دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید گرمی کی لہروں (ہیٹ ویوز) کی شدت اور تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے لیکن طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شدید گرمی مردوں کے مقابلے میں خواتین پر زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شدید گرمی میں گھر اور خود کو ٹھنڈا رکھنے کے 6 مؤثر طریقے
اس کی وجہ صرف جسمانی ساخت نہیں بلکہ ہارمونز، عمر، حمل، خواتین کے مخصوص ایام، مینوپاز اور سماجی حالات بھی ہیں جو خواتین کو گرمی کے مضر اثرات کے لیے زیادہ حساس بنا دیتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق شدید گرمی کے دوران خواتین میں چکر آنا، شدید تھکن، بے چینی، غصہ، جسم میں سوجن، بے خوابی، کمزوری اور توجہ مرکوز کرنے میں دشواری جیسی علامات زیادہ دیکھی جاتی ہیں۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) سے وابستہ خواتین کی صحت کی ماہر ڈاکٹر نگہت عارف کے مطابق ہیٹ ویو دراصل خواتین کے قلبی نظام (کارڈیو ویسکولر سسٹم) کے لیے ایک ’اسٹریس ٹیسٹ‘ کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ جسم کو خود کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے معمول سے کہیں زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔
خواتین گرمی زیادہ کیوں محسوس کرتی ہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کے جسم میں مردوں کے مقابلے میں کئی قدرتی فرق موجود ہیں۔
مزید پڑھیے: بالوں کو کتنی بار برش کرنا چاہیے؟ ماہرین نے عام غلط فہمی دور کر دی
تحقیقی مطالعات کے مطابق خواتین نسبتاً کم پسینہ خارج کرتی ہیں اور ان میں پسینہ بھی زیادہ درجہ حرارت پر آنا شروع ہوتا ہے جس کی وجہ سے جسم اضافی حرارت کو جلد خارج نہیں کر پاتا۔
اس کے علاوہ خواتین کے جسم کا اندرونی درجہ حرارت اور جسمانی چربی (باڈی فیٹ) کا تناسب بھی عموماً مردوں سے زیادہ ہوتا ہے۔ یہ چربی ایک اضافی حفاظتی تہہ کی طرح حرارت کو جسم میں زیادہ دیر تک برقرار رکھتی ہے جس سے گرمی کا اثر مزید بڑھ جاتا ہے۔
ڈاکٹر نگہت عارف کے مطابق جسم کے درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے والا نظام خواتین میں ہارمونز کی تبدیلی سے بھی متاثر ہوتا ہے۔ ایسٹروجن اور پروجیسٹرون کی سطح ماہواری، حمل، دودھ پلانے، پری مینوپاز اور مینوپاز کے دوران مسلسل بدلتی رہتی ہے، جس کی وجہ سے جسم کے لیے خود کو ٹھنڈا رکھنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
مخصوص ایام کے دوران مشکلات بڑھ سکتی ہیں
ماہرین کے مطابق خواتین کے مخصوص ایام (ماہواری) کے مختلف مراحل میں ہارمونز کی تبدیلی خواتین کی گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کرتی ہے۔
مزید پڑھیں: حقیقی بلوغت کی عمر کیا ہے، سائنس نے برسوں پرانا تصور چیلنج کر دیا
ماہواری سے پہلے پروجیسٹرون کی سطح بڑھنے سے جسم کا بنیادی درجہ حرارت بلند ہو جاتا ہے جبکہ ماہواری شروع ہونے پر ایسٹروجن کی سطح کم ہونے سے جسم کے درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے والا نظام مزید دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ ماہواری کے دوران خون کے ساتھ جسم سے آئرن بھی خارج ہوتا ہے جس سے بعض خواتین میں خصوصاً اگر ماہواری زیادہ ہو تو تھکن، چکر آنا، نیند کی خرابی اور دماغی دھند (برین فوگ) جیسی علامات شدید گرمی کے دوران مزید بڑھ سکتی ہیں۔
مینوپاز اور ہاٹ فلیشز
ڈاکٹر نگہت عارف کے مطابق پری مینوپاز اور مینوپاز سے گزرنے والی خواتین میں شدید گرمی کے دوران ہاٹ فلیشز (اچانک جسم میں شدید گرمی محسوس ہونا) اور رات کے وقت پسینہ آنے کی شکایات نمایاں طور پر بڑھ سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ماں بننے کا سفر یا ذہنی جنگ؟ حمل کے دوران غذائی امراض کی پوشیدہ حقیقت
تحقیقی مطالعات یہ بھی بتاتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت مستقبل میں مینوپاز سے متعلق ان علامات کو مزید شدید بنا سکتا ہے۔
