتھ اپنایا جائے تو گرمی کے اثرات مزید کم کیے جا سکتے ہیں۔

البتہ بچوں پر پنکھے کی تیز ہوا براہِ راست نہیں ڈالنی چاہیے کیونکہ اس سے جسم میں پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔

بچوں کے لیے بہتر ہے کہ پنکھا صرف کمرے میں ہوا کی گردش کے لیے استعمال کیا جائے۔

برف یا ٹھنڈے پانی کا برتن پنکھے کے سامنے رکھیں

ماہرین کے مطابق پنکھے کے سامنے برف یا ٹھنڈے پانی سے بھرا برتن رکھنے سے بخارات بننے کے عمل کے ذریعے ہوا نسبتاً ٹھنڈی محسوس ہو سکتی ہے۔

بیکی ٹیلر کے مطابق کچھ پنکھے پانی کی ہلکی پھوار (مِسٹِنگ) کی سہولت کے ساتھ بھی آتے ہیں تاہم اگر نمی بہت زیادہ ہو جائے تو جسم کا قدرتی ٹھنڈا ہونے کا نظام متاثر ہوتا ہے کیونکہ پسینہ مناسب طریقے سے خشک نہیں ہو پاتا۔

یہ بھی پڑھیے: شدید گرمی میں گھر اور خود کو ٹھنڈا رکھنے کے 6 مؤثر طریقے

ان کا کہنا ہے کہ زیادہ بڑے مِسٹِنگ پنکھے کمرے کو غیر ضروری طور پر مرطوب بنا سکتے ہیں اس لیے چھوٹے ماڈلز زیادہ موزوں رہتے ہیں۔

گیلا تولیہ پنکھے پر نہ ڈالیں

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بعض سوشل میڈیا ویڈیوز میں دکھائے جانے والے طریقے جیسے پنکھے پر گیلا یا جما ہوا تولیہ ڈال دینا خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ اس سے بجلی کا حادثہ پیش آنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

35 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت پر احتیاط

ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا اندرونی درجہ حرارت تقریباً 37 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ جلد کا درجہ حرارت تقریباً 34 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔ اگر کمرے کا درجہ حرارت اس سے کم ہو تو پنکھا جسم سے حرارت خارج کرنے میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے لیکن جب درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر چلا جائے تو پنکھا اگرچہ پسینہ خشک کرنے میں مدد دیتا ہے، مگر ساتھ ہی گرم ہوا بھی جسم تک پہنچاتا ہے۔

اسی وجہ سے برطانوی حکومتی ہدایات میں مشورہ دیا گیا ہے کہ اگر کمرے کے اندر درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جائے تو صرف پنکھے پر انحصار نہ کیا جائے۔

موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی گرمی

برطانیہ کے محکمہ موسمیات کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث مستقبل میں شدید گرمی کی لہروں اور 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں ہیٹ ویو کے باعث درجہ حرارت 55 ڈگری تک جا سکتا ہے، پی ڈی ایم اے نے کیا اقدامات کیے؟

بیکی ٹیلر کا کہنا ہے کہ اگر لوگ یہ سمجھ جائیں کہ انسانی جسم گرمی میں خود کو کس طرح ٹھنڈا رکھتا ہے تو وہ شدید موسم میں زیادہ مؤثر انداز میں اپنی حفاظت کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خیبرپختونخوا حکومت کا اراکین اسمبلی کے لیے متنازع مراعات واپس لینے کا اعلان، ’ایک ہفتے میں تمام ترامیم واپس لیں گے‘

چین نے پاکستانی مکئی کی درآمدات کے لیے اپنی منڈی کھول دی، ملک میں قیمت کنڑول رکھنے کے لیے کیا ضروری ہے؟

آئی فون کے نئے نظام میں بچوں کے تحفظ کے لیے بڑے اقدامات، والدین کو مزید اختیارات مل جائیں گے

آئرلینڈ اور انگلینڈ سے شکست: بھارتی ٹی 20 ٹیم کی مسلسل ناکامیوں کی اصل وجہ کیا ہے؟

حکومت پاکستانی فلموں اور ڈراموں کو نیٹ فلکس پر جگہ دلانے کے لیے سرگرم

ویڈیو

وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ، کون سے نئے چہرے شامل ہونے جا رہے ہیں؟

سولر پینلز کی قیمتوں میں کمی، کیا صارفین کو واقعی ریلیف ملا ؟

آزاد کشمیر میں ن لیگ حکومت بنانے جارہی ہے، وزیراعظم کا فیصلہ نواز شریف کریں گے، محمد حنیف ملک

کالم / تجزیہ

برداشت کی بھی حد ہوتی ہے

میسی کے گول سے 45 برس بعد کھلنے والا سفارتخانہ

اونٹ کے جسم پر گل کاری کا آرٹ