بھارتی فلم انڈسٹری کے لیجنڈری اداکار امیتابھ بچن نے فیفا ورلڈ کپ میں شریک نوجوان فٹ بالرز کی شاندار کارکردگی کی دل کھول کر تعریف کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کے نوجوان 17 اور 18 سال کی عمر میں اپنے ملک کی نمائندگی کر رہے ہیں، جو کہ پچھلی نسلوں کے لیے اس عمر میں محض ایک خواب معلوم ہوتا تھا۔
تیز رفتار تبدیلی نئی نسل کے لیے ایک نعمت ہے
امیتابھ بچن نے اپنے بلاگ پر فٹبال کے سب سے بڑے ایونٹ میں ابھرتے ہوئے نئے ٹیلنٹ کے بارے میں لکھا کو ’ ہر ورلڈ کپ میں ایک نیا ٹیلنٹ اور نیا جوش سامنے آتا ہے‘۔
یہ بھی پڑھیں:’لگا جیسے خواب دیکھ رہی ہوں‘، اسٹار فٹبالر ایرلنگ ہالینڈ سے مشابہت رکھنے والی روسی ماڈل کی ویڈیو وائرل
جب ہم 17 یا 18 سال کے ان نوجوانوں کو پورے ملک کی نمائندگی کرتے دیکھتے ہیں، تو ہم ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ ’جب ہم اس عمر کے تھے تو کیا کر رہے تھے؟‘ اور پھر اس بات پر افسوس کرتے ہیں کہ ہم ان جیسے کیوں نہ بن سکے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ وقت بدل چکا ہے اور آج کی نوجوان نسل کو بہتر مواقع میسر ہیں جن سے وہ بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ تبدیلی کی یہ تیز رفتاری نوجوانوں کے لیے ایک بہترین نعمت ہے۔
بزرگ حیران ہیں کہ یہ تبدیلیاں پہلے کیوں نہ آئیں؟
امیتابھ بچن نے اپنے بلاگ میں لکھا کہ بزرگ اکثر ان تبدیلیوں کو دیکھ کر حیران ہوتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ ایسا ان کے دور میں کیوں نہیں ہوا، لیکن اب بہت دیر ہو چکی ہے۔
انہوں نے فلسفیانہ انداز اپناتے ہوئے لکھا کہ ’ہاں، یہ دیکھنے کے لیے دیر ہو چکی ہے کہ آنے والے سالوں میں اور کیا انقلابات آئیں گے۔ شاید ہم اس وقت موجود نہ ہوں، لیکن ہمارے بچے اور آنے والی نسلیں وہاں ہوں گی اور یہ دیکھنا ہی ہمارے لیے ایک تسلی کا باعث ہے‘۔
ورلڈ کپ کے سنسنی خیز مقابلوں نے دن رات کا ہوش بھلا دیا
امیتابھ بچن نے اعتراف کیا کہ ورلڈ کپ کے سنسنی خیز میچز نے ان کے روزمرہ کے معمولات اور وقت کے احساس کو درہم برہم کر کے رکھ دیا ہے۔
انہوں نے روایتی طور پر مضبوط ٹیموں کے ایونٹ سے باہر ہونے اور کمزور سمجھی جانے والی ٹیموں کی شاندار فتوحات پر بے پناہ خوشی کا اظہار کیا۔
مزید پڑھیں:کامیابی کے باوجود امیتابھ بچن پریشان کیوں؟ اداکار کا چونکا دینے والا اعتراف
ان کا کہنا تھا کہ ایسی ٹیموں کو جیتتے دیکھنا سنسنی خیز ہے جن کے بارے میں کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ یہاں تک پہنچیں گی۔
کلب کے اختلافات بھلا کر ایک ہونے کی خوبصورت مثال
بالی ووڈ سٹار نے کھلاڑیوں کی اپنے ملک کے لیے یکجہتی کی تعریف کرتے ہوئے اس کا موازنہ آئی پی ایل سے کیا۔
انہوں نے لکھا کہ ’جس طرح آئی پی ایل میں کھلاڑی مختلف فرنچائزز کی طرف سے کھیلتے ہوئے ایک دوسرے کے حریف بن جاتے ہیں، لیکن جب وہ قومی ٹیم میں اکٹھے ہوتے ہیں تو سب ’ایک‘ ہو جاتے ہیں۔
بالکل اسی طرح فٹبالرز بھی کلب لیول کی رقابتیں بھول کر اپنے ملک کے لیے متحد ہو کر کھیلتے ہیں جو کہ ایک خوبصورت منظر ہے‘۔