حمل کے دوران خطرہ کیوں بڑھ جاتا ہے؟
طبی جریدہ دی لینسٹ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق حمل کے دوران خواتین کے جسم میں میٹابولزم، خون کی مقدار اور پانی کی ضرورت بڑھ جاتی ہے جس کی وجہ سے شدید گرمی کے دوران جسم پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔
حمل کے دوران ہارمونز میں تبدیلی اور بچے کا وزن اٹھانے کی وجہ سے دل کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے جبکہ بعض تحقیقات کے مطابق شدید گرمی ماں اور بچے دونوں کے لیے پیچیدگیوں کا خطرہ بھی بڑھا سکتی ہے خصوصاً اگر حمل پہلے ہی زیادہ خطرے والا ہو۔
صرف جسمانی نہیں، سماجی عوامل بھی اہم ہیں
یونیورسٹی کالج لندن (یو سی ایل) کے انسٹیٹیوٹ فار گلوبل ہیلتھ سے وابستہ ماہر ڈاکٹر کیٹ پینہو گومز کے مطابق خواتین کے لیے خطرہ صرف حیاتیاتی وجوہات تک محدود نہیں۔
مزید پڑھیں: کیا ’مخصوص دنوں‘ میں خواتین درد کش دوا کا درست انتخاب کرتی ہیں؟
ان کے مطابق بہت سی خواتین گھریلو ذمہ داریوں، بچوں یا بزرگوں کی دیکھ بھال کی ذمہ دار ہوتی ہیں، جبکہ بعض کم آمدنی والے شعبوں میں بھی کام کرتی ہیں اس لیے شدید گرمی کے دوران اپنے آرام اور صحت کو ترجیح دینا ان کے لیے نسبتاً زیادہ مشکل ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کی اوسط عمر مردوں سے زیادہ ہوتی ہے اس لیے بڑی عمر کی خواتین شدید گرمی سے زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ بڑھاپے میں ڈیمنشیا جیسی بیماریاں پیاس محسوس کرنے کی صلاحیت کم کر دیتی ہیں جبکہ بلڈ پریشر کم کرنے والی بعض ادویات جسم میں پانی کی کمی پیدا کرکے گرمی کے خطرات کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔
ہیٹ ایکزاسشن اور ہیٹ اسٹروک کی علامات
ماہرین کے مطابق اگر شدید گرمی کے دوران چکر آنا، بے حد کمزوری، متلی، قے، پٹھوں میں کھنچاؤ، ٹھنڈی اور نم جلد یا بے ہوشی جیسی علامات ظاہر ہوں تو یہ ہیٹ ایکزاسشن کی علامت ہو سکتی ہیں۔
مزید پڑھیے: اینڈومیٹریوسس: خواتین کی تکلیف دہ بیماری کی اب تشخیص جلد ممکن
اگر جسم کا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جائے، پسینہ آنا بند ہو جائے، جلد گرم اور خشک محسوس ہو، ذہنی الجھن، بے ہوشی یا دورے پڑنے لگیں تو یہ ہیٹ اسٹروک کی خطرناک کیفیت ہے جس میں فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔
ماہرین کی احتیاطی ہدایات
ڈاکٹر نگہت عارف نے مشورہ دیا ہے کہ شدید گرمی کے دوران زیادہ سے زیادہ پانی اور دیگر سیال مشروبات استعمال کیے جائیں، دھوپ میں غیر ضروری نکلنے سے گریز کیا جائے، ورزش صبح سویرے یا شام کے وقت کی جائے، سن اسکرین کا استعمال کیا جائے اور جسم کو مناسب آرام دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: کاسمیٹیکوریکسیا: بچیاں اسکن کیئر کے جنون میں مبتلا، جلد اور ذہنی کیفیت دونوں داؤ پر
انہوں نے خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی ماہواری کے چکر، جسمانی کیفیت اور گرمی سے متعلق علامات پر بھی نظر رکھیں تاکہ بروقت احتیاطی اقدامات کیے جا سکیں۔
ماہرین نے حکومتوں، اداروں اور آجروں پر بھی زور دیا ہے کہ شدید گرمی کے دوران خواتین کی مخصوص جسمانی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے حفاظتی پالیسیاں اور بہتر سہولیات فراہم کی جائیں۔
ڈاکٹر کیٹ پینہو گومز کا کہنا ہے کہ فیصلہ سازی کے اداروں میں خواتین کی زیادہ نمائندگی ضروری ہے تاکہ گرمی سے متعلق پالیسیوں میں خواتین کی ضروریات کو بہتر انداز میں شامل کیا جا سکے۔
مزید پڑھیے: ’بلائنڈ سائیڈ ڈائیورس‘: اس عمل کا بڑھتا رجحان جدید رشتوں کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟
آخر میں ڈاکٹر نگہت عارف نے اس تصور کو مسترد کیا کہ شدید گرمی صرف خواتین کا مسئلہ ہے۔ ان کے بقول یہ صرف خواتین کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ اگر ہم خواتین کے لیے درست حفاظتی اقدامات کریں گے تو اس کا فائدہ سب کو پہنچے گا۔














