واٹس ایپ آئی فون صارفین کے لیے اپنی پہلی کلاؤڈ بیک اپ سروس تیار کررہی ہے، جس کے ذریعے صارفین چیٹ کا بیک اپ ایپل کے آئی کلاؤڈ کے بجائے واٹس ایپ کے اپنے سرورز پر محفوظ کرسکیں گے۔
ٹیکنالوجی رپورٹس کے مطابق میٹا کی ملکیت رکھنے والی واٹس ایپ نے یہ فیچر آئی فون کے لیے تازہ ترین بیٹا ورژن میں تیار کرنا شروع کیا ہے، تاہم ابھی تک اس کی باضابطہ لانچ تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ پر آن لائن صارفین کی شناخت آسان، ’گرین ڈاٹ‘ فیچر کی آزمائش شروع
اس وقت آئی فون صارفین واٹس ایپ چیٹس، تصاویر، ویڈیوز اور دیگر معلومات کا بیک اپ محفوظ کرنے کے لیے ایپل کے آئی کلاؤڈ پر انحصار کرتے ہیں۔ ایپل کی جانب سے صرف 5 جی بی مفت اسٹوریج فراہم کی جاتی ہے، جس کے باعث زیادہ تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے والے صارفین کو اکثر اسٹوریج کی کمی کا سامنا ہوتا ہے۔
نئی سروس کے تحت صارفین اپنے واٹس ایپ بیک اپ کو براہِ راست واٹس ایپ کے سرورز پر محفوظ کر سکیں گے، جس سے آئی کلاؤڈ کی جگہ دیگر فائلوں اور ایپس کے لیے بچائی جاسکے گی۔
View this post on Instagram
رپورٹس کے مطابق واٹس ایپ ابتدائی طور پر صارفین کو 2 جی بی مفت کلاؤڈ اسٹوریج فراہم کرسکتا ہے۔
نئی بیک اپ سروس کی اہم خصوصیت رازداری کا نظام ہوگا۔ آئی کلاؤڈ کے برعکس، جہاں اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ بیک اپ کو خود فعال کرنا پڑتا ہے، واٹس ایپ کے سرورز پر محفوظ کیے جانے والے بیک اپ پہلے سے ہی محفوظ نظام کے تحت ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ بزنس میں یکم اگست سے ٹوکن بیسڈ بلنگ کا نفاذ
صارفین اپنے بیک اپ کو پاس کی، پاس ورڈ یا 64 ہندسوں پر مشتمل انکرپشن کی کے ذریعے محفوظ کر سکیں گے۔ واٹس ایپ کے مطابق ان بیک اپس تک صرف صارف ہی رسائی حاصل کر سکے گا، حتیٰ کہ واٹس ایپ یا اس کی مرکزی کمپنی میٹا بھی انہیں دیکھ نہیں سکے گی۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ ڈیٹا رکھنے والے صارفین کے لیے واٹس ایپ بامعاوضہ اسٹوریج منصوبوں پر بھی غور کر رہا ہے۔ ان میں ممکنہ طور پر 50 جی بی اسٹوریج تقریباً 99 سینٹ ماہانہ اور زیادہ گنجائش رکھنے والے صارفین کے لیے 1 ٹی بی منصوبہ شامل ہو سکتا ہے، تاہم ان منصوبوں میں تبدیلی ممکن ہے۔
فی الحال یہ فیچر صرف آئی فون کے لیے تیاری کے مرحلے میں ہے اور بیٹا صارفین کے لیے بھی دستیاب نہیں۔ واٹس ایپ اینڈرائیڈ صارفین کے لیے بھی اسی نوعیت کے نظام پر کام کر رہا ہے، جو گوگل ڈرائیو کا متبادل فراہم کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں : واٹس ایپ یوزرنیم: جعلسازی اور اہم شخصیات سے ملتے جلتے نام رکھے جانے کے خدشات بڑھ گئے
کمپنی نے ابھی تک اس سروس کے عوامی اجرا کے حوالے سے باضابطہ اعلان نہیں کیا۔












